مرتے دم تک
تحریر: ماہر جی
نویں قسط
فضل چچا :ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے ۔۔۔ بتانا نہیں کسی کو اور نہ ہی
کبھی یہ بات اپنی زبان پرلانا۔
ورنہ بہت برا ہو گا۔۔۔ اصل میں اِس میجر کےجرائیم پیشہ لوگوں
سےکافی تعلقات ہیں۔۔۔ بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ اسکا اپنا کوئی چھوٹا موٹاگینگ ہے
جس کا یہ لیڈر ہےاور یہ لوگ کچھ چرس اورڈرگس وغیرہ سپلائی کرتےہیں اور غنڈہ گردی
بھی۔۔۔
اشرف حیران ہو کر منہ کھولے کھڑا تھا۔۔۔صباء کی آنکھیں بھی حیرانی
سے پھیل چکی تھیں۔۔۔ وہ دونوں حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اپنے سامنے اس چھوٹی سی
گندی سی دکان کے کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے بڈھے ،کمزور سے جِسَم والے فضلوچچا کو دیکھ
رہے تھے۔۔۔گندا سا ڈریس پہنا ہوا تھااس نے بہت ہی کمزور جِسَم ، چھوٹی سی داڑھی ،
پتلاسا چہرہ۔۔۔جیسے کوئی چوسی ہوئی آم کی گٹھلی۔۔۔چہرے کی کھال بھی تھوڑی تھوڑی
لٹک رہی تھی۔۔۔ہاتھوں کی ہڈیاں صاف دِکھرہی تھیں۔۔۔سر کے بال سفید تھے۔۔۔بہت چھوٹی
چھوٹی۔۔۔ ایک گول عینک لگائی ہوئی تھی۔۔۔ چہرے پر چھوٹی سی داڑھی تھی۔۔۔ جوکہ صرف
اس کی چھن سے نیچے کو جا رہی تھی اور دونوں چیکس داڑھی کےبغیر تھے۔۔۔تقریباً چار
پانچ انچ لمبی ہوگی داڑھی اس کی پتلی سی۔۔۔لمبی سی۔۔۔سفید اور کچھ کچھ کالی۔۔۔
بالوں والی داڑھی جوکہ اُس کے پتلے سےچہرے سے مطابقت رکھتی تھی اور اس کی شکل کو
اوربھی عجیب بناتی تھی۔۔۔ جیسے پرانے
بچوں کی کہانیوں کا عمرو عیار۔۔۔ تھا تو یہ فضلو چچا بھی بہت
عیار اور چالاک۔۔۔
اشرف :تو چچا اسے پولیس پکڑتی کیوں نہیں ہے۔۔۔؟؟؟؟
فضلو :ارے اُس کے بہت اُوپر تک تعلقات ہیں۔۔۔ فوج میں تھا تب بھی
ایساہی کچھ کام کرتا تھا۔۔۔اس کا کورٹ مارشل بھی ہوالیکن کوئی بات ثابت نہیں ہوئی
اور سزا بھی نہ ہوسکی لیکن پِھر بھی فوج سےنکال دیا گیا بس۔۔۔ تب سے کھل کر کھیل
رہا ہے کسی ڈر کے بغیر ہی۔ صباء بہت ہی سہم گئی ہوئی تھی یہ سب سن کر بہت ڈرگئی
تھی۔۔۔ کیا اتنا خطرناک آدمی ہے یہ میجر۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور میں اتنی بار اُس
کےسامنے ننگی ہو چکی ہوں۔۔۔اس سے چُدوا چکی ہوں۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔۔ اب میں کیا کروں
گی۔۔۔ کیسے بچ سکتی ہوں اس سے۔ اتنے خطرناک بندے کے ہتھےچڑھ چکی ہوں اب پتہ نہیں
میرا کیا بنے گا۔۔۔اب کیسے میں فضلو چچا اوراشرف کو بتاؤں کہ اِس سب بدمعاشی اور
اپنے دھندوں کے علاوہ ایک ریپسٹ بھی ہے۔ جس نے اس کا بھی ریپ کیاہے۔۔۔ اف ف ف ف ف
ف۔۔۔ کیا کروں کیسے خود کو اوراپنی شادی اور اپنے شوہر کوبچاؤں اِس بدمعاش سے۔۔۔
فضلو :بس بیٹا خاموشی سے وقت پاس کرو اور اپنے کام سے کام
رکھو۔۔۔ویسے ایک بات اور بتاؤں تم کو یہ سب باتیں صرف باتیں ہی ہیں اس کے بارے
میں۔۔۔ کوئی بھی کبھی بھی اس کےبارے میں کنفرم نہیں بات کرسکتا۔۔۔ بس وہ جو کہتے
ہیں ناکہ جتنے منہ اتنی باتیں بس ایسا ہی ہے۔۔۔ اسی لیے ہر کوئی چُپ
رہتاہے۔۔۔دونوں وہیں کھڑے تھے کہ اچانک ہی بِلڈنگ سے میجرنکلا اور فضلو کی دکان کی
طرف بڑھا۔۔ اسے دیکھ کر اشرف اورفضلو دونوں ہی خاموش
ہوگئے۔۔۔ میجر دکان کے پاس آیا تواشرف اور صباء کو دیکھ کرسیٹی
ماری۔۔۔
میجر :ارے فضلو سگریٹ تو دینا۔۔۔
فضلو : آؤ آؤ میجر بابُو۔۔۔جتنے دِل آئے سگریٹ لو آپ کی اپنی دکان
ہے۔۔۔ کولڈ ڈرنک کھولوں کیاتمہارے لیے۔۔۔
اور فضلو کی دکان میں اندرچڑھتے ہوئے صباء کی طرف دیکھ کر اونچی
آواز میں گاناگانے لگا۔۔۔ چکنی چمبیلی۔۔۔چھپ کے اکیلی۔۔۔ پوا چڑھا کر آئی۔۔۔ ہاے ے
ے ے ے۔۔۔ کمسن کمریا سالی اک جھٹکےسے لاکھ مارے۔۔۔
بھوندی آواز میں اس کابیہودہ سا گانا صباء اوراشرف دونوں کو ہی بہت
برالگا۔۔۔صاف صاف نظر آرہا تھا کہ میجر یہ گانا صباء کے لیے گارہا ہے۔۔۔فضلو نے
بھی گانا سن لیا تھالیکن وہ بھی چُپ کر کے اپنےکام میں لگا رہا۔۔۔ اشرف کا چہرہ
غصے سےایکدم لال ہو گیا۔۔۔ لیکن صباء نے فوراً ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر دبا دیا اور وہ
چُپ کر کے ہاشو کے آنے کاانتظار کرنے لگے۔۔۔ فضلو نے ایک ٹھنڈی کولڈڈرنک کھول کر
میجر کو دی اور بولا۔۔۔
لو میجر بابُو ٹھنڈی ٹھنڈی بوتل پی کر من ٹھنڈا کرو۔۔۔
میجر :ارے فضلو تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ ہمارا من اِس ٹھنڈی بوتل سے
نہیں کسی گرم چیزسے ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔۔۔
یہ کہتے ہوئے میجر نے بڑی ہی گھنوونی مسکراہٹ کےساتھ صباء کی
طرف دیکھا ۔۔۔
صباء کو اس پر بہت غصہ آرہا تھا۔۔۔ کمینہ ہے پُورا۔۔۔ چلو جو
کچھ بھی ہوا۔۔۔ جو کچھ بھی اس نے کیامیرے ساتھ۔۔۔ لیکن ایسے سب کے سامنےاور وہ بھی
میرے شوہر کےسامنے تو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے نا۔۔۔ کتنا بازاری پن ہے اس کی
باتوں میں۔۔۔۔ ۔گھٹیا آدمی۔۔۔ آخر اپنی اوقات تو دکھاۓ گا ہی نا۔۔۔جیسے نیچ ہے ویسی ہی نیچ حرکتیں بھی کرے گا نا۔۔ ۔دِل تو
اس کا چاہ رہا تھا کہ اس کا شوہر اشرف اِس بدمعاش کو بری طرح سےپیٹے اور اس کو سبق
سکھائے لیکن اسے پتہ تھا کہ اس کا اشرف اس کا کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔ الٹا مار ہی کھا
لے گا۔۔ ۔ اِس لیے اس نے اسے روک دیاتھا۔۔۔ بلکہ بچا لیا تھا۔۔۔۔ وہ تو شکر ہوا کہ
ہاشو اُوپرسے دودھ کا پیکٹ لے آیا اوردونوں نے جلدی سے پیسےدیے اور بِلڈنگ کی طرف
بائیک بڑھا دی۔۔۔ دوبارہ پیچھے سے آواز آئی ۔۔۔یہ پردہ ہٹا دو۔۔۔ ذرا مکھڑا دکھا
دو و و و و و۔۔۔ ہم ہیں پیار کرنے والے۔۔۔ کوئی غیر تو نہیں ں ں ں ں۔۔۔ بڑی ہی
بھوندی آواز میں میجر گانا گا رہا تھا اور صباء کو تو اب اس پرغصہ آنے کی بجائے اس
سےایک بار پِھر سے خوف آرہاتھا۔۔ ۔صباء نے ایک بار پیچھے کومڑ کر اس کی طرف دیکھا
۔۔۔وہی چوڑا جِسَم۔۔۔ خطرناک سا چہرہ۔۔۔ اور چہرے پر گھینوونی سی مسکراہٹ۔۔۔ جیسے
ہی دونوں کی نظریں ٹکرائیں ایک لمحے کے لیے تو ۔۔۔میجر نے اپنے ہونٹوں کوسُکیڑ کر
صباء کو دور سےہی جیسے ایک کس کر لیا۔۔۔اِس کس کی اتنی آواز تو ضرور پیدا ہوئی تھی
جوکہ فضلو نے سن لی تھی۔۔۔ لیکن اس نے بھی اسے نظرانداز کر دیا۔۔۔ اشرف اور صباء
دونوں اپنی بِلڈنگ میں داخل ہوئے تو اندرکرسی پر بیٹھے ہوئے موٹےدینو نے فوراً سے
کھڑے ہو کرسلام کیا دونوں کو۔۔۔ صباء وہیں اُتَر گئی اوراشرف بائیک بِلڈنگ کی
بیسمنٹ میں بنی ہوئی پارکنگ میں لے گیا۔۔ ۔صباء وہیں کھڑی اشرف کےآنے کا انتظار
کرنے لگی۔۔۔ صباء نے اپنے نقاب میں سےجھانکتی ہوئی آنكھوں کےساتھ دینو کی طرف
دیکھا ایک ہٹا کٹا ،موٹے جِسَم کا شخص تھا۔۔۔ نیلے رنگ کے گارڈ کایونیفارم پہنے
ہوئے تھا۔۔۔جسکی پینٹ اُس کے موٹےپیٹ سے پھسلتی جا رہی تھی۔۔۔ اس کی پوری کی پوری
تووند بیلٹ سے باہر تھی۔۔ ۔چہرے پر بڑی بڑی موچیں ،کالے لمبے بال ،گول مٹول چہرہ
،بالکل کالا سیاہ رنگ ،ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو ،موٹی ناک اور بالکل کالی نظرآتی
ہوئی گردن۔۔۔شرٹ کے کھلے ہوئے گریبان سے سینے کے بال صاف نظر آرہے تھے۔۔۔ بہت ہی
بدصورت سا بندہ تھا جس کی آنکھیں ہر وقت لال سرخ رہتی تھیں ،جب بھی اُس کے پاس
سےگزرتے تو سگریٹ پی رہا ہوتا اور عجیب سی سمیل آ رہی ہوتی تھی اُس کے پاس سے۔۔۔
اس شخص کے چہرے پر سےعجیب بیوقوفی سی ٹپکتی رہتی تھی ،پینڈو سا لگتا تھا
دیکھنےمیں۔۔۔ صباء نے اسے دیکھا اورسوچنے لگی۔۔۔ کتنا طاقتور اور ہٹا کٹا آدمی ہے
لیکن کتنا بیوقوف ہے یہ دینو بھی۔۔۔ یا پِھر بھولا ہے۔۔۔اِس بیچارے کو پتہ بھی
نہیں ہے اور اس کی بِیوِی اس بدمعاش میجر کی رکھیل بنی ہوئی ہے۔۔۔ کیسے بے شرمی سے
اس سےچدوانے جاتی ہے ،اِس کو پتہ چلے تو مار ہی ڈالے اس کمینے کو۔۔۔ پِھر اسے بانو
کا خیال آیا۔۔ وہ بھی بےچاری کیا کرے کہ وہ اتنی جوان ہے اور اِس موٹے بدصورت سانڈ
کے پلےپڑی ہوئی ہے۔۔۔ اسی لیے شاید وہ اس میجرکے ساتھ منہ کالا کر رہی ہے ۔۔۔ لیکن
جو بھی ہو چاہے وہ کتنا بھی گندا ،موٹا اور بدصورت ہے لیکن پِھر بھی ہے تو اس کا
شوہرہی نا۔۔۔ ایسے اسے چھوڑ کر دوسرےمرد کے پیچھے تو نہیں لگناچاہیے نا۔۔۔ دوسرے
ہی لمحے اس کی نظر اشرف پر آ گئی جوبیسمنٹ سے اس کی طرف آرہا تھا۔۔۔ اپنے ہی
خیالوں میں گم ،تو صباء کو فوراً سےشرمندگی کا احساس ہوا ،میں بھی تو یہی کر رہی
ہوں نا۔۔۔اپنے پیارے شوہر کو بیوقوف بنا رہی ہوں ،اس سے بےوفائی کر رہی ہوں،اس کی
غیر موجودگی میں اس غیر آدمی سے چودواتی ہوں ،اپنے اتنے خوبصورت شوہر کوچھوڑ کر اس
کمینے کے ساتھ اپنا منہ کالا کر رہی ہوں۔۔ ۔کتنی بار اپنا جِسَم میں اس بدمعاش کو
سونپ چکی ہوں۔۔۔مجھ میں اور اس کمینی بانو میں کیا فرق رہ گیا ہے۔۔۔ نہیں میں بھلا
کیسے اس بانوکے جیسی ہو سکتی ہوں ،مجھے تو اس نے پھنسایا ہواہے ،ٹریپ کیا ہوا ہے
،بلیک میل کرتا ہے اور وہ تو صرف اور صرف اپنے مزے کے لیے کر رہی ہے ،ٹھیک ہے کہ
اس کا شوہر بہت بدصورت اورکالا ہے میجر کے مقابلے میں لیکن پِھر بھی بانو کو یہ
تونہیں کرنا چاہے نہ اپنے شوہرکی وفادار رہنا چاہیے ،کسی رنڈی کی طرح سے ادھر
اُدھر منہ مارتی پھرتی ہے ،ابھی اور پتہ نہیں کس کس سے اپنی پھدی چُدواتی پھرتی
ہوگی۔ ویسے ہو سکتا ہے کہ اس بےچاری کو بھی اس کمینے نے ایسے ہی کسی طریقے سے
پھنسایا ہو۔۔۔ لیکن وہ اُس کے پاس جاناچھوڑ بھی تو سکتی ہے نا۔ ۔۔ اس کمینی کو بھی
تو مزہ آتاہوگا نااس سے چُدوا کر۔۔ ۔چودتا بھی تو کمینہ اتنے اچھے سے ہے کہ کوئی
بھی عورت بے بس ہو جائے اُسکے آگے۔۔ میں بھی تو ایسے ہی بے بس ہو جاتی ہوں نہ
اُسکے سامنے۔۔ذلیل سے ڈر بھی لگتا ہے۔
کچھ تو کرنا ہی پڑے گا خودکو بچانے کے لیے۔۔ ۔کیسے اپنے آپ کو اُس
کےچنگل سے چھڑاؤں؟ بس یہی حَل ہے کہ خاموشی سے اس کی بات مانی جائےجب تک اس سے
بدلہ لینے کاموقع نہیں ملتا اور جان نہیں چھوٹ جاتی تب تک۔ یہی سوچتے ہوئے دونوں
اپنےفلیٹ میں آ گئے۔
اشرف بولا ؛ یار یہ کمینہ تو بہت ہی خطرناک آدمی ہے۔۔۔
صباء :ہاں اسی لیے تو میں کہتی ہوں کہ بس خاموش رہناچاہیے اور اِس
کا سامنا ہی نہ کریں۔۔۔
اشرف :کہتی تو تم ٹھیک ہو ،جتنی جلدی ہو میں کوئی اور فلیٹ دیکھتا
ہوں تاکہ یہاں سے نکل سکیں لیکن کوئی اور جگہ بھی تو اتنی آسانی سے نہیں ملتی نا۔۔
۔
صباء :کوئی بات نہیں آرام سے کرو تلاش اتنا بھی کوئی اندھیرنہیں
مچا ہوا کہ ہمیں ایسےہی کچھ کہے گا بنا کسی بات کے۔۔۔
دونوں کے دِل و دماغ پرابھی بھی میجر کا خوف چھایا ہوا تھا۔۔۔
دونوں ہی اس سے خوفزدہ تھے صباء کو یہ بھی خوف تھاکہ اسے میجر کو ابھی اوربھی
برداشت کرنا پڑے گا۔۔۔اس کی زیادتی کو بھی۔۔۔ اُس کے ریپ کو بھی اور اس کی زبردستی
کی۔۔۔زبردست چُدائی کو بھی۔۔۔ رات کو دونوں سونے کےلیے لیٹے تو پِھر سے صباء
کومیجر کا خیال آیا کہ کہیں رات کو نا آجائے۔۔۔ نہیں وہ نہیں آئے گا۔۔ لیکن اس نے
تو مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں کل خود اُس کے پاس آؤں گی نہیں نہیں میں اب اُس
کےپاس نہیں جاؤں گی۔۔۔ بہت خطرناک آدمی ہے۔۔۔ بدمعاش ہے۔۔۔ خطرناک بدمعاش اور غنڈہ
ہے اسی لیے تو جانا پڑے گا نا۔۔۔ اف ف ف ف ف ف۔۔۔ کیا کروں میں۔۔۔ بری طرح سے پھنس
چکی ہوں۔۔۔ صباء خوف کے مارے اشرف سے لپٹ گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ پتہ
نہیں کتنی دیر کے بَعْداس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح آنکھ کھلی تو صباء نےشکر کیا کہ رات
خیر خیریت سے گزر گئی ہے اور کوئی انہونی نہیں ہوئی کل تک میجر کے جانے کے بَعْدسے
اُس کے جو جذبات میجرکے لیے ہو رہے تھے وہ اب دم توڑتے جا رہے تھے اور کبھی پِھر
سے اس کو گرم کرنےلگتے۔۔۔ کبھی اس کو اس میجر سےخوف آنے لگتا اور کبھی وہ پِھر سے
اسی کے سپنےدیکھنے لگتی۔۔۔ اسے یقین تھا کہ آج بھی کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔۔ ۔پچھلے
دو دن سے میجر کوپُورا موقع نہیں مل سکا تو آج وہ ضرور آئے گا۔۔۔یا مجھے بلائے
گا۔۔۔ اسے موقع نہیں ملا تو مجھےبھی تو دونوں دن پیاساچھوڑا ہے نا۔۔۔ پتہ نہیں کیا
چیز ہے یہ ظالم۔۔۔ کیسی آگ لگاتا ہے یہ جِسَم میں کہ بس۔۔۔کیا کروں میں۔۔۔ اگر
اشرف رہ جائے آج گھر پرتو۔۔۔ تو۔۔۔ شاید میں بچ سکوں۔۔۔ جب اشرف تیار ہو کرفیکٹری
کے لیے نکلنے لگا توایک بار تو صباء نے کہہ دیا ۔۔۔
صباء :اشرف کیا تم آج بھی چھٹی نہیں کر سکتے ؟ ؟ ؟
اشرف :نہیں یار اب اگر آج چھٹی کی تو سیلری کٹ جائے گی اِس لیے جانا
ہی پڑے گا۔۔۔
لیکن ایسا کیوں کہہ رہی ہو ۔۔۔ کیا اس میجر سے ڈر رہی ہو۔۔۔صباء
چُپ رہی۔۔۔ اسے کیا بتاتی۔۔۔ یہ میجر کا خوف ہے یا اپنےہی جِسَم کی بے قابو ہو
جانےوالی پیاس کا ڈر۔۔۔ وہی پیاس جسے تم خود توبجھا نہیں سکتے ٹھیک سے ۔۔۔ اشرف
اسے اپنی بانہوں میں سمیٹتے ہوئے بولا۔۔۔ ارے کوئی ڈرنے کی بات نہیں ہے۔۔۔ کچھ
نہیں کہہ سکتا وہ میجر تم کو۔۔ ۔
صباء اپنا سر اشرف کے سینے پر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔
پتہ نہیں کیوں مجھے اس سے بہت زیادہ خوف آنے لگاہے۔۔۔ مجھے لگتا ہے
کہ میں تم سےبہت دور ہو رہی ہوں۔۔۔
صباء اشرف کے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھی اور اُس کےسینے کو ویسا ہی
فیل کرناچاہ رہی تھی جیسا کہ میجرکے سینے پر ہاتھ پھیر کراسے فیل ہوا تھا لیکن
ایسی فیلنگ اسے نہیں آئی۔۔۔لیکن فوراً ہی اِس خیال کواس نے اپنے دماغ سے جھٹک
دیا۔۔۔ اُف کیا کیا سوچنے لگتی ہوں میں بنا کسی بات کے ہی۔۔ ۔ اشرف فیکٹری چلا گیا
توصباء اپنے کام میں لگ گئی خود کو مصروف رکھنے کیلئے۔ بارہ بجے کے قریب صباءكھانا
وغیرہ بنا کر فارغ ہوئی اور پِھر اپنے بیڈروم میں بیٹھ کر چائے پینے لگی۔۔۔ اچانک
ہی اس کا فون بج اٹھا۔۔۔ جس سے صباء اچھل پڑی۔۔۔ موبائل اٹھایا تو خوف سے آنکھیں
پھیل گیں۔۔۔ ہاتھ کانپنے لگے۔۔۔ دِل بیٹھنے لگا۔۔۔ منہ خشک ہونے لگا۔۔ ہاں میجر کی
ہی کال تھی۔۔۔ اس کا نمبر صباء کے موبائل پر بلانک کر رہا تھا۔۔۔صباء کی انگلیوں
میں جیسےجان ہی نہیں تھی کہ وہ کال کو اکسیپٹ یا ریجکٹ کرپائے۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں
آرہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔ جیسے جیسے موبائل بجتا جارہا تھا ویسے ویسے ہی صباءکی حالت
خراب ہوتی جارہی تھی۔۔۔ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اُسکے دیر کرنے سے میجر کوغصہ بھی
آرہا ہوگا تبھی خود ہی کال بند ہوگئی۔۔۔ لیکن ٹھیک ایک منٹ کے بَعْددوبارہ سے
موبائل بج اٹھا۔۔۔ اب تو کال اٹینڈ کرنے کے سواکوئی اور راستہ نہیں تھا۔۔ ۔ آخر
ہمت کر کے گرین بٹن دباہی دیا اور گرین بٹن دباتے ہی اُسکے کانوں میں گالیوں
کاطوفان پھٹ پڑا۔۔۔
میجر :ارے کتیا۔۔۔رنڈی۔۔۔ بہن کی لوڑی۔۔۔ حرامزادی۔۔۔ کمینی عورت
کب سے فون کر رہا ہوں اور تو اٹھا نہیں رہی۔۔۔کس بھڑوے سےچوت مروا رہی تھی تیراوہ
خاصم تو صبح کا دفعہ ہوچکا ہوا ہے۔۔ سالی کتنی بار بکواس کی ہے میں نے کہ میرا فون
پہلی گھنٹی بجے تو اٹھایا کر صباء :گھبرائی ہوئی سی۔۔۔ سہمی ہوئی سی۔۔۔ و و و و
وہ۔۔۔ میں ں ں ں ں ں ں۔۔ٹوائلٹ میں تھی۔۔۔ تو۔۔۔ تو و و اِس لئے ے ے ے۔۔ ۔ پتہ
نہیں چلا۔۔۔
میجر :بہن چود مجھے اُلو سمجھتی ہے کیا۔۔۔ پیشاب کرنے گئی ہوئی تھی
کہ پھدی میں انگلی کر رہی تھی۔۔ ۔ جو اتنی دیر کر دی۔۔۔ سالی تیرے سے جتنا بھی میں
شریف بن کر پیش آؤں نا تو تو اتنی ہی رنڈی بن کے دکھاتی ہے۔۔۔ اتنی ہی نخرے کرتی
ہے۔۔۔بہن کی لوڑی ابھی آ کر تیراموبائل تیری گانڈ میں دیتا ہوں۔۔۔ پِھر دیکھوں گا
کیسے نہیں پتہ چلتا تجھے موبائل بجنےکا۔ میجر :چل اب جلدی سے آجا میرےفلیٹ پر اور
اگر دیر کی نہ توباہر برآمدے میں ہی تجھے ننگا کر کے چودوں گا ۔۔۔ کتی نا ہو تو
تجھے عزت راس ہی نہیں ہے۔۔۔ جلدی آ دس منٹ کے اندر اور ہاں بالکونی کا دروازہ بھی
کھلا ہے اور مین دوڑبھی جدھر سے آنا ہے آجالیکن جلدی۔۔۔ سن لیا نا اور ہاں تھوڑا
ڈھنگ سے آنا ۔۔۔ اپنی چودی ہوئی رونی صورت لے کر نہ آ جانا میرے پاس۔ فون بند ہو
گیا۔۔۔ صباء اتنی بھی ہمت نہ کرپائی کے وہ میجر کو انکار کرسکے۔۔۔ فضلو چچا کی کہی
ہوئی باتیں اُس کے کانوں میں دوبارہ سے گونجنے لگیں۔۔ ۔ اسے پتہ تھا کہ وہ انکار
نہیں کر سکتی میجر کو۔۔۔ جیسا اس نے کہا ہے ویساکرنا ہی پڑے گا۔۔۔ اُس کے پاس جانا
ہی پڑے گا۔۔۔ اس کی آنكھوں میں آنسو آگئے۔۔۔ کمینہ کوئی موقع جانے نہیں دیتا ذلیل
کرنے کا۔۔۔ ہر وقت گالیاں دیتا ہے مجھے۔۔۔میں کیا کوئی رنڈی۔۔۔ کال گرل ہوں جو یوں
کال کر کے آرڈر دے رہا ہے کہ تیارہو کر اُس کے فلیٹ پر آجاؤں۔۔۔ صباء باتھ روم کی
طرف بڑھتے ہوئے سوچنے لگی جو کچھ وہ سوچ رہی تھی کر وہ اُس کے خلاف ہی رہی تھی۔۔۔
خود سے ہی جا کر باتھ روم میں فیس واش لگا کراپنا گورا گورا چکناچہرہ دھونے لگی۔۔
۔دو بار فیس واش لگایا اورجیسے چہرہ کھل سا اٹھا۔۔۔ اب مجھے کیوں بلاتا ہے۔۔ ۔ پتہ
نہیں کیوں میری زندگی تباہ کرنے کے پیچھے لگا ہوا ہے آخر کب تک میں اُس کےہاتھوں
اپنی عزت لٹواتی رہوں گی۔۔۔ آخر کب تک وہ مجھے ایسےچودتا رہے گا۔۔۔کب جان چھوڑے گا
میری۔۔۔ صباء ٹاول سے چہرہ صاف کرتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی۔۔۔ یہی سوچتے ہوئے کپڑوں
کی الماری کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ کیا پہنوں اب میں اس کمینےکے لیے۔۔۔ خود سے ہی ایک
لائٹ بلو کلرکا شلوار قمیض نکالا اور اسےپہننے لگی۔۔ نیچے سے برا بھی اس نےتبدیل
کر لیا تھا۔۔۔ بلو کلر کی ہی برا تھی۔۔ ۔دوتٹڈ۔۔۔ کپڑے پہن کر خود کو دیکھاتو
ٹائیٹ فٹنگ سوٹ میں اس کا بدن کھلا جا رہا تھا۔۔۔ممے تھے کہ لگتا تھا بس ابھی کے
ابھی قمیض کوپھاڑ کر باہر نکل آئیں گے۔۔ ۔ قمیض کا گلا بڑا نہیں تھالیکن پِھر بھی
قمیض ٹائیٹ ہونے کی وجہ سے بہت تھوڑا سا لیکن بہت ہی سیکسی ساکلیویج بن رہا تھا۔۔۔
آخری بٹن تک بند کر چکی ہوئی تھی قمیض کا لیکن مموں کی درمیانی مانگ تو پِھر بھی
دِکھ رہی تھی۔۔۔ممے تو لگتا تھا کہ جیسےقمیض کے بٹن ہی توڑ دیں گے۔۔۔ پِھر صباء
بالوں میں برش کرنے لگی۔۔۔تاکہ جلدی سے تیار ہو کر اس کی دوبارہ کال آنے سے
پہلےپہنچ جائے اُس کے پاس۔۔ ۔ورنہ اس کا پِھر سے برا حشرکرے گا گالیاں دے کر
اورشاید مار کر بھی۔۔۔ابھی صباء بالوں میں برش کر ہی رہی تھی کہ اُس کےفلیٹ کی بیل
بج اٹھی۔۔۔ صباء ایکدم سے ڈر گئی۔۔ اوہ نو و و و۔۔۔ اتنی دیر تو نہیں ہوئی مجھےکہ
خود ہی آ جائے ادھر۔۔۔ لیکن اسے کون روک سکتا ہے۔۔۔ کرتا تو وہی کچھ ہے نہ جواس کا
دِل کرتا ہے۔۔۔ اب جلدی سے کھول دوں دروازہ کہیں پِھر نہ غصہ ہوجائے۔۔۔ صباء
دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔ لیکن اُس کے پاس تو چابی بھی ہے دروازے کی۔۔ پتہ نہیں کیوں
نہیں کھولااس سے۔۔ جو بھی ہو میں تو کھولوں جلدی۔۔۔
صباء نے جلدی سے دھڑکتےہوئے دِل اور چہرے پر خوف کے ایکسپریشنز لیے
ہوئے دروازہ جا کر کھولا تو چونک پڑی۔۔۔ سامنے منصور صاحب کی بیٹی فرح کھڑی تھی۔۔۔
اس نے مسکرا کر صباء کی طرف دیکھا اور سلام کر کےسیدھی اندر آگئی۔۔۔ صباء نے باہر
جھانکا اور ڈرتےڈرتے ایک نظر اپنے ساتھ والےمیجر کے فلیٹ کے دروازےپر ڈالی اور
واپس فلیٹ میں آگئی۔۔۔ یہ کس وقت میں آگئی ہے۔۔۔اب اس کا کیا کروں۔۔۔ وہ تو پاگل
ہو رہا ہو گا۔۔۔ آج تو جان سے ہی مار دے گامجھے۔۔۔ جتنی میں جلدی کی کوشش کر رہی
تھی اتنی ہی دیر ہورہی ہے۔۔۔ پتہ نہیں ایسی کیا بات ہے کہ جتنا میں اس کا سامنا
نہیں کرنا چاہتی ،جتنا اسے میں ناراض نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ جتنا اسے میں غصہ نہیں
دلانا چاہتی اتنا ہی سب کچھ اُلٹ ہو جاتا ہے۔۔۔اف ف ف ف ف ف۔۔۔ پتہ نہیں اب کیا ہو
گا۔۔۔
فرح :ارے آپی آپ کیا کہیں جا رہی تھیں تیار ہو کر۔۔۔
صباء اِس سوال پر گھبرا گئی ؛ نہیں نہیں۔۔۔کہیں بھی نہیں۔۔۔ وہ تو
بس ایسے ہی۔۔۔
فرح ؛ صباء کو چھیڑتے ہوئے ۔۔۔ واہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ اچھا ا ا ا۔۔۔ جی ی
ی ی ی ی۔۔۔ جیجو جی کے لیے تیار ہورہی ہیں۔۔۔
فرح کی بات سن کر صباءشرما گئی۔۔۔ اب اسے کیا جواب دیتی کہ یہ تو
اُس کےدوسرے جیجو کے لیے تیار ہورہی تھی۔۔۔
فرح :آئیں آپی میں آپ کو تیار کردیتی ہوں اچھا سا میک اپ کر دوں گی
آپ کا۔۔۔ایسا کروں گی کہ جیجو بس دیکھتے ہی رہ جائیں گے آپ کو۔۔۔
صباء نہیں نہیں کرتی رہی لیکن فرح نے اسے لے جا کرڈریسنگ ٹیبل کے
سامنےبیٹھا دیا اور اس کا میک اپ کرنے لگی۔۔۔ صباء کی نظر بار بار اپنےہاتھ میں
پکڑے ہوئے موبائل پر جا رہی تھی۔۔۔جس پر وہ ٹائم بھی دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی
کیسے میجر کو بتاۓ گی کہ اسے کیوں دیر ہو رہی ہے۔۔
۔ فرح صباء کے چہرے پر ہلکی ہلکی بیس لگا رہی تھی کہ صباء کے ہاتھ میں پکڑا ہوا
موبائل بج اٹھا۔۔۔ اس کی تیز آواز سن کر صباءکو ایسے لگا جیسے فون کی بیل سے ہی
میجر کے غصے کاپتہ چل رہا ہو۔۔۔ صباء نے کال کٹ کر دی اور پِھر جلدی سے ایک میسیج
لکھنے لگی۔۔ ۔
صباء :سوری۔۔۔ میں نہیں آ سکتی۔۔ ۔منصور صاحب کی بیٹی فرح آئی ہوئی
ہے۔۔۔
پلیز آپ کال نہ کیجئے گا۔۔ ۔
صباء نے میسیج سینڈ کر دیا۔۔۔ چند لمحوں کے بَعْد ہی میجرکا میسیج
آیا۔۔۔
میجر :تو نہیں آ رہی تو میں خودآجاتا ہوں۔۔۔ آ کر تجھے بھی چود دوں
گا اور اس سالی فرح کو بھی بڑی پٹاخہ چیز ہے سالی۔۔۔
صباء کو پتہ نہیں کیوں تھوڑی سی جیلسی فیل ہونےلگی۔۔۔ اس نے دوبارہ
میسیج کر دیا۔۔۔یہ کمینہ تو ہےہی گھٹیا آدمی ہر کسی کےپیچھے لگ جاتا ہے۔۔۔ کمینے
کو اتنا بھی خیال نہیں ہے کہ تین گنا چھوٹی ہے اِس سے فرح بےچاری اور اس پربھی
اپنی گندی نظر رکھےہوئے ہے۔۔۔ ہوں تو میں بھی اس سےآدھی عمر کی مجھ پر کون سا اس
نے رحم کھایا ہے۔۔ ۔کیسے ذلیل کر کے رکھا ہوا ہے۔۔۔ کتنی بار میرا ریپ کر چکا
ہے۔۔۔ کتنی بار مجھے ننگا کر کےذلیل کر چکا ہے اور ایک میں ہوں کہ پتہ نہیں کیوں
اور کیسے جب بھی اُس کے ہاتھ لگتے ہیں توبے بس ہو جاتی ہوں۔۔۔ بہکنے لگتی ہوں۔۔۔
اُس کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتی ہوں۔۔۔ جیسے وہ چاہتا ہے ویسے ہی کرنے لگتی
ہوں۔۔۔ میرا اپنا ہی جِسَم میراہی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔۔۔ پگھلنے لگتا ہے اُس
کےہاتھوں میں۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ہے ایسا۔۔۔۔
صباء :نہیں پلیز آپ یہاں نہ آئیں۔۔۔جیسے ہی وہ جائے گی میں آجاتی
ہوں۔۔۔ اگر آپ کہتے ہیں تو۔۔۔
میجر کا رپلائے آیا۔۔۔
میجر :ہاں ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن جلدی آنا۔۔۔ ورنہ تجھے پتہ ہی ہے نا۔۔ ۔
اب صباء نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔۔ ۔ جواب دیتی بھی کیا۔۔۔ پتہ
تو تھا اسے سب اس کی کمینگی کا اور یہ بھی پتہ تھا کہ وہ کیاکچھ کر سکتا ہے۔۔۔
تھوڑی دیر تک فرح صباء کےچہرے پر محنت کرتی رہی اور اس کا اچھا سا میک اپ کرتی
رہی۔۔۔
فرح :آپی لگتا ہے آپ کے سجن کےمیسیج آ رہے ہیں۔۔۔
صباء تھوڑا گھبرا گئی پِھر سنبھلتے ہوئے بولی۔۔ ۔
ہاں ہاں ان کے ہی ہیں۔۔۔
اس کا میک اپ کرتے ہوئے فرح گنگنانے لگی۔۔۔
فرح :سجنا ہے مجھے ،سجنا كے لیے،ذرا الجھی لٹیں سنوار لوں،ہر انگ
کا رنگ نکھار لوں، سجنا ہے مجھے،سجنا كے لیے۔۔۔
فرح یہ گانا جان بوجھ کرصباء کو چھیڑنے کے لیے گارہی تھی تاکہ اسے
اور بھی اپنے شوہرکی یاد آئے لیکن صباء سوچ رہی تھی کہ اِس کو کیا پتہ کہ جس
سجناکے لیے میں بن سنور رہی ہوں اور سج رہی ہوں وہ میرا شوہر نہیں بلکہ میرےشوہر
کا دشمن ہے۔۔۔میجر صاحب۔۔۔ جس کے پاس اسے سج سنور کر جانا پڑ رہا ہے۔۔۔ جو کچھ ہی
دیر کے بَعْد اُس کے جِسَم کو پوری طرح سے ننگا کر دے گا۔۔۔ پِھر اپنی مرضی سے
اپنا دِل بھر کے چودے گا۔۔۔ہر طریقے سے۔۔۔ بنا میرا کچھ بھی خیال کیےہوئے اور میرا
اپنا جِسَم بھی مدھوش ہو جائے گا۔۔۔ہمیشہ کی طرح تڑپنے لگے گااُس کے سخت اور مظبوط
جِسَم کے لیے۔۔۔ پھدی مچلنے لگے گی اُس کےاس موٹے لن کے لیے۔ اف ف ف ف ف ف۔۔۔کیا
کروں۔۔۔ کیسے روکوں خود کو۔۔۔ جیسے ہی اسے میجر کی یادآنے لگی اور اُس کے ساتھ ہی
فرح کا گانا سنتے ہوئے صباءنے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔اُس کے دِل میں کچھ ہونےلگا
تھا۔۔۔ جِسَم میں کچھ ہونے لگا تھا۔۔۔دِل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی صرف اور صرف فرح
کے گانے کی وجہ سے جس نےمیجر کو ایک بار پِھر اس کی بند آنكھوں کے سامنے لا
کھڑاکیا تھا۔۔۔ کیا مجھے سچ میں اس میجر کے لیے تیار کیا جا رہاہے۔۔۔ میرا تو ایسا
کوئی اِرادَہ نہیں تھا۔۔۔ یہ تو بس ایسے ہی اچانک سے ہوگیا ہے سب کچھ کہ فرح آ گئی
اور مجھے تیار کرنے لگی۔۔۔ انجانے میں میجر کے لیے۔۔۔ اب یہ اس کی قسمت۔۔ ۔فرح کے
ہونٹوں سے نکلنےوالے اگلے جملوں نے تو جیسےجلتی پر تیل کا کام کیا۔۔ اُس کے تن بدن
میں آگ ہی تو لگا دی فرح :پانی پڑے تن پہ تو شعلہ نکلےجانے کیسی آگ میں بدن جلے،دن
بھر کی تھکن اُتار لوں ہر انگ کا رنگ نکھار لوں ،سجنا ہے مجھے۔سجنا كے لیے۔۔۔
ان جملوں نے تو جیسے اُسکے جِسَم میں آگ ہی لگا دی ۔۔۔ اس کی پھدی
سلگ اٹھی۔۔۔ چوت کے گرم گرم پانی سے ۔۔۔ گیلی ہونے لگی۔۔۔ گرم ہونے لگی۔۔۔ آنکھیں
بند تھیں۔۔۔ اسے فیل ہونے لگا کہ جیسےمیجر اس کی چوت کو چھورہا ہو۔۔۔ صباء تڑپ
اٹھی۔۔۔ انگ انگ ہی تو نکھر رہا تھااس کا میجر کے لیے۔۔۔ اس بیہودہ کے لیے۔۔۔ اور
پِھر کچھ ہی دیر میں اُس کے انگ انگ کو توڑ کررکھ دینا تھا اس کمینے نے۔۔۔ اتنے
میں فرح نے اپنا کام مکمل کر لیا اوربولی۔۔
آپی آج تو آپ کی خیر نہیں۔۔۔ جیجو آج آپ کونہیں چھوڑیں گے۔۔۔
فرح نے ہنستے ہوئے کہا اورصباء شرما گئی۔۔۔اور خود کو آئینے میں
دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔۔۔ سچ میں۔۔۔ جتنی خوبصورت میں لگ رہی ہوں۔۔۔ میجر کہاں آج
چھوڑے گامجھے۔۔۔توڑ کر رکھ دے گا میرا بدن۔۔۔ پِھر اچانک سے دِل سےآواز نکلی۔۔۔ نہ
ہی چھوڑے تو اچھا ہے۔۔۔ پہلے بھی تو اتنی بار بنا کچھ کیے پیاسا ہی چھوڑ گیا
ہےمجھے۔۔۔کمینہ انسان۔۔۔ چند منٹ اور بیٹھ کر فرح اپنے گھر چلی گئی۔۔۔ صباء خود کو
آئینے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔فرح نے کمال کا میک اپ کیاتھا۔۔۔اس کا چہرہ کھل اٹھا
تھا۔۔۔سرخ رنگ کی لپسٹک سےاُس کے لپس چمک رہے تھے۔ دیکھنے میں ایسا لگتا تھاجیسے
کہ پتہ نہیں کتنے پیاسے ہوں اور دیکھنے والے کو خودکو چوسنے کی دعوت دےرہے ہوں۔۔۔
آنكھوں میں کاجل لگایا تھاجس سے اس کی آنکھیں اوربھی نشیلی اور پیاری ہو گئی
تھیں۔۔۔ ہلکا ہلکا گلابی رنگ گورے گالوں پر چھلک رہا تھا۔۔۔ کیا یہ سب کچھ میجر
کےلیے ہے۔۔۔؟؟آج تو پاگل ہی ہو جائے گا۔۔۔میرے حَسِین روپ کا یہ اندازدیکھ کر۔ فرح
کے جانے کے بَعْد ایک بارپِھر صباء کو انہی خیالوں نےگھیر لیا کہ وہ میجر کے پاس
جائے یا نہ جائے۔۔۔اسے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔ میجر سے بھی اور اپنی بِلڈنگ کے دوسرے
لوگوں سےبھی۔ اگر کسی نے مجھے دیکھ لیاتو۔۔۔ اور پِھر کیوں بار بار جاؤں میں اُس
کے پاس۔۔۔ ابھی وہ اسی سوچ میں ہی تھی کہ باہر کے دروازے میں چابی کے گھومنے کی
آوازآئی۔۔۔صباء چونک کر باہر کے گیٹ کو دیکھنے لگی اور اگلے ہی لمحے گیٹ کھلا اور
صباء اندر داخل ہونےوالے کو دیکھ کر گھبرا گئی۔۔۔
صباء :او نو و و و و۔۔۔
صباء کے منہ سے نکل گیاکیونکہ وہ اُس کے اتنی جلدی آنے کی امید
نہیں کر رہی تھی جو گیٹ سے اندر داخل ہو چکا تھا۔۔۔صباء گھبرائی ہوئی آواز میں
بولی۔۔۔
آ آ آ آ پ پ پ۔۔۔؟؟
میجر صباء کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔۔۔ ہاں میں نے سوچا کہ میں
خود ہی آجاتا ہوں تیرے پاس تو خود تو دیر ہی کیے جارہی ہے پتہ نہیں تو مجھےکیا
چوتیا سمجھتی ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ مان کرہی نہیں دیتی۔۔۔ایزی ہی لے لیتی ہے
مجھے تو۔۔۔
صباء :ڈر کر کانپتے ہوئے ۔۔۔ نہیں نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔وہ۔۔۔
وہ میں آ رہی تھی۔۔ بس۔۔۔ لیکن آپ۔۔ ۔ آپ۔۔۔ کسی نے آپ کو دیکھ لیا ہواآتے تو۔۔۔؟
؟ ؟
میجر صباء کے قریب آیا اوربولا ؛ فکر نہ کر تو کسی نےنہیں دیکھا
مجھےاور اگر دیکھ بھی لیا ہوا نہ تو۔۔ میرا کیا کر لے گا سالا۔۔۔۔ تو مجھ سے ابھی
واقف نہیں ہے۔۔۔
صباء دِل میں سوچنے لگی۔۔۔واقف تو بہت اچھے سےہوگئی ہوں میں تمہارے
بارے میں فضلو چچا سے سن کر۔۔۔ بدمعاش غنڈہ ہے تو۔۔۔ پِھر میجر نے صباء کی ٹھوڑی
کے نیچے اپنی انگلی رکھی اور اُس کے چہرے کوتھوڑا اُوپر کر کے اس کی آنكھوں میں
دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
میجر :بڑی مست چیز ہے تو سالی۔۔۔ میک اپ کے ساتھ تو اور بھی قیامت
ہوگئی ہے تو۔۔۔ صباء کو اس غنڈے کے منہ سے اپنی تعریف اچھی لگی۔۔۔یا بری۔۔۔ وہ کچھ
فیصلہ نہیں کرسکی لیکن اس کا دِل ضرور دھڑک اٹھا تھا۔۔۔ ہمیشہ جو وہ اسے گالیاں
نکلتا رہتا تھا اسےذلیل کر کے خوش ہوتا تھا آج اُس کے منہ سے۔۔۔گندے منہ سے اپنی
تعریف سن کر اسے شاید تھوڑی خوشی ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن یہ خوف بھی کھائےجارہا تھا کہ
وہ آج پِھر اُس کےفلیٹ میں گُھس آیا ہے اور آج پِھر اس کی عزت کوتار تار کر دے
گا۔۔۔ چود دے گا اسے۔۔۔ یا پتہ نہیں پِھر سے وہی آگ جِسَم میں لگا کر چلا جائے
گا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

0 تبصرے
THANKS DEAR