مرتے دم تک
تحریر: ماہر جی
دسویں قسط
اسے
پیاسا چھوڑ کر۔۔۔اپنی انگلی سے اُس کے چہرے کو اُوپر اٹھائے ہوئے ہی میجر نے اپنے
ہونٹ آگے بڑھائے اور صباء کے پتلےپتلے لپسٹک سے چمکتے ہوئے ہونٹوں پر اپنے بے حد
موٹےہونٹ رکھ دیے اور اسے چوم لیا۔۔۔ صباء نے تھوڑا سا اپنا منہ پیچھے ہٹانا چاہا
تو اِس باراچانک سے اس کے منہ کواپنی سخت گرفت میں لے لیا میجر نے اور وہ پیچھے کو
نہ ہل سکی۔۔۔ اُس کے ہونٹ میجرکے سامنے ساکت ہوگئے۔۔۔ میجر نے اپنی زبان باہر
نکالی اور صباء کے سرخ ہونٹوں کواپنی زبان کی نوک سے چاٹنےلگا۔۔۔ منہ کو جبڑے کے
نیچےسے دبانے کی وجہ سے صباءکے دونوں ہونٹ سکڑ کرگول سے ہوگئے تھے۔۔۔ میجر نے اپنی
زبان کی نوک اُس کے اِس طرح سے کھلے ہوئے منہ کے اندرداخل کر دی۔۔۔ صباء کو عجیب
سا لگا۔۔۔ لیکن اس کی آنکھیں بندہوگیں۔۔۔
میجر :کیسے رنڈی کی طرح تیارہوئی ہے سالی جیسے کسی کسٹمر کے پاس
جانا ہو تو نے۔۔۔
میجر نے اپنے ہاتھ کی گرفت میں ہی اُس کے پتلےپتلے ہونٹوں کواپنی
انگلیوں سے مسلتےہوئے کہا۔۔۔س س س س س س س۔۔۔میجر اتنی زور زور سے اُسکے ہونٹوں کو
مسل رہا تھاکہ صباء کو تھوڑی تکلیف ہونے لگی۔۔۔
صباء :آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ آہستہ۔۔۔
میجر گندی سی ہنسی ہنسااور فوراً ہی آگے ہو کر صباءکے نچلے ہونٹ کو
اپنےہونٹوں میں لیااور چوسنے لگا۔۔۔صباء کے ہونٹوں کی لپسٹک اُتَر کر میجر کے منہ
میں گُھل رہی تھی۔۔۔میجر اس کا ٹیسٹ محسوس کر رہا تھااور بدلے میں صباء کو اپنےمنہ
کی گندی بدبواور سگریٹ کی اسمیل دےرہا تھا۔۔۔ کڑوا سا گندا سا تھوک صباءکے منہ میں
جا رہا تھا۔۔۔ لیکن صباء اپناچہرہ ہٹانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔ ایک ہاتھ سے
اُس کے چہرےکو پکڑے پکڑے ہی دوسرےہاتھ کو پیچھے لے جا کرمیجر نے صباء کی گانڈ
کودبوچ لیا۔۔۔ اسے زور زور سے دبانے لگا۔۔۔مسلنے لگا۔۔۔تکلیف سے صباء مچلنے
لگی۔۔۔اپنی گانڈ کو ادھراُدھر گھمانے لگی۔۔۔جیسے ناچ رہی ہومیجر کی بانہوں میں۔۔۔
تڑپ رہی ہو۔۔۔ لیکن اسی وحشی پن کےباوجود بھی اور اِس تکلیف کے باوجودبھی صباء کی
پھدی گرم ہونے لگی۔۔۔ آج ایک بار پِھر اس سےبےوفائی کرنے لگی۔ گیلی ہونے لگی۔۔۔
اتنی جلدی ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ کیا ہو گیا ہے مجھے آخر ؟ ؟؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟کیوں پگھل سی
جاتی ہوں اِس کمینے کا ہاتھ لگنے کےساتھ ہی میں۔۔۔ کیسے روکوں اِس چوت کوپانی
چھوڑنے سے۔۔۔ یا پِھر خود کو چھوڑ دوں حالات کے رحم و کرم پر۔۔۔میجر نے اپنی زبان
نکال کرصباء کے پورے چہرے کوچاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ اُس کے گالوں کو گیلاکرنے لگا
اپنے تھوک سے۔۔۔صباء کو تھوڑا عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔ تھوڑی گھن آ رہی تھی۔۔۔ کتنا
گندا انداز ہے اسکے پیارکرنے کا بھی۔۔۔ ایسے بھی بھلا پیارکرتے ہیں کسی کو۔۔۔
جانوروں کی طرح چاٹتےہوئے۔۔۔
صباء :پلیز ز ز ز ز ز۔۔۔ ایسے نہیں کرو و و و و آپ۔۔۔ اچھا
نہیں لگتا۔۔۔
میجر اس کی طرف دیکھتےاور اس کی گانڈکو دباتے ہوئے بولا۔۔۔کیا اچھا
نہیں لگتا تجھے۔۔۔؟
صباء تھوڑا گھبرا کر۔۔۔ و و و و وہ۔۔۔ یہ۔۔۔ آپ جوو تھوک لگاتے
ہو۔۔۔ وہ۔۔۔
میجر تھوڑا غصہ ہوتے ہوئے ۔۔۔ اچھا تو تجھے میرا تھوک اچھا نہیں
لگتا۔۔۔
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنےہاتھ میں پکڑے ہوئے اُس کےچہرے کو تھوڑا
سیدھا کیااور اپنا منہ سکیڑ کر اُس کےگال کے اُوپر تھوک دیا۔۔۔
اب بول۔۔۔
صباء نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔ میجر کے منہ سے گرا ہواتھوک صباء کے
گالوں پرپھسل رہا تھا۔۔۔دھیرے دھیرے نیچے کو آرہاتھا۔۔۔ میجر نے اپنی زبان آگے لے
جاکر اُس کے گال پر سے اپنا ہی تھوک خود ہی چاٹ لیا۔۔۔صباء کو بہت عجیب لگ
رہاتھا۔۔۔ایسی چیزیں اس کی زندگی میں کبھی بھی نہیں ہوئی تھیں۔۔۔ میجر نے اُس کے
چہرے سےہاتھ اٹھایا اور پیچھے لے جاکر اُس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں لیااور ایکدم
پیچھے کو کھینچ کر اسے نیچے بیٹھا دیا۔۔۔اور بولا۔ منہ کھول اپنا۔۔۔ نیچے بیٹھ کر
صباء نے گھبراکر اس کی طرف دیکھا۔۔۔اوہ نو۔۔۔ پِھر سے یہ غصے میں آرہا ہےکیا۔۔۔ اف
ف ف ف ۔۔۔ پِھر سے غلطی ہو گئی نہ مجھ سے۔۔۔کیوں غلطی کرتی ہوں میں اس کے سامنے۔۔۔
کیوں چُپ کر کے مان نہیں لیتی اس کی ہر بات۔۔۔کیوں نہیں سہہ لیتی میں سب کچھ اپنی
مرضی سے۔۔۔ اب پِھر اسے رام کرنا پڑے گا۔۔۔ اتنے میں میجر نے ایک اورجھٹکا دیااور
صباء نے جیسے ہوش میں آتے ہوئے اپنے گلابی ہونٹوں کو ایک دوسرے سےجدا کرتے ہوئے
اپنا منہ کھول دیا۔۔۔ میجر نے اپنی دو انگلیاں صباء کے منہ کے اندر ڈال دیں اور
اُس کی زبان کو سہلانے لگا۔۔۔چوس ان کو رنڈی۔۔۔ صباء نے اپنے منہ کو بند کیااور
دھیرے دھیرے اس کی گندی انگلیوں کو چوسنے لگی۔۔۔ میجر کی آنكھوں میں دیکھتی اور
پِھر اس سےنظریں چرا لیتی۔۔۔ پتہ نہیں کیا جادو تھااس کمینے کی آنكھوں میں جو وہ
اُس کے جِسَم کی ساری مزاحمت اور ساری طاقت ہی ختم کر دیتا تھا۔۔۔ میجر نے تھوڑا
سازور لگاتے ہوئے صباء کا منہ کھولا اور پِھر اُس کے کھلےہوئے منہ سے تھوڑا اُوپر
اپنامنہ لاتے ہوئے دھیرے دھیرےتھوک نکالنے لگا جو کہ بہت ہی آہستہ آہستہ نیچے کو
آنےلگا۔۔۔ سفید تھوک۔۔۔لمبا سا ہوتے ہوئے ۔۔۔صباء کی آنكھوں کے سامنے اُس کے کھلے
ہوئے منہ کی طرف بڑھتے ہوئے لیکن صباء میں اپنا منہ ہٹانے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔سفید
تھوک سیدھا صباء کےمنہ میں آیا تو صباء کو بہت عجیب سا لگا۔۔۔جس طرح میجر صباء
کوایک نیچ اور خود سے کمترچیز کی طرح ٹریٹ کرتا تھاوہ صباء کو الگ ہی احساس دیتی
تھی۔۔۔اب اپنے منہ میں میجرکے تھوکنے سے اس نے اوربھی خود کو نیچے گرتا ہوامحسوس
کیا۔۔۔ لیکن میجر کی یہ اَتھارِٹی۔۔۔اس کی طاقت۔۔۔اس کا برتاؤ۔۔۔اس کا اِس طرح اسے
بےعزت اور شرمندہ کرنا۔۔۔پتہ نہیں کیوں اسے اچھا لگتاتھا پتہ نہیں کیوں اس کی پھدی
گیلی ہونے لگتی تھی۔۔۔جیسے اب ہو رہی تھی۔۔۔ میجر کا تھوک اُس کے حلق کے اندر
اُتَر چکا ہوا تھااور اب میجر اُس کے ہونٹوں کو چوم رہا تھا۔۔۔ چوس رہا تھا۔ پِھر
میجر نے اُس کے بالوں سے پکڑ کر ہی اسے اوپر کھڑاکیااور اُس کے نازک سے جِسَم کو
اپنی مضبوط بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ اپنے نرم اور نازک جِسَم کومیجر کی طاقتور
بانہوں کے حصار میں محسوس کرتے ہوئے صباء خود کو ایک الگ ہی دنیا میں محسوس کرنے
لگی تھی۔۔۔وہ مدہوش ہونے لگی تھی۔۔۔ کسی الگ ہی نشے میں ڈوبتی جا رہی تھی۔۔۔
آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔ میجر کے بارے میں ساری غلط اور خوفناک باتیں وہ بھول
چکی تھی۔۔۔ بھول چکی تھی کہ وہ کتنا بڑا غنڈہ اور بدمعاش ہے۔۔۔بھول چکی تھی کہ اس
نے اس کے شوہر کو مارا تھا۔۔۔ بھول چکی تھی کہ وہ یہ سب اس کی مرضی کےخلاف کر رہا
تھا۔۔۔ یاد تھا تو بس اس کی مضبوط بانہوں کا لمس۔۔۔یاد تھا تو اُس کے طاقتورسینے
کا ٹچ جو اُس کے مموں کو دبا رہا تھا۔۔۔یاد تھا تو اس کا طاقتور لن جو کے اس کی
پھدی پر چپکتا جا رہا تھا۔۔۔کپڑوں کے اُوپر سے ہی اس کی پھدی کےاندر گھسنے کی کوشش
کررہا تھا۔۔۔ صباء کی حالت خراب ہو رہی تھی۔۔۔ اس کی پھدی پانی چھوڑرہی تھی اس کی
چوت اُس کے دماغ کا ساتھ چھوڑ رہی تھی۔۔۔اس کا جِسَم اُس کے اپنےکنٹرول سے آزاد ہو
کر میجرکے کنٹرول میں جا رہا تھا۔۔۔ ایک بار پِھر سے اس گندےکے سامنے خود کو
سرینڈر کررہا تھا۔۔۔ میجر نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے لے جا کر ایک ہاتھ صباء کی
لاسٹک والی شلوارکے اندر ڈالا اور اس کی ننگی گانڈ کو سہلانے لگا۔۔۔ دوسرا ہاتھ اس
کی قمیض کے نیچے ڈالتے ہوئے اس کی ننگی کمر کو سہلانے لگا۔۔۔کھردرے اور طاقتور
ہاتھوں کے گانڈ اور کمر پر لمس سےصباء بےحال ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ آہستہ آہستہ اُس
کے بازواٹھے اور اس نے بھی اپنےہاتھ میجر کی کمر پر ر کھ دیے اور اس کی کمر
کوآہستہ آہستہ اس کی شرٹکے اُوپر سے ہی سہلانے لگی۔۔۔میجر نے اپنے ہونٹ صباء
کےہونٹوں پر رکھ دیے تھے اورمستی میں آگئی ہوئی صباءخود ہی میجر کے ہونٹوں کوچومنے
لگی۔۔۔صباء کو خود بھی احساس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کیا کررہی ہے۔۔۔آہستہ آہستہ
میجر کے ہونٹوں کو چوم رہی تھی۔۔۔آنکھیں بند کئے ہوئے اُس کےجِسَم پر ہاتھ پھیر
رہی تھی اُوپر سے نیچے۔۔۔نیچے سے اُوپر۔۔۔کتنا مضبوط جِسَم ہے اس کا۔۔۔جیسے پتھر
کا بنا ہوا ہو۔۔۔کاش اشرف کا جِسَم بھی ایسا ہی ہوتا۔۔۔مضبوط اور طاقتور۔۔۔ مم م م
م م م۔۔۔ پِھر شاید میں کبھی بھی خود کو اِس میجرکے سامنے اتنا مجبور اور بےبس
محسوس نہ کرتی۔۔۔کبھی بھی خود کو اِس کے سامنے سرینڈر نہ کرتی۔۔۔میجر نے اپنی زبان
باہر نکالی تو صباء نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اور اس کی زبان کو اپنے ہونٹوں
میں لیااور اسے چوسنے لگی۔۔۔اپنی زبان اُس کےاُوپر پھیرنے لگی۔۔۔ میجر نے آہستہ سے
سرگوشی کی۔۔۔ میری طرف دیکھواور دوبارہ سے اپنی زُبان باہرنکال دی۔۔۔ صباء نے اپنی
آنکھیں کھولیں اور میجر کی خوفناک شرابی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے اپنی زبان سے میجر
کی زبان کو چھونے لگی۔۔۔ پِھر اسے چوسنے لگی۔۔۔میجر اُس کے نرم و ملائم جِسَم کو
اپنے جِسَم کےساتھ دباتا جا رہا تھا اور اپنے لن کو اس کی پھدی کے اُوپر رگڑتا جا
رہا تھا۔۔۔عجیب سی مستی اوربےخودی پیدا ہو گئی ہوئی تھی صباء کے اندر۔۔۔آج بھی وہ
خود کو پوری طرح سے میجر کے آگےسرینڈر کر چکی ہوئی تھی۔۔۔ساری دنیا کو بھول کر
اپنے پیار کرنے والے شوہراشرف کو بھی بھول کر۔۔۔چاہے کچھ دیر کے لیے ہی سہی۔۔۔
لیکن وہ بھول چکی تھی اشرف کومیجر نے نیچے سے صباء کی قمیض کو پکڑا اور دھیرےدھیرے
اسے اُوپرکو اٹھانے لگا۔۔۔ قمیض اُوپر کو اٹھنے لگی اورصباء کی گوری گوری کمرننگی
ہونے لگی۔۔۔ جیسے ہی قمیض اُس کےمموں سے اُوپر کو آئی توصباء نے ایک نظر میجر کی
طرف دیکھا اور پِھر اپنے دونوں بازؤ اوپر اٹھا دیے۔۔۔میجر نے اپنے ہاتھوں سے اس کی
قمیض اُتار کر دور پھینک دی۔۔ خوبصورت برا اُس کےسیکسی مموں کو اور بھی سیکسی بنا
رہا تھا۔۔۔ برا کے اندر بہت ہی ٹائیٹ ہو رہے اُس کے ممے بہت پیاراسا کلیویج بنا
رہے تھے۔۔۔ میجر نے صباء کی آنكھوں میں دیکھا اور بولا۔۔۔سالی بہت ہی سیکسی مال ہے
تو قسم سے۔۔۔
صباء نے شرما کر نظریں جھکا دیں۔۔۔ میجر نے جھک کر اُسکے کلیویج کو
ایک بار اپنی زبان سے چاٹا اور پِھر اُس کےبرا کپس میں سے نکلتےہوئے گورے گورے
مموں کےتھوڑے سے حصے پر اپنےہونٹ رکھ کر اتنی زور سےچوما کہ بَعْد میں وہاں پرسرخ
نشان پڑ گیا۔۔۔ پِھر میجر نے اچانک سے اُسکے مموں میں اپنے دانت گاڑدیے اور ہلکے
سے کاٹ لیا۔۔۔صباء کی چیخ نکل گئی۔
اس نے فوراً سے اپنا ہاتھ میجر کے سر کے اُوپر رکھ دیا۔۔۔ووئی ی ی
ی ی ی ی۔۔۔میجر نے اپنا منہ ہٹایا تو اُسکے ممے پر اُس کے دانتوں کاہلکا سا نشان
پڑ چکا ہوا تھا۔۔۔
صباء :کاٹو تو نہیں۔۔۔ پلیز ز ز ز ز پِھر نشان نہیں جاتےاور اشرف
نے دیکھ لیا تو۔۔۔؟
میجر :تو تو نہیں چاہتی کہ تیرےشوہر کو میرے بارے میں پتہ چلے۔۔۔؟
صباء نے شرم سے اپنی نظریں جھکا لیں۔۔۔میجر ہنسا اور پِھر صباء کی
شلوار بھی اُتار دی اور صباءکا جِسَم میجر کے سامنے ایک بار پِھر سے ننگا ہو
گیا۔۔۔ سوائے ایک برا کے۔۔۔میجر نے تھوڑا پیچھے ہٹ کراُس کے ننگے جِسَم کو
دیکھناشروع کر دیا۔۔۔ صباء نے جب ایسی نظروں سے میجر کو اپناجِسَم دیکھتے ہوئے
دیکھا تو شرماکر اپنی نظریں جھکا لیں۔۔۔میجر نے ایک زور کا تھپڑصباء کی پھولی ہوئی
گوری گانڈ پر مارا اور بولا۔۔۔
چل جلدی سے مجھے تھوڑی سی بچ واک کر کے دیکھا۔۔۔
صباء حیران ہو کر میجر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
میجر :ارے ایسے کیوں دیکھ رہی ہے۔۔۔ سالی کتیا کی طرح نیچےبیٹھ جا
اور کتیا کی طرح ہی چل کر دکھامجھے تاکہ پیچھے سے تیری چوت اور گانڈ کا نظارہ
کرسکوں۔۔۔سالی اسے کہتے ہیں بچ واک صباء خاموشی سے نیچے کوجھک گئی اور اپنے ہاتھ
نیچے رکھ کر گھٹنوں کےبل کتیا کی پوزیشن میں آگئی۔۔۔ پِھر پیچھے مڑ کر دیکھا
تومیجر صوفہ پر بیٹھا اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ صباء نے آہستہ آہستہ اپنےگھر
کے سیٹنگ روم میں کتیا کی طرح چلناشروع کر دیا۔۔۔اپنی گانڈ کو پیچھے کو نکال
کر۔۔۔اسے بے حد ذلت اور تذلیل محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں اسکے باوجود
بھی اس کی چوت گیلی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
میجر :سالی گانڈ کو تھوڑا اُوپر کواٹھا اور پھدی کو باہر کی طرف
نکال کر چل نہ۔۔۔بہن چود کو کوئی بھی کام ٹھیک سے کرنا نہیں آتا۔۔۔ دیکھا نہیں
کبھی کسی کتیا کو چلتے ہوئے کیسے اس کی چوت باہر کونکلی ہوتی ہے۔۔۔ کتوں کو دعوت
دیتی ہوئی کہ آؤ اور ڈال دو اپنا لن میری پھدی میں۔۔۔چل ویسے ہی نکال اپنی چوت
باہر۔۔۔
صباء خود کو شرم سے پانی پانی ہوتا ہوا محسوس کررہی تھی۔۔۔ لیکن
پِھر بھی اس نے جیسےمیجر نے کہا اسی کے مطابق اپنی گانڈ کو تھوڑا اوپر کوکر لیا
اور درمیان سے اپنی کمر کو تھوڑا نیچے کرتے ہوئے اپنی پھدی کو پیچھے کونکال کر
گھٹنوں کے بل آگےکو چلنے لگی۔۔۔ بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔۔۔ صباء سمجھ سکتی تھی کہ
پیچھے میجر کو کیا نظارہ نظر آرہا ہو گا۔۔۔ اس کی پھدی میجر کی آنكھوں کے سامنے
ہوگی۔۔۔دھیرے دھیرے صباء کو عجیب سی لذت ملنے لگی ایسے رنڈیوں کی طرح سےچلنے میں
بھی۔۔۔ میجر نے اپنی ٹی شرٹ اتاری اور خود بھی نیچے گھٹنوں کے بل صباءکے پیچھے
پیچھے چلنے لگا۔۔۔ صباء کو بہت ہی عجیب سا لگا۔۔۔ میجر نے صباء کے بالکل پیچھے
پہنچ کر بنا ہاتھ لگائےبغیرہی صباء کی گانڈ کو کس کیااور پِھر اس کی گانڈ کے
دراڑکو اپنی زبان سے چاٹنے لگا۔۔۔ ایک عجیب کرنٹ سا صباءکے جِسَم میں پھیل گیا
اورایک جھٹکے کے ساتھ ہی صباء کی گانڈ خود بہ خودہی باہر کو نکل آئی۔۔۔میجر کی
زُبان نیچے کو آئی اور اس نے پوری زبان کونیچے سے اُوپرکو پھیرتے ہوئے صباء کی
پھدی کو چاٹ لیا ۔۔۔
میجر :دیکھ رنڈی کیسے تیری پھدی پانی چھوڑ رہی ہے۔۔۔سالی ہر وقت لن
مانگتی رہتی ہے۔۔۔ کیسے اس کی ضرورت پوری کرتی ہے تو۔۔۔؟سچ بتا کس کس سے چودواتی
ہے۔۔۔؟
صباء تڑپ اٹھی۔۔۔ میجر کی زبان سے بھی اوراُس کے جملے سے بھی۔۔۔
نہیں میں ایسی نہیں ہوں ں ں ں ں ں۔۔۔ س س س س س س۔۔۔
میجر اپنی انگلی صباء کی پھدی میں اندرتک ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔
سچ سچ بتا وہ جو مولوی منصور ہے اس نے تو چودا ہےنہ تجھے۔۔۔؟
صباء؛نہیں نہیں۔۔۔ ایسی باتیں کیوں کرتے ہو آپ۔۔۔ میں نے کبھی اپنے
شوہر کےسوا کسی کی طرف نہیں دیکھااور منصور صاحب تو انکل ہیں۔۔۔ میرے باپ کے
جیسے۔۔۔
میجر :سالی۔۔۔ رنڈی۔۔۔ میرے آگے کتیا کی طرح ننگی ہو کر اپنی چوت
نکالے کھڑی ہےاور کہتی ہے کہ کسی سے نہیں چُدوایا۔۔۔ وہ بہن چود تیرے باپ کی عمر
کا ہے تو میں بھی توایسے ہی ہوں نہ۔۔۔مجھ سے ایک دو سال ہی بڑاہے وہ رنگیلا
مولوی۔۔۔مجھ سے تو بڑے مزے لے لےکر چودواتی ہے تو اس سےکیوں شرم آتی ہے۔۔۔
صباء نے خاموشی سے اپنی نظریں نیچے جھکا لیں۔۔۔ وہ منصور صاحب کے
متعلق کوئی بھی بکواس نہیں سنناچاہتی تھی اور نہ ہی اسےکوئی جواب دے کر بات کواور
بڑھانا چاہتی تھی۔۔۔ ایک بہت ہی شفیق اور بزرگیات والا امیج تھااس کی نظروں میں
منصورصاحب کا جسے یہ کمینہ آدمی تباہ کرنا چاہتا تھا اپنی باتوں سے وہ جانتی تھی
کہ منصورصاحب اِس جیسے گندےآدمی نہیں ہیں۔۔۔وہ تو بہت ہی نیک اور پرہیز گار آدمی
ہے۔۔۔اس کی چوت میں موجودمیجر کی انگلی اُس کے جِسَم کے اندر لگ رہی آگ کو اور بھی
بڑھا رہی تھی۔۔۔اسے اور بھی گرم کر رہی تھی۔۔۔اس کی چوت کو اور بھی پانی نکالنے پر
مجبور کر رہی تھی۔۔۔صباء مستی کے ساتھ اپنی گانڈ کو ہلا رہی تھی۔۔۔جیسے جیسے میجر
کی انگلی ہل رہی تھی ویسےویسے اس کی گانڈ لہرا رہی تھی۔۔۔میجر نے صباء کو فرش پرسے
اٹھایا اوراسے صوفہ پر بیٹھا دیا۔۔۔ اپنی پھولتی ہوئی سانسوں کو دھڑکتے ہوئے دِل
کے ساتھ صباء صوفہ کی بیک سےٹیک لگا کر جیسے ڈھئے سی گئی۔۔۔ میجر بھی اٹھا اور
صوفہ پرچڑھ کر اس کی سائیڈ پربیٹھ گیا۔۔۔ صباء اپنے جِسَم کو ڈھیلاکیے ہوئے صوفہ
پراپنی پھولتی ہوئی سانسوں کے ساتھ پڑی ہوئی تھی۔۔۔آنکھیں کھلی میجر کو دیکھ رہی
تھیں۔۔۔ اس کا کالا جِسَم اور گھینوونا سا چہرہ اُس کے جِسَم کے قریب تھا۔۔۔سوچنے
لگی۔۔۔ اشرف کے مقابلے میں یہ کتنابدصورت ہے۔۔۔ اشرف کتنا ہینڈسم ،گورا اور
خوبصورت ہے۔۔۔لیکن اِس کالے اور بدصورت جِسَم والے کی طاقت کا تواندازہ ہے ہی مجھے
کہ کس قدر ظالمانہ طریقے سےچودتا ہے۔۔۔پھدی کی پیاس بجھا کر رکھ دیتا ہے۔۔۔ اندر
تک۔۔۔یہ سوچتے ہوئے صباء کی پھدی پانی چھوڑنے لگی۔۔۔جو کہ پہلے سے ہی گیلی ہورہی
تھی۔۔۔میجر نے صباء کی برا کےاُوپر سے ہی اُس کے مموں پراپنے ہاتھ رکھے اور آہستہ
آہستہ اُس کے مموں کو سہلانے لگا۔۔۔اپنی مٹھی میں لےکر دبانے لگا۔۔۔پِھر صباء کی
آنكھوں میں جھانکتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پر جھکتا چلا گیا۔۔۔اپنے ہونٹ اُس کے
ہونٹوں پررکھے اور اسے چومنے لگا۔۔۔اُس کے ہونٹوں کا رس پینےلگا۔۔۔دھیرے دھیرے اُس
کےہونٹوں کو چاٹنے لگا۔۔۔صباء مچلنے لگی۔۔۔ میجر کا ہاتھ اُس کے سینےپر سرکتا ہوا
دھیرے دھیرےاس کی برا کے اندر گھس رہا تھا۔۔۔برا کے کپ کے اندر ہاتھ ڈال کر میجر
نے صباء کے مموں کو مسلنا شروع کر دیا۔۔۔پِھر اُس کے نپل کو رگڑنے لگا۔۔۔س س س س
س۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔مم م م م م م م۔۔۔صباء کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔۔۔اس کا
ہاتھ اٹھا اور اس نےاپنے ہاتھ کو میجر کے سینےپر رکھ دیا۔۔۔دھیرے دھیرے اُس کے
سولڈسخت اورمضبوط چوڑے سینےکو سہلانے لگی۔۔۔اُس کے کالے جِسَم پرہاتھ پھیرنے
لگی۔۔۔سب کچھ بھولتے ہوئے ۔۔۔اشرف کی محبت اور اس کی خوبصورتی کو بھولتے ہوئے
۔۔۔میجر کی نفرت ،غصہ اور بدصورتی کوبھی بھولتے ہوئے ۔۔۔یاد تھی تو بس اپنے جِسَم
اور اپنی پھدی کے اندراٹھ رہی پیاس کی۔۔۔ اپنے جِسَم کی آگ کی۔۔۔ اپنے جِسَم کی
تڑپ کی اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اِس پیاس کو یہی بجھاسکتا ہے جو اُس کے جِسَم
کوچھو رہا ہےاور جس کے جِسَم کو وہ چھو رہی ہے۔۔۔ اس کا اور اُس کے شوہر کادشمن
نمبر ون۔۔۔لیکن اس کی پھدی کا تو لورنمبر ون تھا۔۔۔میجر نے آہستہ آہستہ صباءکی برا
کے کپس کونیچے سرکاتے ہوئے اُس کےمموں کو ننگا کر دیا۔۔۔ صباء کے جِسَم پر
موجودواحد لباس کا ٹُکْڑا بھی دھیرے دھیرے اُس کے جِسَم سے ہٹنے لگا۔۔۔اُس کے
جِسَم کاساتھ چھوڑنے لگا۔۔۔ایک بار پِھر سے اُس کے ممےمیجر کے بھوکی آنكھوں کے
سامنے ننگے ہوگئے۔۔۔میجر نے اُس کے لبوں کوچھوڑا اور جھک کر صباء کےممے کے گلابی
نپل کو منہ میں لے لیا۔۔۔جیسے ہی اپنے موٹے ہونٹوں میں لے کر اسے چوسا توصباء تڑپ
اٹھی۔۔۔ اچھل پڑی۔۔۔ اپنے سینے کو اُوپر کو اچھال دیا۔۔۔میجر مسکرایا اور آہستہ
آہستہ اُس کے ممےکو دباتے ہوئے اُس کے نپل کو چوسنے لگا۔۔۔ اپنے دانتوں میں لے
کردھیرے سے کاٹا۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔مم م م م م م م۔۔۔س س س س س س۔۔۔ صباء کے منہ سے
سسکیاں نکل گئیں۔ آنکھیں بند اور جِسَم میجرکے حوالے۔۔۔کچھ دیر تک اُس کے دونوں
نپلز کو باری باری چوسنے کےبَعْد میجر صوفہ سے نیچےسرک آیا۔۔۔ صباء کے پیروں میں
اس کی ٹانگوں کے درمیان اس کی پھدی کے بالکل سامنے۔۔۔ میجر نے صباء کی دونوں
ٹانگیں پھیلائیں تو صباء کی گلابی چوت نے اپنے لبوں کوکھول کر میجر کو خوش آمدید
کہا۔۔۔میجر نے آہستہ آہستہ اس کی پھدی کو اپنی انگلی سے چھوا اور اس کی پھدی کے
دانے کو رگڑنے لگا۔۔۔اوپر سے نیچےانگلی پھیرنے لگا۔۔۔ صباء کی آنکھیں پِھر سے
بندہونے لگیں۔۔۔جیسے ہی میجر نے اپنی زبان صباء کی چوت کے لبوں پررکھی تو صباءجیسے
کرنٹ کے مارے تڑپ اٹھی۔۔۔اپنی کہنیوں کے بل اپنا نچلا جِسَم اُوپر کو اچھال دیااور
ساتھ ہی اس کا ہاتھ میجر کے سر پر آ گیا۔۔۔اُس کے سر کو اپنی طرف کھینچنے لگی۔۔اُس
کے منہ کو اپنی پھدی پر دبانے لگی۔۔۔چوت پانی کی دھاریں چھوڑرہی تھی۔۔۔تڑپ رہی
تھی۔۔۔میجر کے لیے۔۔۔اس کی زبان کے لیےاور اُس کے موٹے کالے لن کےلیے۔۔۔میجر صباء
کی پھدی کو چاٹے جا رہا تھا۔۔۔اُوپر پھدی کے دانے سے لے کرنیچے اس کی چوت کے سوراخ
تک۔۔۔ پِھر جیسے ہی میجر نے اپنی زبان صباء کی چوت کے اندرداخل کی تو۔۔۔صباء کے
صبر کے بند ٹوٹ گئے۔۔۔وہ اپنی شرم اور اپنی بےبسی سب بھول گئی۔۔۔تڑپ اٹھی۔۔۔ترس
اٹھی۔۔۔
صباء :بس س س س س س س۔۔۔اور نہیں ں ں ں ں ں۔۔۔اب ڈالو و و و و و و
بھی یی ی ی۔ میجر ہنسا اور اٹھ کر کھڑاہوگیا۔۔۔میجر اِس وقت صرف ایک انڈرویئر میں
تھا۔۔سفید انڈرویئر جس کا اگلا حصہ بہت زیادہ پھولا ہوا تھا۔۔۔جب میجر اُسکے سامنے
کھڑا ہوا اس کی چوت کو چھوڑ کر تو۔۔۔صباء کی نظر اُس کےانڈرویئر کے اسی پھولی ہوئے
حصے پر ہی تھی اور وہ اچھی طرح سےجانتی تھی کہ انڈرویئر کےپیچھے کیا ہےاور جو اتنا
پھولا ہوا ہے وہ حقیقت میں اِس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک اور پیاراہے۔۔۔صباء کو
اپنے انڈرویئر کی طرف دیکھتے ہوئے پا کرمیجر نے صباء کا نازک ساہاتھ پکڑا اور اسے
اپنےانڈرویئر کے اُوپر سے ہی اپنےلن پر رکھ دیا۔۔۔صباء نے اپنا ہاتھ ہٹانا
چاہالیکن میجر نے سختی سے دبادیا۔۔۔ اب صباء کے ہاتھ میں میجرکا موٹا لن تھا جسے
وہ اُسکے انڈرویئر کے اوپر سے ہی اچھے سے محسوس کرسکتی تھی۔۔۔آہستہ آہستہ سہلانے
لگی تھی پِھر میجر نے۔۔۔اپنے انڈرویئر کو نیچے کو کرکے اُتار دیا۔۔۔وہ بھی بالکل
ننگا ہو گیا۔ صباء بھی بالکل ننگی تھی۔۔۔ دو جِسَم ایک بار پِھر ننگے ہوچکے
تھے۔۔۔ایک دودھ کے جیسے بے حد گورا چٹا اور مکھن کےجیسا نرم۔۔۔دوسرا کوئلے کے جیسا
کالاسیاہ اور پتھر کے جیساسخت۔۔۔ لیکن اِس سب کے فرق کےباوجود بھی دونوں جسموں کو
ایک دوسرے کی پیاس تھی۔۔۔ایک دوسرے کی طلب تھی۔۔۔ میجر کا کالا سیاہ لن صباءکی چوت
کے سامنے لہرا رہاتھا۔۔۔بالکل اکڑا ہوا۔۔۔صباء کی نظریں اسی پرجمی ہوئی تھیں۔۔۔یہ
لن جو اُس کے شوہر کانہیں تھا۔۔۔بلکہ اُس کے شوہر کے دشمن کا تھا۔۔۔جس سے صباء خود
بھی نفرت کرتی تھی۔۔۔لیکن اِس لن سے نفرت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔اسے تو وہ چاہتی
تھی۔۔۔ اسے تو وہ اپنی پھدی کےاندر محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اسے تو وہ اپنی چوت کی
گہرائیوں میں اترتا ہوادیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن اِس سب کے لیےاس کالے سیاہ جِسَم
والےانسان کا اس پر چھا جانابھی ضروری تھااور اس کالے طاقتور لن کی خاطر اسے سب
کچھ قبول تھا۔۔۔ میجر نے صباء کی دونوں ٹانگوں کو کھول کر اور بھی چوڑا کر دیا اور
اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر اس کی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔ صباء کی چوت مچلنے لگی۔۔۔ لن
کے پیچھے پیچھے چلنےلگی۔۔۔ اپنے اُوپر اس کا ٹچ محسوس کرنے کے لیے۔۔۔ اسے اپنے
اندر لینے کے لیے۔۔۔ میجر نے صباء کی دونوں ٹانگوں کو پکڑ کر اُوپر اٹھایااور صباء
کا جِسَم جیسےدوہرا ہوگیا۔۔۔ اس کی چوت۔۔۔ گلابی ٹائیٹ پھدی کا منہ کھل کر سامنے
آگیا۔۔۔جیسے منہ کھولے اُس کے لن کو پکار رہی ہو۔۔۔ دونوں پیروں کو۔۔۔ گورے گورے
پیروں کواپنے کاندھے پر رکھ کر میجرتھوڑا آگے کو ہوااور بنا پکڑے اوربنا چھوئے
اپنے لن کی ٹوپی صباء کی چوت پر ٹکائی اورآہستہ آہستہ اسے صباء کی پھدی کے اندر
داخل کرنے لگا۔۔۔ صباء کی گیلی ہو رہی چکنی چوت میں اس کا لن پھسلتاہوا اندر جانے
لگا۔۔۔ ایک بار پِھر سے وہی موٹا اورلمبا کالا لن اپنی ٹائیٹ چوت میں جاتا ہوا
محسوس ہوا توصباء پِھر سے سسک پڑی۔۔۔اوئی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ مم
م م م م م م م۔۔۔میجر کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے ۔۔۔تکلیف اور لذت کے مارےسسکاریاں
لیتے ہوئے ۔۔۔ چہرے کے ایکسپریشنز بھی بَدَل رہے تھے۔۔ جیسے جیسے میجر کا لن اس کی
چوت کو چیرتے ہوئے اندر تک گھسنے لگا تو ویسےویسے ہی صباء کی تکلیف میں اضافہ ہونے
لگا۔۔۔ دَرْد کی شدت سے صباء نےاپنے دونوں نرم و نازک ہاتھ میجر کے بازو پر رکھ
دیے۔۔۔ اپنی نازک نازک پتلی پتلی انگلیوں سے میجر کے بازؤں کو دبوچنے کی کوشش
کرنےلگی۔۔۔ آنکھیں بند ہو گیں۔۔۔ لیکن پھدی نے دَرْد کی پرواہ کیے بنا ہی اُوپرکو
اچھلتے ہوئے اس بدمعاش میجر کے بدمعاش لن کو جیسے اور بھی اپنےاندر آنے کی دعوت
دینا شروع کر دی۔۔۔ میجر کا لن اس کی چوت میں گھستا جا رہا تھا جیسےکوئی بندہ کسی
کے گھر میں بنا کسی کی اِجازَت کےگھستا چلا جا رہا ہو۔۔۔ بنا کسی کی پرواہ
کیے۔۔۔میجر کے دھکوں میں تیزی آتی جا رہی تھی۔۔۔ صباء کی ٹانگوں کو اپنےکندھوں پر
پھنسا کر میجرنے اسے بری طرح سے بے بس کر دیا ہوا تھا۔۔۔ وہ ہلنے اور خودکو چھڑانے
کے قابل بھی نہیں تھی۔۔۔نیچے سے میجر کا موٹا لن دھانہ دھن اس کی چوت میں گھستا جا
رہا تھا۔۔۔ اسے چودے جا رہا تھا۔۔۔اندر ہی اندر گھستا چلا جارہا تھا۔۔۔ صباء نے
بڑی مشکل سے اپنےجِسَم پر میجر کی گرفت کوتھوڑا ڈھیلا کیا اور اپنےپیروں کو اُس کے
کندھوں سے پھسلا کر پیچھے اسکی کمر پر لے آئی اور اپنےپیر اس کی کمر کے گرد کس
لیے۔۔۔ میجر کے جِسَم کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے ۔۔۔ اُس کے لن کو اپنی چوت کے اندر
تک لیتے ہوئے ۔۔۔ میجر کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے ۔۔۔ اُس کے لن کو اپنی چوت کے
اندر باہر ہوتا ہوا محسوس کرتے ہوئے ۔۔۔ صباء میجر کے چہرے کودیکھ رہی تھی۔۔۔ کیا
میں نے سچ میں خود کواِس کے سپرد کر دیا ہے۔۔۔ اپنا جِسَم اِس کے حوالے کردیا
ہے۔۔۔ اشرف کو بھول کر۔۔۔ اپنے اشرف کو بھول کر۔۔۔ یہی سوچ رہی تھی اُس کےچہرے پر
نظریں جمائے ہوئےکہ خود سے ہی اُس کے ہاتھ اٹھے اور اُس کے چہرے کواپنے ہاتھوں کے
حصار میں لیا اور اُس کے چہرے کونیچے کھینچنے لگی۔۔۔ اپنے چہرے پراور پِھر اپنے
ہونٹ خود ہی اُس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔ اسے چومنے لگی۔۔۔ اپنے گلابی پتلے پتلے
ہونٹوں سے اس میجر کے کالے موٹےہونٹوں کو چومنے لگی۔۔۔ خود سے ہی اس کی زبان
باہرکو نکلی اور اس نے اپنی زبان سے میجر کے ہونٹوں کوچاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ اپنی
زبان کو اُس کے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے ۔۔۔ پِھر اُس کے ایک ہونٹ کواپنے دونوں
ہونٹوں کی گرفت میں لیا اور اسے چوسنے لگی۔۔۔زور زور سے۔۔۔جیسے میجر اُس کے ہونٹوں
کو چوستا تھا۔۔۔جیسے میجر نے اسےچوسنا سکھایا تھا۔۔۔ پیچھے میجر کی کمر کوصباء کی
ٹانگوں نے اپنےگھیرے میں لیا ہوا تھا اورآگے سے اس کی بانہیں اس کی گردن کے گرد
لپٹی ہوئی تھیں۔۔۔ کچھ دیر تک ایسےہی چودنے کے بَعْد میجر نےصباء کی چوت
سے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔
صباء تڑپ اٹھی۔۔۔ نہیں ں ں ں ں ں۔۔۔ کیوں ں ں ں ں ں۔۔۔
میجر مسکرایا۔۔۔ کہیں نہیں جا رہا۔۔۔ آج نہیں جاؤں گا تیری
پیاس بجھائے بنا۔۔۔ فکر نہ کر۔۔۔ بس جلدی سے کتیا بن جایہیں صوفہ پر ہی۔۔۔
صباء زیادہ دیر تک میجر کےلن کو اپنی چوت سے باہرنہیں رہنے
دینا چاہتی تھی۔۔۔ بنا سوچے سمجھے اور بناکسی اعتراض کےجلدی سےالٹی ہو کر صوفہ پر
کتیا کی طرح جھک گئی۔۔۔ میجر نے اس کی پھدی کےاندر اپنی انگلی ڈالی اورپورے زور سے
اس کی چوت کو اوپر کھینچ دیا۔۔۔ جس سے صباء دَرْدکے مارے کراہ اٹھی۔۔ لیکن اس کی
گانڈ تھوڑی اُوپر کو اٹھ گئی۔۔۔ کمینہ منہ سے بھی تو بول سکتا ہے نہ کے اُوپر کو
اٹھ جاؤ زرا۔۔۔ میں بھلا انکار کرتی کیا۔۔۔لیکن یہ تو ہے ہی جنگلی اوروحشی۔۔۔ کتنی
بری طرح سے کھینچ دیا ہے اندر سے میری چوت کو۔۔۔ صباء سوچنے لگی۔۔۔ لیکن میجر کا
سوچنے سے کیا کام۔۔۔ اس نے تو پیچھے سے اپنا لن اس کی چوت میں ڈال دیااور اس کی
کمر کو پکڑ کرآہستہ آہستہ دھکے لگانے لگا۔۔۔ ساتھ ہی اس کی گانڈ کواپنی طرف بھی
کھینچ رہاتھا۔۔۔ صباء کی گوری گوری گانڈ کاتنگ گلابی سوراخ میجر کی آنكھوں کے
سامنے تھا۔۔۔ میجر نے اپنے ایک ہاتھ کی ایک انگلی سے صباء کی گانڈکے سوراخ کو
سہلانا شروع کر دیا۔۔۔ جیسے ہی صباء کو اپنی گانڈکے سوراخ پر میجر کی انگلی کا لمس
محسوس ہوا تو وہ لذت سے کانپ اٹھی۔۔۔ میجر نے بھی تھوڑا بہت اسکی گانڈ کی تھر
تھراہٹ کومحسوس کر لیا تھا۔۔۔ مسکرایااور تھوڑا جھک کر اس کی گانڈ کے سوراخ پر
اپنے منہ سے تھوک گرا دیا۔۔۔جو کہ اس کی گانڈ کی لکیرمیں گرا۔۔۔میجر نے اپنی انگلی
سےتھوک کو نیچے لا کر اُس کی گانڈ کے گلابی سوراخ پر ملناشروع کر دیااور اس
پرانگلی پھیرتے پھیرتے آہستہ سے اپنی انگلی اس کی گانڈکے سوراخ کے اندر پُش
کردی۔۔۔وئی ی ی ی ی ی۔۔۔ اح ح ح ح ح ح۔۔۔ صباء چلا اٹھی۔۔۔ لیکن میجر نے اس کی چوت
سے اپنی توجہ ہٹائے بنا ہی دھانہ دھن اس کی چوت کو چودتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کی
گانڈ کےاندر اپنی انگلی کو گھمانا شروع کر دیا۔۔۔ اِس ڈبل مزے اور لذت سےصباء پاگل
ہونے لگی۔۔۔ تڑپنے لگی اور بھی بے قرار ہونے لگی۔۔۔اِس ڈبل لذت کو برداشت نہ کر
سکی۔۔۔ اپنا سر صوفہ کی بیک پر رکھا اور آنکھیں بند کر کےاپنی منزل کےقریب پہنچنے
لگی۔۔۔اِس پوزیشن میں ہونےکی وجہ سے میجر کا لمبا لن بہت ہی اندر تک جا رہا تھا۔۔۔
جیسے اس کی بچہ دانی میں گھسنا چاہ رہا ہو۔۔۔ صباء کی پھدی میجر کے لن کے گرد بری
طرح سے سکڑ رہی تھی۔۔۔ اُس کے لن کو بھینچ رہی تھی۔۔۔میجر کو بھی اپنی منزل قریب
آتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں کو اپنےآگے جھکی ہوئی صباء
کےکندھوں پر رکھا اور ان کومضبوطی سے پکڑ کر اُس کےجِسَم کو اپنی طرف کھینچنے
لگااور خود زور زور سے آگےکو دھکے لگانے لگا۔۔۔ اتنی بری طرح سے چودے جانے سے صباء
کا پُورا جِسَم کانپ رہا تھا۔۔۔ اپنے اندر تک لن کو محسوس کر کے اسے اور بھی تکلیف
کااحساس ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن اِس تکلیف میں بھی ایک الگ ہی مزہ تھا۔۔۔ میجر کے لن
نے اچانک ہی اس کی پھدی کے اندر پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔ میجر کے لن سے اس کی
منی نکل نکل کر صباء کی پھدی کے اندر گر رہی تھی اور اس کی بچہ دانی میں بھی جا
رہی تھی۔۔۔
اتنی شدت کے ساتھ اپنی چوت میں گرنے والی منی نےصباء کو مدہوش کر
دیا۔۔۔ اس کی آنکھیں بند ہوگئیں اور اس کی چوت ایک بارپِھر سے پانی چھوڑنے لگی۔۔۔
ایک ہی چُودائی میں دوسری بار صباء اپنی منزل کو پہنچ چکی تھی۔۔۔ صباء نڈھال ہو
کروہیں صوفہ پر الٹی گر گئی۔۔۔ میجر بھی اپنے کالے جِسَم کواُس کے گورے بدن کے
اُوپرلیٹا کر لیٹ گیا۔۔۔ دونوں ہانپ رہے تھے۔۔۔ اپنے ہوش و حواس کو ٹھیک کرنے کی
کوشش کر رہے تھے۔۔۔ میجر دھیرے دھیرے صباءکی گردن کو چوم رہا تھااور صباء اپنی
آنکھیں بندکیے ہوئے پڑی اُس کے جِسَم کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔ دھیرے دھیرے جیسے بےہوش
ہوتی جا رہی تھی۔۔۔کچھ دیر کے لیے ریسٹ کرنےکے بَعْد میجر اٹھا اور اُس کےپاس ہی
صوفہ پر بیٹھ گیا۔۔۔ صباء کی گانڈ پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔
چل اٹھ میرے لیے کچھ پینےکو لا۔۔۔ پیاس لگ رہی ہے۔۔۔
صباء نے مڑ کر میجر کی طرف دیکھا میجر کو اپنی طرف دیکھتےہوئے پا
کر شرما گئی اور پِھر صوفہ سے اٹھ پڑی۔۔۔ صوفہ کے پاس ہی پڑی ہوئی اپنی قمیض کو
اٹھایا۔۔۔ پہننے کے لیےلیکن میجر نے اس سے وہ قمیض چھین لی۔۔۔ صباء نے تھوڑا شرما
کرصرف اپنی آنکھوں کو تھوڑامٹکا کر اپنی آنکھوں کے اشارے سے ہی اس سے پوچھا کہ
کیوں۔۔۔
میجر :کیوں کیا دوبارہ نہیں چدوانا کیا۔۔۔؟
صباء :کیا ابھی اور۔۔۔
صباء گھبرا کر بول پڑی۔۔۔ پِھر خود ہی اپنی بات پرشرما کر مڑی اور
کچن کی طرف چل دی۔۔۔ اپنے ہی فلیٹ میں ایک غیرمرد کے سامنے ننگا پھرتے ہوئے اسے
بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔۔ غیر مرد۔۔۔ کیا ابھی بھی وہ میرے لیےغیر مرد ہی ہے
؟؟؟اتنی بار میرے جِسَم کو ننگادیکھنے اور مجھے چودلینے کے بَعْد بھی ؟؟؟ پِھر
اپنے اِس خیال کو جھٹک دیا۔۔۔ اب وہ کہاں غیر ہے میرا میرے انگ انگ سے تو واقف
ہے۔۔۔ میرے جِسَم کا ہر راز تو اس پر کھل چکا ہوا ہے۔۔۔ ٹھیک ہی تو ہے پِھر کیا
اِس سے چھپانا ہے۔۔۔ کچن میں جا کر صباء نےفریج کھولا اور دیکھنے لگی کہ میجر کے
لیے کیا لے کرجائے پینے کے لیے۔۔۔ پانی یا جوس۔۔۔ پِھر اچانک اس کی نظردودھ کے جگ
پر پڑی۔۔۔ تھوڑا مسکرائی اور پِھر ایک گلاس میں میجر کے لیےدودھ ڈال لیا اور پِھر
دودھ کا گلاس لے کرباہر آگئی۔۔۔ میجر نے صباء کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس دیکھاتو
مسکرا اٹھا اور بولا۔۔۔ دودھ کیوں لے آئی میرے لیے۔۔۔؟
صباء اس کی بات سن کرصرف شرما دی۔۔۔ میجر اس کی اِس معصومیت اور
شرمانے پرکھل اٹھا
اور ہنستے ہوئے اسےکھینچ کر اپنی رانوں پر اپنی گود میں بِٹھا
لیا۔۔۔
میجر :ارے میری جان تیری جیسی نازک اور خوبصورت پریوں کو تو سارا
دن بھی چودوں تو بھی نہیں تھکوں گا۔۔۔ یہ میرا جِسَم ہے تیرےاس ہیجڑے اشرف کا نہیں
کے ایک بار چود لے تو ہفتہ ہفتہ اس کا لن ہی کھڑا نہ ہو۔۔۔
میجر کی بات سن کر صباءتھوڑا شرما گئی۔۔۔ میجر نے پِھر سے اُسکے
شوہر کی بے عزتی کر دی تھی لیکن صباء چُپ رہی۔۔۔ میجر کا کالا ہاتھ اس کی گوری
گوری ران پرآہستہ آہستہ پھسل رہا تھا۔۔۔ میجر نے ایک گھونٹ دودھ کا پیا اور پِھر
گلاس صباء کےہونٹوں سے لگا دیا اور اس نےبھی ایک گھونٹ لے لیا۔۔۔ میجر کا جھوٹا
دودھ۔۔۔ لیکن اب صباء کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔ سب کچھ قبول تھا کیونکہ اس نے
میجر کو جو قبول کرلیا تھا۔۔۔ صباء میجر کی گود میں بیٹھی ہوئی میجر کے چہرےکو
دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی۔۔۔ کسی بھی طرح یہ اُس کےباپ کی عمر سے کم نہیں
ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ کتنی آسانی سے اُس کےجِسَم کی پیاس کو ٹھنڈہ کردیا تھا اس نے۔۔۔
ایسے کے ایسے تو کبھی اُسکے جوان اورخوبصورت شوہر اشرف نےبھی نہیں کیا تھا۔۔۔ باپ
کی عمر کا ہے تو کیا ہوا۔۔۔ ہے تو بھرپور مرد نا۔۔۔ بھرپور اور مکمل مرد۔۔۔ یہ
سوچتے ہوئے صباء نے اپناسر میجر کے کاندھے پر رکھ دیا۔۔۔ اچانک میجر اُس کے ممے
کےنپل کو چھو کربولا۔۔۔
دودھ ہی پلانا تھا تو اپنے ان دودھ کے پیالوں کا پلادیتی۔۔۔
صباء نے شرما کر اُس کےہاتھ پر ہلکی سی چپت ماردی۔۔۔
ابھی دِل نہیں بھرا کیا۔۔۔؟
میجر گلاس نیچے رکھ کرصباء کے گال کو چوم کر بولا۔۔۔
دِل تو کبھی نہیں بھرتا تیرےسے سالی۔۔۔ تو ہے ہی اتنی پیاری
اورسیکسی۔۔۔
صباء شرما گئی اور میجر نےجھک کر صباء کے ایک نپل کو اپنے ہونٹوں
میں لیا اوراسے چوسنا شروع کر دیا۔۔۔
صباء :بس بھی کرو اب۔۔۔ پورے انکل بن گئے ہواور مستیاں دیکھو تو
جوان لڑکوں کی طرح کرنےکا شوق ہے۔۔۔
میجر :ارے میری رنڈی اب تو مجھےچاہے انکل بول یا اپنا باپ۔۔۔چوت تو
تیری چود ہی لی ہےمیں نے۔۔۔ تو بھی تو اتنی نخرے کرتی ہے اور جب چدواتی ہے توکسی
رنڈی کی طرح چدواتی ہے۔۔۔
صباء میجر کے سر کےپیچھے ہاتھ رکھ کر اُس کےسر کے بالوں کو اپنی
مٹھی میں لے کرتھوڑا کھینچتے ہوئی نخرےسے بولی۔۔۔
یہ کیا آپ مجھے ہر وقت گندے گندے ناموں سے بلاتے رہتے ہو۔۔۔ مجھے
نہیں لگتا یہ اچھا۔۔ میجر ایکدم سے تھوڑا غصہ ہوتے ہوئے ۔۔۔سالی میں کوئی تیرا
عاشق نہیں ہوں اور نہ ہی تو میری محبوبہ ہے۔۔۔ تو صرف میری ایک رکھیل ہے۔۔۔ رکھیل
بن کے ہی رہنا ہےمیرے ساتھ تو ٹھیک ہے۔۔۔نہیں تو آئندہ نہیں آؤں گاتجھے چودنے۔۔۔
یہ پیار ویار جو کرنا ہے نہ اپنے اسی ہیجڑے سے کر لیاکر۔۔۔ مجھے تو بس تیری چوت
چاہیےچوت۔۔۔سمجھی۔۔۔؟میں کوئی تجھےپیار شیار نہیں دوں گا۔۔۔میں تو بس تجھے اپنا لن
ہی دے سکتا ہوں۔۔۔نہیں چاہیے تو بول دے ابھی۔۔۔
میجر کو دوبارہ غصے میں آتے ہوئے دیکھ کر صباء تھوڑاگھبرا گئی۔۔۔
میجر کی باتیں اسے لگی تو بہت بری تھیں لیکن پِھر بھی بات کو ٹائم پر سنبھالتے
ہوئے بولی۔۔۔
اچھا اچھا آپ غصہ نہ ہو۔۔۔ چھوڑو اِس بات کو۔۔۔ اب جاؤ۔۔۔جانا نہیں
ہے کیا۔۔۔؟
صباء نے اب پیار سے میجرکے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے
کہا۔۔۔ ابھی ابھی جو لذت اور شانتی میجر نے اسے دی تھی اور جس تسلی کے ساتھ اسکی
چوت کی آگ کو ٹھنڈا کیا تھا تو اس کا جِسَم میجرکو فوری طور پر کھونا نہیں چاہتا
تھا۔۔۔
میجر اٹھا اور بولا۔۔۔ سالی ابھی نہیں جاؤں گا۔۔۔ابھی تیری چوت
لینے سے دِل نہیں بھرا ہے۔۔۔ ایک بار تو اور چودوں گا ہی تجھے۔۔۔
یہ کہتے ہوئے میجر نے اُسکے ننگے جِسَم کو اپنی بانہوں میں اٹھا
لیا اور صباءکے بیڈروم کی طرف بڑھنے لگا۔۔صباء خود کو سنبھالتے ہوئے میجر کے گلے
میں بازو ڈال کر پِھر سے بڑی ادا سے بولی اچھا جی۔۔۔اب کہتے ہو آپ کی تسلی نہیں
ہوئی اور تب کیا تھا جب سب کچھ سامنے چھوڑ کرچلے جاتے رہے ہو۔۔۔
میجر ہنستے ہوئے صباء کےگال کو چوم کر بولا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ وہ بھی اپن کا اسٹائل ہے بےبی۔۔۔
پہلی بار میجر صباء کے ننگےجِسَم کو اپنی بانہوں میں اٹھائے
ہوئے صباء کےبیڈروم میں داخل ہوا اوراسے سیدھا لے جا کر اُس کےبیڈ پر لٹا
دیا۔۔۔صباء کا ننگا جِسَم۔۔۔اُس کے اپنے بیڈروم میں اُسکے اپنے ہی بیڈ پر ننگا پڑا
تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔اُس کے سامنے اِس وقت اسکا شوہر نہیں بلکہ۔۔۔ اُس کے شوہر کا دشمن
اوراس کی سب سے زیادہ تذلیل کرنے والا آدمی میجر کھڑا تھا۔۔۔ وہ صباء کے ننگے
جِسَم کودیکھ رہا تھااور صباء میجر کے ننگے کالےجِسَم کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی
تھی۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔۔ پتہ نہیں کیا کر رہی ہوں میں۔۔۔اگر اشرف کو پتہ چل گیا توکیا
ہو گا۔۔۔ تبھی میجر نے اس کی ننگی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ نہیں پتہ
چلے گا اسے۔۔۔ پتہ بھی نہیں چلنے دوں گی اسے۔۔۔ اس نے تو ابھی کافی دیر سےآنا ہے
نہ۔۔۔ ابھی تو ایک گھنٹہ پڑا ہےآٹھ بجنے میں بھی۔۔۔ میجر کا ہاتھ اس کی ننگی ملائم
ٹانگ پر سے پھسلتا ہوااوپر کو جا رہا تھا اس کی چوت کی طرف۔۔۔ آہستہ آہستہ اس کی
پھدی کو سہلانے لگا۔۔۔پتہ لگا بھی تو کیا ہے۔۔۔ بتا دوں گی کہ یہ سب صرف اور صرف
اس کی وجہ سےہوا ہے۔۔۔اس کی جان بچانے کے لیے۔۔۔ میں کون سا اپنی خوشی اورمرضی سے
کر رہی ہوں یہ سب۔۔۔س س س س س س س۔۔۔ اہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ مم م م م م م م۔۔۔ میجر کی
انگلی اس کی چوت کے اندر داخل ہو چکی تھی اور وہ لذت کے مارےسسک اٹھی تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 تبصرے
THANKS DEAR