مرتے دم تک
تحریر: ماہر جی
گیارہویں قسط
آنکھیں بند تھیں۔۔۔اف ف ف ف ف ف۔۔۔ کتنا مزہ دیتا ہے یہ
کمینہ۔۔۔ اور اشرف۔۔۔ اشرف۔۔۔کاش تم بھی ایسے ہی ہوتے۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔مم م م م م
م۔۔۔ووئی ی ی ی ی ی۔۔۔ صباء کا ہاتھ بھی میجر کےکاندھوں پر تھا اور وہ بھی اُس کے
جِسَم کوسہلا رہی تھی۔۔۔ اُس کے جِسَم کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔ مدہوش ہو رہی تھی۔۔۔
پِھر سے اسی نشے میں ڈوبتی جا رہی تھی جس میں کچھ دیر پہلے میجر نے اسےبہت ہی اچھے
سے نہلایا تھا۔۔۔ اچانک سے میجر اٹھا اورصباء کی نظر سیدھی اُسکے بالکل کسی ڈنڈے کی
طرح سے اکڑے ہوئے لن پرپڑی۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔۔کیا چیز ہے یہ۔۔۔پتہ نہیں کیا کھاتا
ہے۔۔۔ کیسے فوراً سے پِھر۔۔۔ پِھر تیار ہو گیا ہے۔۔۔ میری لینے کے لیے۔۔۔اف ف ف ف
ف ف۔۔۔میجر نے اپنے اکڑے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اوردھیرے دھیرے اسے صباء
کےننگے ملائم پیٹ پر پھیرنے
لگا۔۔۔ رگڑنے لگا۔۔۔ صباء کو ایک نیا۔۔۔عجیب سا۔۔۔ لیکن اچھا
احساس ہونے لگا۔۔۔تھوڑا تھوڑا اُوپر کو آتے ہوئے میجر نے اپنے لن کی کالی ٹوپی کو
صباء کے گلابی نپل پر رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔ صباء کو پِھر سے بے چینی سی ہونے
لگی۔۔۔طلب سی ہونے لگی۔۔۔ پیاس سی لگنے لگی۔۔۔ اپنی چوت کے اندر۔۔۔لیکن یہ چوت کی
پیاس بھی عجیب پیاس ہوتی ہے۔۔۔جتنا اس کی پیاس بڑھتی ہےاتنا ہی پانی خود ہی
پیداکرنا شروع کر دیتی ہے۔۔۔یہی صباء کی پھدی کر رہی تھی۔۔۔میجر نے اپنے لن کو
صباء کےچہرے کے قریب آ کر اُس کےگال سے چھوا۔۔۔صباء کو اچانک سے ہوش آیا۔۔۔یہ کالا
لن جو اس کی پھدی کی دھجیاں اڑا چکا ہوا تھا۔۔۔اب اُس کے منہ کے قریب
آرہاتھا۔۔۔میجر نے اپنے لن کو اُس کےگالوں پر پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔صباء نے اپنا
چہرہ ہٹا لیا۔۔۔
پلیز ز ز ز ز ز۔۔۔نہیں یہ نہیں پلیز ز ز ز ز۔۔۔
میجر نے زبردستی سے اپنےلن کو صباء کے گالوں سے ٹچ کرنے کے ساتھ ہی
اُس کےہونٹوں سے چھو دیا۔۔۔اُس کے ساتھ ہی صباء اُسکے لن کو پکڑ کر اپنے منہ سے
پرے کو ہٹانے لگی۔۔۔
پلیز ز ز ز ز یہ نہ کرو۔۔۔ یہ نہیں کر سکتی میں۔۔۔
میجر :سالی نخرے نہ کر چل جلدی سے چوس لے میرا لن منہ میں لے
کر۔۔۔قسم سے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔جیسے پھدی میں لے کر مزےلیتی ہے نہ ویسے ہی منہ میں
بھی مزہ دوں گا تجھے۔۔۔
صباء :نہیں نہیں مجھے نہیں لینا منہ میں۔۔۔
میجر :وہ رنڈی۔۔بانو تو بہت اچھے سےچُوستی ہے میرا لن ۔۔مزہ آجاتا
ہے اس سےلن چوسوا کر صباء تھوڑا جیلس ہوتے ہوئے ۔۔۔تو جاؤ اسی کو کہوکہ چوسے۔۔۔اور
اسی کی لو جا کر۔۔۔ میرے پاس کیاکرنے آئے ہو۔۔۔؟
میجر ہنستے ہوئے اور اس کی حالت کو انجوئے کرتے ہوئے بولا۔۔۔
اچھا چل آج چھوڑ دیتا ہوں تجھے۔۔۔ پِھر کسی دن چوسواؤں گاتجھ سے لن
جب تو خودمزے لے لے کر چوسے گی اسے۔۔۔
یہ کہہ کر میجر نے اپنا لن اُس کے منہ پر سے ہٹا لیا۔۔۔ دوبارہ سے
جھک کر صباء کےمموں کے گلابی نپلزکو چوسنے لگا۔۔۔ان کے اُوپر اپنی زبان پھیرنے
لگا۔۔۔پِھر اپنے دانتوں سے ان کو آہستہ آہستہ کاٹنے لگا۔۔۔نیچے سے اس کی ایک انگلی
اُس کے چوت کے دانے کو سہلا رہی تھی۔۔ میجر :سالی تو اتنی چکنی اورخوبصورت
ہے۔۔۔پتہ نہیں اس ہیجڑے کے پلے کیسے پڑگئی۔۔۔وہ بہن چود تجھے کہیں سےخرید کر تو
نہیں لایا۔۔۔؟
صباء میجر کے تعریف کرنےکے اِس انداز پر مسکرا دی۔۔۔اسے یہ نہیں
خیال آیا کہ اُسکے اشرف کو پِھر سے اس نےہیجڑا بولا ہے۔۔۔اُس کے نپلز کو چھوڑ
کرمیجر نے دوبارہ سے اپنےہونٹ
صباء کے ہونٹوں پررکھ دیے اور اسے چومنے لگا۔۔۔ننگی حالت میں
صباء کواسی کے بیڈ پر لیٹا کر میجراسے چوم رہا تھا اور اُس کےہونٹوں کا رس پی رہا
تھا۔۔۔کبھی اُس کے نپلز کو اپنی انگلیوں میں لے کر مسلتا اورکبھی اس کی چوت کے
دانے کو سہلانے لگتا۔۔۔ صباء تو ایک بار پِھر سےپاگل ہوئی جا رہی تھی۔۔۔اپنی چوت
کی گرمی سے۔۔۔
میجر :وہ بہن چود بھی تجھے یہیں چودتا ہے نہ۔۔۔اسی بستر پر۔۔۔آج
میں چودوں گا تجھےاسی بستر پر۔۔۔سالا میرے سے پنگا لیتا ہے۔۔۔مادر چود نے میرے پر
ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔میجر پر۔ دیکھ کیسے آج اسی کے بسترپر اسی کی بِیوِی کو
چودرہاہوں بلکہ۔۔۔اس کی اپنی بِیوِی رنڈیوں کی طرح خودمجھ سے چُدوا رہی ہے۔۔۔
صباء کو میجر کی یہ بات سن کر بہت شرم محسوس ہوئی۔۔۔سچ ہی تو تھا
کہ وہ خود ہی بےبسی نہیں بلکہ بےخودی اور مستی کے عالم میں میجرسے چُدوا رہی تھی۔۔۔
میجر : اس بہن کے لوڑے کوسمجھا دینا۔۔۔آئِنْدَہ اس نے میرے پر ہاتھ
اٹھایا تو دیکھنا سالےکا لن کاٹ کے سچ مچ کا ہیجڑا بنادوں گا۔۔۔پِھر تو اپنی پھدی
کے لیے لن ڈھونڈتی پھرنا اور اس کی گانڈ کے لیے بھی۔۔۔
صباء کو اور تو کوئی طریقہ نہ سوجھا میجر کوچُپ کروانے کا۔۔۔بس
اپنے ہونٹ میجر کےہونٹوں پر رکھ دیے اور اُسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیتے
ہوئے اس کا منہ بندکر دیا۔۔۔میجر نے بھی
خاموشی سےاپنی زبان اُس کے منہ کےاندر ڈال دی اور صباء نےبھی
جیسے سکھ کاسانس لیتے ہوئے اس کی زبان کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔کچھ دیر کے بَعْد
میجر اٹھااور صباء کی دونوں ٹانگیں کھول کر اس کی ٹانگوں کےبیچ میں آیا۔۔۔اس کا
موٹا کالا لن صباء کی چوت کے اُوپر لہرا رہا تھا۔۔۔ کبھی کبھی اس کی چوت کوٹچ کر
کے جیسے اسے کس کرتا۔۔۔اِس ذرا سی دیر کے ٹچ سےہی صباء کی پھدی مچل اٹھتی اور
اُوپر کو اچھلتی لیکن ساتھ ہی اس کی گانڈکا سوراخ بھی ٹائیٹ ہو جاتا۔۔۔ میجر :کیا
دیکھ رہی ہے۔۔۔ایسے ہی میرے لن کا ڈانس دیکھتی رہے گی یا پکڑ کےاپنی پھدی میں بھی
لے گی۔۔۔
صباء نے شرما کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور میجر کا موٹا کالالن اپنے
نازک سے سفید ہاتھ میں پکڑ لیا اور اسے اپنی پھدی پر رگڑنے لگی۔۔۔اوپر سے نیچے کو
اور نیچےسے اُوپر کو۔۔۔اِس میں بھی صباء کو مزہ آرہا تھا۔۔۔پِھر صباء نے میجر کے
لن کی موٹی کالی ٹوپی کو اپنی پھدی کے سوراخ پر رکھا تومیجر نے بھی آہستہ آہستہ
نیچے کو دھکا لگانا شروع کردیا۔۔۔دھکا کیا لگانا تھا۔۔۔بس ہلکے سے پریشر کے ساتھ
ہی میجر کا لن پھسلتا ہواصباء کی چوت میں جانے لگا۔۔۔جیسے ہی میجر نے اپنے لن کو
تھوڑا باہر کو کھینچا تواس کے اوپر صباء کی چوت کا سفید سفید گاڑھا گاڑھاپانی لگا
ہوا تھا۔۔۔جیسے چپکا ہوا ہو۔۔۔میجر نے اپنی انگلی سےاس گاڑھے پانی کو اپنے لن پر
سے صاف کیا اور صباءکی آنكھوں کے سامنے ہی اسے اپنی زبان سے چاٹ گیا۔۔۔صباء نے شرم
سے آنکھیں پھیر لیں۔۔۔میجر نے اب آہستہ آہستہ اپنے لن کو صباء کی چوت کے اندر باہر
کرنا شروع کردیا۔۔۔آہستہ آہستہ اُسکے دھکوں میں تیزی آنے لگی۔۔۔پورے کا پُورا لن
صباء کی پھدی میں اُتَر جاتا اور اسکی چوت کے آخری حصے کوچھو کر واپس آتا۔۔۔صباء
کی آنکھیں بند تھیں اور وہ بس میجر کے لن کامزہ لے رہی تھی۔۔۔اُس کے منہ سے ہلکی
ہلکی سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔لذت کے مارے۔۔۔ اچانک ہی میجر نے اپنا لن صباء کی
چوت سے نکال لیاتو فوراً ہی صباء نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور میجرکی طرف دیکھنے
لگی۔۔میجر نے صباء کا ہاتھ پکڑ کراسے اٹھایا اور خود نیچے بیڈپر لیٹ گیا اور بولا
چل اب تو اُوپر آ کے چوداپنی چوت میرے لن سے۔۔۔
صباء : لیکن میں نے کبھی پہلے ایسے نہیں کیا۔۔۔
میجر : ارے آ تو سہی اُوپرمیرے۔۔۔
صباء آہستہ سے بیڈ پر کھڑی ہوئی اور اپنی دونوں ٹانگیں میجر کی
دونوں رانوں کےگرد کھول کر کھڑی ہوگئی۔۔۔اس کی پھدی بالکل میجر کےلن کے اُوپر تھی
لیکن کھڑی ہونے کی وجہ سے کافی فاصلے پر تھی۔۔۔میجر نے اپنا ہاتھ صباء کی چوت پر
رکھا اوراسے سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔ چل نیچے لا اپنی اِس پھدی کو۔۔۔
صباء آہستہ آہستہ نیچے بیٹھنے لگی۔۔۔اپنے پیروں کے بل نیچے بیٹھ کر
صباء میجر کے لن کودیکھنے لگی۔۔۔جوکہ اکڑ کر اس کی چوت سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔میجر نے
اپنا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور
اسے صباء کی پھدی کے سوراخ پر رکھ دیا۔۔۔
چل اب نیچے بیٹھ۔۔۔اس کو اپنی پھدی کےاندر لیتے ہوئے ۔۔۔
صباء آہستہ آہستہ نیچے کوآنے لگی۔۔۔میجر کا لن صباء کی چوت کے اندر
داخل ہونے لگا۔۔۔
آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔مم م م م م م۔۔۔
اِس پوزیشن میں پہلی بار چدوانے کی وجہ سےصباء کو زیادہ تکلیف ہو
رہی تھی۔۔۔ابھی دھیرے دھیرے صباءنیچے کو ہو رہی تھی کہ اچانک سے میجر نے اپنےدونوں
ہاتھ صباء کے کندھوں پر رکھے اور زور سے اسےنیچے کو کھینچ لیا۔۔۔
آہ ہ ہ ہ۔۔۔ووئی ی ی ی ی۔۔۔
صباء کے منہ سے زور کی چیخ نکل گئی۔۔۔میجر کا موٹا لن ایک ہی جھٹکے
سے اس کی چوت کے اندر تک اتر گیا تھا۔۔۔صباء نیچے میجر کی رانوں پر بیٹھ چکی تھی
اور اس کا پورے کا پُورا لن صباء کی چوت کے اندر تھا۔۔۔صباء نے زور سے میجر کےسینے
پر مکا مارتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا کرتے ہو۔۔۔ایسے کرتے ہیں کیا۔۔۔اگر مجھے کچھ ہو جاتا
تو۔۔۔؟اندر تک جیسے زخم کر دیا ہے تم نے۔۔۔نکالو اندر سے۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔اٹھنے
دو۔۔مجھے نہیں کرنا تمہارےساتھ کچھ میجر ہنستا جا رہا تھا۔۔۔صباء کے دونوں ہاتھوں
کوپکڑ کر اس نے جھٹکا دیا اوراسے اپنی طرف کھینچ
لیااور اپنے ہونٹوں کو اُس کےہونٹوں پر رکھ کر اسےچومنے لگا۔۔۔
بس میری دارلنگ رنڈی۔۔۔تکلیف ختم اب تو مزے لےمیرے لن کے اپنی چوت
کے اندر۔۔۔سالی کیا کروں میں۔۔۔میرا لن تیرے شوہر کی طرح مریل اور ڈھیلا تو ہےنہیں
کے آرام آرام سے چودے۔۔۔یہ تو ایسے ہی چودے گاتجھے جب بھی چدوائے گی۔۔۔
یہ کہتے ہوئے پیچھے سےمیجر نے آہستہ آہستہ اپنےلن کو اوپر کو
اچھالتے ہوئے صباء کی چوت کے اندر باہرکرنا شروع کر دیا۔۔۔آہستہ آہستہ صباء کو بھی
مزہ آنے لگا۔۔۔وہ بھی انجوئے کر رہی تھی۔۔۔میجر کے لن کو اپنی چوت کے اندر محسوس
کر رہی تھی۔۔۔اتنا موٹا لن ۔۔۔اف ف ف ف ف۔۔۔کتنا مزہ دیتا ہے۔۔۔سچ میں ہی یہ ہر
لحاظ سےبھرپور مرد ہے۔۔۔سیکس کرنا کتنے اچھے سےآتا ہے۔۔۔کیسے مجھے پوری طرح سےمطمئن
کر دیتا ہے۔۔۔میجر کے لن کو محسوس کرتے ہوئے اس کی چوت ایک بار پِھر سے اپنی منزل
کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔صباء خود حیران تھی کہ آخر یہ سب کیسے ہو رہا ہے۔۔۔ایک ہی
بار میں اتنی بارکیسے اس کی چوت کا پانی نکل سکتا ہے۔۔۔کیسے وہ اتنی بھرپور
اورمکمل اور اسٹرونگ آرگزم حاصل کر سکتی ہے۔۔۔صباء کی آنکھیں بند تھیں اور اسے صرف
یہی احساس تھا کہ یہ سب کچھ صرف اور صرف میجر کی وجہ سےہو رہا ہے۔۔۔ورنہ۔۔۔اشرف کے
ساتھ تو کبھی کبھی ہی مکمل کر پاتی تھی اپنا آرگزم۔۔۔ صباء نڈھال ہو کر میجر
کےاُوپر پڑی ہوئی تھی۔۔۔جب اُس کے جِسَم میں کوئی حرکت محسوس نہ کی تومیجر نے اسے
الٹا دیا اورخود صباء کے اُوپر آیا اورایک بار پِھر دھانہ دھان اسے چودنے
لگا۔۔۔لیکن اب تو صباء جیسےصرف بے ہوش پڑی ہوئی تھی۔۔۔بس اپنی آنکھیں کھولے میجر
کی آنكھوں میں دیکھے جارہی تھی۔۔۔کچھ دیر میں میجر کا لن پانی چھوڑنے والا ہوا
تو۔۔۔اس نے اپنا لن باہر نکال لیااور اُس کے لن سے منی کی دھارصباء کے پیٹ اور
سینےپر گرنے لگی۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔آہاں ں ں ں ں۔۔۔میجر کے منہ سے بھی آوازیں نکل
رہی تھیں۔۔۔اور اُس کے لن سے منی نکل کر صباء کے جِسَم پر گر رہی تھی۔۔۔جیسے ہی
میجر فارغ ہوا تووہ بھی صباء کے ساتھ ہی بستر پر گر پڑا۔۔۔صباء کا چہرہ اپنی طرف
موڑا تو صباء نے میجر کی آنكھوں میں دیکھ کر شرماکر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔میجر
نے اپنا ہاتھ صباء کےپیٹ پر رکھا اور اپنے ہاتھ سے اپنی منی صباء کے جِسَم پر ملنے
لگا۔۔۔
صباء :یہ یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔؟
میجر ہنسنے لگا۔۔۔ارے تیرے اِس چکنے جِسَم کو اپنی منی سے اور بھی
چکنا کر رہا ہوں۔۔۔تھوڑی دیر بَعْد میجر اٹھا اورکمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔صباء کے
تھکے ہوئےاور چودے ہوئے جِسَم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر اُس کے پیچھے
جاتی۔۔۔اسی لیے وہیں بستر پر ہی پڑی رہی۔۔۔ اسے وہیں لیٹے لیٹے ہی احساس ہوا کہ
میجردروازے سے نہیں بلکہ بالکونی سے نکلا ہے۔۔۔صباء وہیں اپنے بستر پر لیٹی
رہی۔۔۔اس کا ہاتھ اپنے پیٹ پرپھسل رہا تھا۔۔۔اپنے جِسَم پر پڑی ہوئی اس میجر کی
منی کو اپنے جِسَم پر رگڑ رہی تھی۔۔۔بنا کچھ بھی سوچے ہوئے۔۔۔کتنی چکنی ہے اس کی
منی۔۔۔ایک بار پِھر سے صباء کواپنی اسی غلطی کے احساس نے گھیر لیا۔۔۔اسے خیال آنے
لگا۔۔۔میں نے ایک بار پِھر سےاپنے شوہر کے ساتھ بےوفائی کی ہے۔۔۔آج تو میجر نے
میرا ریپ نہیں کیا نہ۔۔۔آج تو میں نے خود اپنی مرضی سے سب کچھ کروایاہے۔۔۔خود اپنی
مرضی سے چُدوایاہے۔۔۔لیکن اِس مرضی میں بھی تومجبوری شامل ہے نہ میری۔۔۔یہ بات
اشرف کو سمجھنی چاہیے نہ۔۔۔کیا کروں میں۔۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی سب کچھ ہو جاتا ہے جب
بھی وہ سامنے آجاتا ہے۔۔۔پتہ نہیں کیا وجہ ہے۔۔۔شاید اس کی وجہ صرف اورصرف اُس کے
جِسَم اور اُسکے لن کی طاقت ہی ہے۔۔۔شاید۔۔۔صباء نے گھڑی دیکھی۔۔۔اف ف ف ف۔۔۔ پورے
چھے سات گھنٹے رہاہے یہاں۔۔۔کمال ہے ویسے اس کی بھی پاور اور اسٹیمنا۔۔۔صباء یہ
سوچتے ہوئے مسکرانے لگی اور بیڈ سے اٹھ کر اپنے کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں چلی
گئی۔۔۔ تاکہ اشرف کے آنے سے پہلےصاف سُتھری ہو کر تیار ہوجائے۔۔۔بستر سے اٹھنے کا
تو اس کا بھی دِل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔جسم جو پورے کا پُورا ٹوٹ رہا تھا۔۔۔لیکن
پِھر بھی اٹھ گئی ہوئی تھی۔۔۔جو کچھ ہوا تھا۔۔۔یا جو کچھ اس نے کیا تھا۔۔۔وہ سب
اپنے شوہر اشرف سے چھپانے کے لیے۔۔۔ایک دن۔۔۔دو دن۔۔۔تِین دن۔۔۔چار دن۔۔۔ایسے گنتے
گنتے دس دن نکل گئے۔۔۔لیکن میجر کی طرف سےکوئی رابطہ نہیں ہوا صباءسے۔۔۔نہ کوئی
بات چیت۔۔۔نہ کوئی کال۔۔۔اور نہ ہی کوئی میسیج۔۔۔شروع میں تو صباء نے شکرکیا کہ اس
کی جان چھوٹ گئی ہے اس کمینے سے۔۔۔اور آئِنْدَہ وہ اسےنہیں بلاۓ گا اور نہ ہی ایسے ذلیل کرے گا۔۔۔نہ اسے اپنا جِسَم اس کو اِس طرح
پیش کرنا پڑے گا۔۔۔اِس دوران اس نے دو تِین باربانو کو میجر کے گھر سےنکلتے ہوئے
بھی دیکھا لیکن اس نے بجائے شرمندہ ہونےکے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور آگے بڑھ
گئی صباءکو سلام کر کے۔۔۔صباء بھی اب کوشش کرتی کے میجر سے سامنا نہ ہو اورنہ ہی
اُس کے بارے میں زیادہ کچھ سوچے۔۔۔اپنے شوہر سے بھی زیادہ سے زیادہ محبت کا اظہار
کرنے کی کوشش کرتی تاکہ اُس کے دماغ سےمیجر کا خیال نکل سکے۔۔۔کافی حد تک کامیاب
بھی ہورہی تھی۔۔۔لیکن کبھی کبھی جب وہ تنہا ہوتی تو اسے اپنے فلیٹ میں میجر نظر
آنے لگتا۔۔۔کبھی اسی صوفہ پر بیٹھاہوا اور اسے چودتا ہوا۔۔۔اور کبھی اپنے بیڈروم
میں اس کو اسی کے بیڈ پر چودتاہوا۔۔۔کبھی جب رات کو اشرف کےساتھ سیکس کرتی تو بھی
اسے کچھ کمی کا احساس ہوتا۔۔۔اسے خیال آتا کہ کیسے میجرکے لن سے اس کی پھدی پوری
طرح سے فل ہو چکی ہوتی تھی۔۔۔کیسے پھنس کر جاتا تھا اس کا لن اس کی پھدی
میں۔۔۔کتنی بری طرح سے اُس کےجِسَم کو دباتا تھا وہ اپنی بانہوں میں لے کر۔۔۔لیکن
ان خیالات کو دور کرنےکے لیے وہ اشرف سے چمٹ جاتی۔۔۔لپٹ جاتی۔۔۔لیکن جو کمی
تھی۔۔۔وہ تو تھی ہی۔۔۔وہ ایسے تو دور ہونے سےرہی نہ۔۔۔اور یہ صباء بھی اچھے سےجانتی
تھی۔۔۔ایک دوپہر وہ اپنے گھر کاکوڑا باہر رکھنے آئی تو اس نے بانو کو میجر کے گھر
کےدروازے سے اندر جاتے ہوئے دیکھا۔۔۔بانو کی نظر جب صباء سےملی تو اُس کے چہرے
پربھی ایک شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔صباء نے واپس آکر اپنادروازہ بند کیا اور
جلدی سےاپنی بالکونی میں آگئی۔۔۔وہ سننا چاہتی تھی کہ کیاابھی بھی وہ دونوں وہی
کچھ کرتے ہیں یا نہیں۔۔۔اپنی بالکونی میں آکر تھوڑاسا اُوپر کو اٹھ کر دیکھا تو
اسے میجر کی بالکونی کادروازہ کھلا ہوا نظر آیا وہ تھوڑا پیچھے ہٹ گئی۔۔۔کچھ ہی
دیر میں اسے دونوں کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔پتہ نہیں کیا باتیں کر رہےتھے۔۔۔لیکن چند
لمحوں کے بَعْد ہی بانوکی سسکاریاں گونجنے لگیں۔۔۔آہ ہ ہ ہ۔۔۔ووئی ی ی ی ی۔۔۔میجر
صاحب ب ب ب ب۔۔۔اوئی ی ی ی ی ی۔۔۔میں مر گئی ی ی ی ی۔۔۔بانو کی یہ آوازیں سن
کرصباء کی اپنی حالت عجیب سی ہونے لگی۔۔۔وہ جو صبح تک شکر کر رہی تھی اس کی جان
چوت گئی ہے اس سے اب اس بانو کی آوازیں پِھر سے اسے اس کی یاد دلا رہی تھیں۔۔۔اسے
یاد آنے لگا کے کیسے وہ بھی تکلیف کے مارے ایسےہی آوازیں نکالتی تھی جب وہ اسے چود
رہا ہوتا تھا۔۔۔اِس کمینے نے اپنی حرکتیں چھوڑی تو ہیں نہیں۔۔۔پِھر مجھے تنگ کرنے
سےکیسے باز آگیا۔۔۔حیرت کی بات ہی ہے نہ۔۔۔ان کو دیکھنے کے لیے صباءوہیں پر پڑی
ہوئی کرسی پرچڑھ گئی اوراندر جھانکنے لگی۔۔۔بالکل سامنے۔۔۔سیٹنگ روم میں پڑے ہوئے
صوفہ پر ہی دونوں موجودتھے۔۔۔ بالکل ننگے۔۔۔بانو نیچے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ننگی۔۔۔اور
میجر اُس کے اوپر۔۔۔وہ بھی ننگا۔۔۔ دونوں کے جِسَم ایک دوسرے سے ملے ہوئے
تھے۔۔۔میجر آہستہ آہستہ اپنا لن بانو کی چوت کے اندر باہرکر رہا تھا۔۔۔اسی صوفہ پر
جہاں کچھ دن پہلے صباء چدی تھی میجر سے۔۔۔آج اسی صوفہ پر بانو لیٹی ہوئی تھی۔۔۔اور
اس کی چوت کو بھی میجر کا لن چود رہا تھا۔۔۔وہی لن جس نے صباء کی چوت کی پیاس بہت
ہی اچھے سے بجھائی تھی۔۔۔ایک بار نہیں بلکہ۔۔۔چار بار۔۔۔لیکن اب وہی لن اس سےدور
تھا۔۔۔اس کی نظروں کے سامنے تھا۔۔۔لیکن اس سے بہت دور تھا۔۔۔وہ اس لن کو نہیں
دیکھناچاہتی تھی۔۔۔نہ ہی اب اس کی پیاس رکھنا چاہتی تھی۔۔۔لیکن اسی لن کو دوبارہ
سےاپنی آنكھوں کے سامنے دیکھ کر ایک بار پِھر سے مچل اٹھی تھی۔۔۔اس کی چوت۔۔۔اور
اس کا دِل۔۔۔پھڑکنے لگی تھی اس کی پھدی جیسے جیسے اسے یاد آرہا تھا کہ کیسے میجر
نےاسے چودا تھا۔۔۔اُس کے اپنے گھر میں۔۔۔اپنے ہی بیڈروم میں۔۔۔ بانو کا جِسَم صباء
کی نظروں کے سامنے تھا۔۔۔سانولا سا۔۔۔لیکن سولڈ۔۔۔بالکل بھی موٹا یا ڈھیلاجِسَم
نہیں تھا۔۔۔اُس کے ممے بھی سولڈ لگ رہے تھے۔۔۔بالکل بھی لٹکے ہوئے نہیں
تھے۔۔۔حالانکہ وہ اپنے بچے کو فیڈبھی کرواتی تھی۔۔۔میجر نے بانو کو چودتے ہوئے اُس
کے مموں کو پکڑا اور ان کو دبانے لگا۔۔۔صباء کو آواز آئی۔۔۔
میجر :بانو تیرے مموں میں تو بہت دودھ ہے۔۔۔
بانو :صاحب روزز تو پیتے ہو آپ اچھے سے پتہ تو ہے آپ کو۔۔۔
صباء حیران ہو گئی کہ کیاایسا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔کیا میجر جیسے اتنی
عمر کاآدمی۔۔۔ایک عورت کے مموں میں سےدودھ پی سکتا ہے۔۔۔اور وہ بھی اپنی بیٹی
سےبھی چھوٹی عمر کی لڑکی کےمموں سے۔۔۔یقین تو صباء کو کرنا ہی پڑاکیونکہ اگلے ہی
لمحے میجرنے اپنا منہ بانو کے ڈارک براؤن
نپل پر رکھا اور اسےاپنے منہ میں لےکر چوسنے لگا۔۔۔
میجر :بانو سچ میں بہت ہی میٹھادودھ ہے تیرا۔۔۔تیرے شوہر کے تو مزے
ہیں۔۔۔خوب پیتا ہو گا تیرا دودھ دن رات۔۔۔
بانو :ایسا نہیں ہے صاحب جی۔۔۔وہ تو اتنی توجہ ہی نہیں دیتا۔۔۔بس
اپنے چرس کے نشےمیں ہی رہتا ہے۔۔۔اسے چرس پینے سے فرصت ملے تو میرے دودھ کی طرف
دھیان آئے نہ۔۔۔ ویسے صاحب جی کیا صباءمیم صاحب کا بھی دودھ میٹھا ہے۔۔۔؟؟
بانو کے منہ سے اچانک اپنانام سن کر صباء کا دِل زورسے دھڑک اٹھا
اور اس کی بات سن کر کانپ سی گئی۔۔۔
میجر بانو کے مموں کو دباتےہوئے ۔۔۔ارے کہاں یار۔۔۔اُس کے مموں میں
تو ابھی دودھ ہے ہی نہیں۔۔۔
بانو :صاحب اگر کبھی صباء میم صاحب نے اپنے شوہر کو بتادیا کے آپ
اُس کے ساتھ یہ سب کرتے ہو تو۔۔۔؟؟
میجر :جس دن بتائے گی۔۔۔سمجھو وہ اس حرامی کاآخری دن ہو گا اِس
دنیا میں۔۔۔سالا۔۔۔ اوقات دیکھو اس کی کےکیسی صباء جیسی پری ملی ہوئی ہے اسے دن
رات چودنے کو۔۔لیکن
بہن چود کو چودنانصیب نہیں ہے۔۔۔سالا ڈھیلے لن والا۔۔۔
بانو :ویسے صاحب صباء میم صاحب کے شوہر ہیں بہت خوبصورت۔۔۔دیکھو نہ
کتنا گورا چٹا اور ہینڈسم ہے۔۔۔
میجر :سالی حرام زادی کہیں تیرادِل تو اس پر تو نہیں آ گیا۔۔۔سالا
چکنی چمڑی والا چکناہے۔۔۔پتہ ہے ایسے لڑکوں کی ہرکوئی گانڈ مارنے کے پیچھےہوتا
ہے۔۔۔اپنے کالج اور اسکول میں ضرور اِس گانڈو نے اپنی گانڈ مروائی ہوگی۔۔۔شرط لگا
لے مجھ سے تو۔۔۔بہن چود خود دھندے پر لگ جائے نہ تو سالے کو کئی گاہگ مل جائیں گے
اپنی گانڈکے۔۔۔
اشرف کی خوبصورتی اوراُس کے بارے میں ایسی باتیں سن کر صباء حیران
رہ گئی۔۔۔اور شرم بھی آنے لگی میجرکے خیالات پر اشرف کے بارے میں۔۔۔
بانو :صاحب جی کہیں آپ کا اپنادِل بھی تو اشرف صاحب پرنہیں آ
گیا۔۔۔لگتا ہے صباء میم صاحب کو چودنے کے بَعْد اب آپکی نیت ان کے شوہر پر بھی
خراب ہو رہی ہے۔۔۔سچی بتاؤں صاحب اپنی بلڈنگ کی کئی عورتیں چُھپ چُھپ کر اسے
دیکھتی ہیں۔۔۔
میجر :ارے اسی لیے تو میرا دِل اسکی بِیوِی پر آیا ہے۔۔۔رنڈی ہے
بڑی سیکسی چیز۔۔۔
بانو :چھوڑو بھی صاحب آپ ہروقت اسی صباء میم صاحب کی باتیں ہی کرتے
ہو۔۔۔کہیں آپ
کو اس سے پیار تونہیں ہو گیا۔۔۔ہے تو وہ ایسی ہی پیاری
اورخوبصورت۔۔۔
میجر :ارے نہیں نہیں بانو۔۔۔میں اِس عمر میں پیار ویار کے چکروں
میں نہیں پڑنے والا۔۔۔ مجھے تو بس رنڈیاں چاہیےہیں چودنے کے لیے۔۔۔جیسے تو میرے
لیے ایک رنڈی ہے ویسے ہی وہ صباءبھی میرے لیے ایک رنڈی ہی ہے۔۔۔تم دونوں تو بس
میری رکھیل ہو۔۔۔جن کو جب دِل کرے چودلیتا ہوں۔۔۔کون گھر میں عورت کورکھے جب باہر
ہی ایک سےبڑھ کر ایک خوبصورت عورت مل رہی ہو چودنے کےلیے۔۔۔اور وہ بھی بنا کسی
پیسوں کے اپنی مرضی سے چدوائے۔۔۔
صباء کو ایک بار پِھر سےاپنی تزلیل محسوس ہوئی۔۔۔کہ اِس کمینے کو
تو پیار کی کوئی معلومات ہی نہیں ہے۔۔۔صرف اور صرف مجھے اپنی رنڈی اور رکھیل ہی
سمجھتاہے۔۔۔لیکن یہ کون سی نئی بات ہےجو مجھے پتہ چلی ہے۔۔۔یہی باتیں تو اس نےمیرے
سامنے بھی کئی بارکی ہیں میرے منہ پر۔۔۔ذلیل۔۔۔کمینہ۔۔۔یہ سوچتے ہوئے صباء نے ایک
آخری نظر میجر کے لن پر ڈالی اور پِھر کرسی سے اُتَرکر اندر فلیٹ میں آگئی۔۔۔جتنا
اس کا دِل میجر کے لن کو دیکھ کر مچل اٹھا تھا۔۔۔اتنا ہی اس کی باتیں سن کرخراب ہو
گیا۔۔۔کتنا گندہ انسان ہے۔۔۔ذرا بھی پردہ نہیں رکھ سکتا۔۔۔کیا ضرورت ہے آخر
اسےمیرے بارے میں باتیں کرنےکی اس نیچ گھر گھر میں کام کرنے والی عورت سے۔۔۔پتہ
نہیں کہاں کہاں منہ مارتی پھرتی ہو گی۔۔۔اور پتہ نہیں کہاں کہاں باتیں کرتی ہو
گی۔۔۔اور وہ کمینہ بھی تو پتہ نہیں کہاں کہاں منہ مارتاپھرتا ہے۔۔۔اور پتہ نہیں
کہاں کہاں چوت مارتا پھرتا ہے۔۔۔صباء کا دِل ایک بار پِھر سےمیجر کے لیے غصے اور
نفرت سے بھر چکا تھا۔۔۔ہمیشہ اس کی باتوں اوربرتاؤ کی وجہ سے ہی اسےاس سےنفرت ہوتی
تھی۔۔۔لیکن جب بھی اُس کے سامنےجاتی تھی تو اس کی ان سب نفرت بھری اور ذلت آمیز
باتوں کے باوجود بھی خود کو اُس کے سامنے سرنڈرکر دیتی تھی۔۔۔اُس کے جِسَم کے نشے
میں ڈوب جاتی تھی۔۔۔کبھی کبھی تو اسے لگتا تھاکہ جیسے اسے میجر کےجِسَم کی لت لگتی
جا رہی ہے۔۔۔عادی ہوتی جا رہی ہو اسکی چُدائی کی اور اس کی۔۔۔صباء نے اپنے فلیٹ
میں واپس آ کر پانی پیا اور اپنےبیڈروم میں جا کر لیٹ گئی۔۔۔میجر اور بانو کی
چُدائی اور ان کی باتوں کی ساری ریکارڈنگ اس کی آنكھوں کے سامنے چل رہی
تھی۔۔۔کمینہ کیسے چود رہا تھا اس حرامزادی کو۔۔۔اور اسے بھی تو دیکھو کیسےٹانگیں
کھول رہی تھی اس کا لن اپنے اندر لینے کےلئے۔۔۔پتہ نہیں اِس میجر کو مسئلہ کیا
ہے۔۔۔جب خود کا دِل کرتا ہے تو آجاتا ہے۔۔۔نہ کرے تو اسے کوئی فکرنہیں کسی کی
بھی۔۔۔کیا سچ میں ہی اس نےمجھے اپنی رنڈی اور رکھیل سمجھا ہوا ہے کہ جب دِل کرے گا
تو مجھے استعمال کر لے گا ورنہ میں ایسے ہی پڑی رہوں گی۔۔۔اف ف ف ف۔۔۔ پتہ نہیں کس
جانورکے ہتھے چڑھ گئی ہوں۔۔۔اور اس کمینے کی باتیں توسنو اشرف کے بارے میں۔۔۔اچھا
خوبصورت اور گورا چٹا ہے تو اُسکے بارے میں ایسی باتیں کرنے لگا ہے۔۔۔کبھی بھی
نہیں۔۔۔ایسا کبھی بھی نہیں ہوسکتا کہ اشرف نے کبھی گانڈمیں کسی کا لیا ہو۔۔۔بکواس
کرتا ہے وہ کتا۔۔۔جیلس ہو رہا ہے نہ اشرف سے۔۔۔ابھی وہ تکیے سے ٹیک لگا کربیٹھی
یہی سوچ رہی تھی کہ اس کا موبائل بج اٹھا۔۔۔صباء نے بےخیالی میں اپناموبائل اٹھایا
تو حیران رہ گئی۔۔۔ارے یہ، آج کیسے یاد آ گئی اِس کمینے کو۔۔۔کال میجر کی ہی
تھی۔۔۔دِل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن پِھر بھی صباء نے اس کی کال اٹینڈ کر لی۔۔۔
میجر :ہائے میری رنڈی کیا حال ہےتیرا۔۔۔؟
صباء تھوڑے غصے سے۔۔۔تم کو اِس سے کیا۔۔۔کیوں کیا ہے فون مجھے۔۔۔؟؟
میجر :اے اے سالی زیادہ نخرےنہیں دیکھانے کا سمجھی۔۔۔میں نے تو یہ
پوچھنے کے لیےفون کیا تھا کہ شو کیسا لگاآج کا۔۔۔؟؟
صباء تھوڑا گھبرا کر۔۔۔شو و و و و۔۔۔کیسا شو۔۔۔کون سا شو۔۔۔ ؟ ؟ ؟
؟ ؟
میجر زور سے ہنستے ہوئے ۔۔۔وہی شو جو اپنی بالکونی سے جھانک جھانک
کر دیکھ رہی تھی۔۔۔ سالی ڈرامہ کرتی ہے۔۔۔اتنا ہی دِل کر رہا تھاتو آجاتی اندر
ہی۔۔۔دونوں رنڈیوں کو ایک ساتھ ہی چود دیتا۔۔۔
صباء :ن ن ن ن ن نہیں ں ں ں ں۔۔۔مجھے کیا پتہ کیا کر رہے ہوتم اپنے
فلیٹ میں۔۔۔اور مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ جھانکتی پھروں ادھراُدھر۔۔۔
میجر :جتنا مرضی جھوٹ بولتی جا۔۔۔دیکھ تو میں نے لیا ہی
تھاتجھے۔۔۔ویسے بھی دیکھتی رہ مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ویسے یہ بتا آج بھی ریکارڈنگ
کی ہے کہ نہیں۔۔۔کر لیتی تو اچھا تھا۔۔۔ بعد میں بھی مزے لے لے کردیکھتی رہتی اور
اپنی پھدی رگڑتی رہتی۔۔۔ویسے جلد ہی تیرا نمبر بھی لگاؤں گا۔۔۔بلاؤں گا تجھے
بھی۔۔۔فکر نہ کر تو۔۔۔
یہ کہتے ہوئے میجر نے ایک زور دار قہقہ لگایا اور فون بند کر
دیا۔۔۔بنا صباء کا جواب سنے ہی۔۔۔ کتا۔۔۔کمینہ۔۔۔صباء کے منہ سے تو بس یہی نکل
سکا۔۔۔کیوں آؤں میں تیرے کہنےپر کمینے۔۔۔میں کوئی رنڈی ہوں اس بانوکی طرح۔۔۔اف ف ف
ف۔۔۔کتنا غلط ہو گیا اس کمینے نے دیکھ لیا ہے مجھےدیکھتے ہوئے ۔۔۔بہت ہی برا ہوا
ہے۔۔۔پتہ نہیں کیوں دیکھنے لگی میں اوپر چڑھ کر اس کو۔۔۔اچھا چلو دفعہ کرو۔۔۔کرنے
دو جو بکواس کرتا ہے۔۔۔اس کمینے کو تو یہ بھی شرم نہیں ہے کہ کوئی دیکھ رہا ہےتو
بس کر دوں یا کہیں اورچلا جاؤں۔۔۔پتہ چل گیا پِھر بھی لگا رہاوہیں پر بے شرمی
سے۔۔۔دو دن اور بھی گزر گے اس دن کے صبح نو بجے۔۔۔اشرف اپنے کام پر جا چکا
تھا۔۔۔تقریباً گیارہ بج رہے تھے صبح کے اور صباء ابھی کچن سمیٹ کر صفائی وغیرہ ہی
کر رہی تھی کہ اس کا فون بج اٹھا۔۔۔اپنے کام میں مصروف اپنےہی خیالوں میں گم صباء
ایک بار تو ڈر ہی گئی۔۔۔پِھر ہنس پڑی کہ وہ فون کی بیل سے ہی دَر گئی تھی۔۔۔لیکن
جب اپنا موبائل فون اٹھا کر دیکھا تو پِھر سےچونک گئی۔۔۔میجر کی کال تھی۔۔۔اس کو
کیا تکلیف ہوگئی ہےاب صباء کو فون اٹینڈ کرنا ہی پڑا۔۔۔ایسے ہی اٹینڈ نہ کر کے
اسےاپنے ذمے نہیں ڈلوانا چاہتی تھی۔۔۔فون اٹینڈ ہوتے ہی۔۔۔
میجر :ہاں میری رانڈ چل آجا جلدی سے میرے فلیٹ میں۔۔۔پیچھے بالکونی
سے ہی آجا۔۔۔ جلدی آنا اور کوئی نخرا نہیں سمجھی۔۔۔
فون کٹ۔۔۔
صباء : نہیں۔۔نہیں میں نہیں آ رہی۔۔۔
لیکن دوسری طرف تو اسکی آواز سننے والا کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔میجر
تو فون بند کر چکا ہواتھا۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔۔اب کیا کروں۔۔۔اِس کمینے کو پِھر سے
یادآگئی ہے میری۔۔۔پِھر سے ذلیل کرے گا۔۔۔نہیں جاتی میں بھی۔۔۔تو کیا وہ سیدھا
ادھر نہیں آجائے گا اگر میں نہ گئی تو۔ اف ف ف ف۔۔۔کیا مصیبت ہے نہ۔۔۔پِھر سے وہی
سب کچھ۔۔۔ہاں پِھر سے چودے گا مجھے۔۔۔اسی وحشی طریقے سے۔۔۔وہ کمینی بانو نہیں آئی
ہوگی نہ آج تو اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے مجھے بلالیا ہے۔۔۔جانا تو پڑے گا ہی آخر
اتنے دن کے بَعْد جو بلایا ہے۔۔۔اپنی دوبارہ سے ہونے والی چُدائی کا سوچ کر اچانک
سے صباء کی حالت عجیب ہونے لگی۔۔۔صباء نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اپنا کام چھوڑ
کرکھڑی ہو گئی۔۔۔میجر کے پاس جانے کے لیے۔۔۔اپنی چوت چدوانے کو جانےکے لیے۔۔۔کوئی
پندرہ یا بیس منٹ کےبَعْد صباء اپنی بالکونی میں کھڑی تھی۔۔۔ادھر اُدھر نیچے
دیکھا۔۔۔لیکن کوئی نہیں تھا۔۔۔انتہائی تیز دھڑکتے ہوئے دِل کے ساتھ صباء نے درمیان
کی دیوار کو کراس کیااور اگلے ہی لمحے وہ میجرکی بالکونی میں کھڑی تھی۔ ہاتھ پیر
ٹھنڈے ہو رہے تھے۔۔۔اگر کسی نے دیکھ لیا تو۔۔۔اسی سوچ کے ساتھ ہی صباءنے میجر کے
فلیٹ کا بالکونی والا دروازہ پُش کیا۔۔۔اوہ نو۔۔۔یہ تو اندر سے بند ہے۔۔۔کہیں دفعہ
تو نہیں ہوگیا وہ کمینہ مجھے آنے کا کہہ کر۔۔۔نوک کرتی ہوں۔۔۔یہی سوچ کر جلدی سے
صباءنے دروازہ نوک کیا۔۔۔ایک بار۔۔۔دو بار۔۔۔تیسری بار نوک کیا تو دروازہ کھل گیا۔۔۔اور
ساتھ ہی صباء کا دِل مانو اچھل کر حلق میں ہی آگیا۔۔۔دروازہ بانو نے کھولا تھا
اورصباء کو دیکھ کر حیران ہورہی تھی اورپِھر مسکرانے لگی۔۔۔صباء کی کچھ سمجھ میں
نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے۔۔۔ کیسےاس نوکرانی کو بتائے کہ وہ کیوں میجر کے گھر آئی
ہےاور وہ بھی پیچھے بالکونی کے دروازے سے۔۔۔صباء ایکدم سے اسے دیکھ کر پریشان ہو
گئی کہ یہ کہاں سے ادھر آگئی۔۔۔اور مجھے یہاں کھڑا دیکھ کر پتہ نہیں کیا سوچے
گی۔۔۔پتہ نہیں یہ میجر کیا کیاگندے کام کرتا ہے۔۔۔اگر یہ کمینی آگئی تھی تومجھے
روک دیتا کہ نہ آؤ۔۔۔
بانو :صباء میم صاحب آپ۔۔۔؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟۔۔۔
صباء :وہ۔۔۔و و و و وہ۔۔۔میں۔۔۔
صباء کو تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کیا بولے۔۔۔بانو مسکرئی اور
بولی۔۔۔
صباء بی بی آپ اندر تو آجاؤ۔۔۔ایسے کوئی آپ کو یہاں کھڑے دیکھ لے
گا۔۔۔اور دیکھ لیا تو پِھر ایسے ہی الٹی سیدھی باتیں سوچے گا۔۔۔
بانو کے چہرے پربڑی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔۔۔صباء نے بھی یہی مناسب
سمجھا کہ اندر چلی جائےاِس سے پہلے کہ کوئی اسےوہاں کھڑے دیکھے۔۔۔صباء اندر
آگئی۔۔۔بانو نے دروازہ بند کر دیا۔۔۔شرمندگی اور گھبراہٹ سےصباء کی حالت بری ہو
رہی تھی۔۔۔اسے میجر پر غصہ بھی آرہاتھا۔۔۔اندر آئی تو دیکھا کہ سیٹنگ روم میں کوئی
بھی نہیں تھا۔۔۔صباء ادھر اُدھر میجر کودیکھنے لگی۔۔۔بانوصباء کی گھبراہٹ کوانجوئے
کر رہی تھی۔۔۔بولی۔۔۔
میجر صاحب بیڈروم میں ہیں کوئی جلدی کا کام ہے تواندر ہی چلی
جائیں۔۔۔
صباء نے شرمندگی سے سرجھکا دیا۔۔۔وہ بری طرح سے پھنس چکی تھی۔۔۔کچھ
سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔۔۔وہ بری طرح سے پکڑی جاچکی تھی۔۔۔اس معمولی سرونٹ
کے سامنے اس کی حقیقت پوری طرح سے کھل چکی تھی۔۔۔کسی چور کی طرح اس بانوکے سامنے
کھڑی اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مسل رہی تھی۔۔۔سر جھکاے ہوئے ۔۔۔
صباء :میں جا رہی ہوں۔۔۔صباء دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔
بانو :ارے ارے میم سب روک جاؤابھی آ رہے ہیں میجرصاحب۔۔اچھا میں
بلا لاتی ہوں۔۔۔
بانو نے بیڈروم کے قریب جاکر بیڈروم کا دروازہ کھولااور اندر جھانک
کر بولی۔۔۔
صاحب جی وہ اشرف صاحب کی بِیوِی آئی ہیں آپ سے ملنے۔۔۔شاید کوئی
ضروری کام ہے۔۔۔ میجر بھی باہر نکل آیا۔۔۔صباء نے اسے دیکھ کر سرجھکا لیا۔۔۔اس نے
ایک شورٹ نیکیر اور سلیی ویسٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔اُس کے بازؤں اور رانوں کےسولڈ مسلز
بالکل ننگے تھے۔۔۔وہ تو اِس میجر کو پُورا ننگابھی دیکھ چکی تھی۔۔۔اِس لیے اسے
حیرت نہیں ہوئی۔۔۔
میجر :ارے بانو ہمارے گھر میں مہمان آئے ہیں کوئی چائےپانی کا تو
لاؤ ان کے لیے۔۔۔
صباء :نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔مجھے کچھ نہیں۔۔۔لینا۔۔۔
بانو ہنستے ہوئے ۔۔۔صباء جی لینا تو پڑے گا ہی۔۔۔
اور پِھر ہنستی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔صباء اس کی بات کا مطلب
سمجھ گئی اور اسے اس کی بات اور ہنسی پر بہت زیادہ غصہ بھی آیا اور شرمندگی بھی
ہونے لگی۔۔۔جیسے ہی بانو کچن میں گئی تو صباء جو میجرکے سامنے ایک صوفہ پر بیٹھ
چکی تھی بولی۔۔۔
کیوں بلایا ہے مجھے۔۔۔؟؟؟
میجر ہنستے ہوئے ۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔پتہ تو ہے تجھے اچھے سے کہ کیا
کام ہے مجھے تم سے۔۔۔
صباء تھوڑے غصے سے کچن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔یہ ہے تو سہی
تو پِھر۔۔۔
میجر ہنستے ہوئے ۔۔۔ارے جو بات تیری پھدی میں ہے وہ اِس میں کہاں
ہے۔۔۔
صباء :لیکن۔۔۔اس کو تو جانے دیتے پہلے۔۔۔
میجر :ارے فکر نہ کر۔۔۔اِس سے کیا پردہ ہے۔۔۔بس تھوڑا سا کام رہتا
ہے اس کا پِھر اِس نے چلے جانا ہے۔۔۔اُس کے بَعْد بس تو اور میں۔۔۔پِھر جیسے تو
کہے گی ویسےتجھے چود دوں گا۔۔۔ صباء کا سر شرم سے جھک گیا۔۔۔کیا ابھی بھی وہ یہی
سمجھ رہا ہے کہ میں اس سے چودوانے کے لیے آئی ہوں۔۔۔
صباء تھوڑا تیکھا بولتے ہوئے۔۔۔کس لیے بلایا تھا مجھے تم نے۔۔۔
میجر :ارے رنڈی زیادہ بھولی نہ بن یہ تو بھی جانتی ہے کہ میں نے
تجھے کیوں بلایا ہے اور یہ بھی اچھے سے جانتی ہےکہ تو یہاں کیوں آئی ہے۔۔۔
صباء خاموش ہوگئی۔۔۔تبھی کچن سے بانو اُس کےلیے جوس گلاس میں ڈال
کرلے آئی۔۔۔ اور صباء کو پیش کیا۔۔۔صباء نے خاموشی سے وہ گلاس لے لیا۔۔۔اسے پتہ
تھا کہ وہ بنا میجر کی اِجازَت کے اب اُس کےفلیٹ سے نہیں جا سکتی۔۔۔وہ تو بانو سے
نظریں بھی نہیں ملا پا رہی تھی۔۔۔اِس قدر خود کو شرمندہ محسوس کر رہی تھی۔۔۔
میجر :اے بانو چل جلدی سے جوکام رہ رہا ہے وہ ختم کر لے۔۔۔
بانو:صاحب جی وہ صباء میم صاحب کے سامنے ہی۔۔۔تھوڑا مسکرا کر
بولی۔۔۔
میجر :ہاں ہاں کر لے اس کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔۔۔
صباء پریشان ہو رہی تھی کہ پتہ نہیں کیا کام کرنے لگےہیں۔۔۔کہیں
میرے سامنے تو اسے چودنا شروع نہیں کر دے گامیجر۔۔۔اوہ نو و و و و۔۔۔لیکن صباء کو
تھوڑا ری لیوہوا جب اس نے بانو کو بیڈروم میں جاتے دیکھا اورمیجر صوفہ پر بیٹھا
تھا۔۔۔
صباء : ک ک۔۔۔ک ک۔۔۔کیا کرنے جا رہے ہو آ پ ؟ ؟؟
بانو اندر سے نکلتی ہوئی بولی۔۔۔کچھ نہیں میم صاحب بس تھوڑی سی
مالش کرنی ہےصاحب جی کی پِھر میری چھٹی۔۔۔
وہ اندر سے نکلی تو اُس کےہاتھ میں آئل کی بوتل تھی۔۔۔پتہ نہیں
کیسا آئل تھا۔۔۔شاید کوئی اِسْپیشَل ہی تھا۔۔۔صباء کو حیرت ہوئی کہ یہ میجر اِس
عورت سے اپنی مالش کروائے گا۔۔۔ لیکن وہ چُپ ہی رہی۔۔۔بانو صوفہ کی طرف
بڑھی۔۔۔میجر نے اپنی سلیی ویسٹ اُتار دی۔۔۔ صباء اُس کے صوفہ سےصرف دو تین فٹ کے
فاصلےپر بیٹھی ہوئی تھی دوسرےصوفہ پر۔۔۔ میجر نے اپنی ویسٹ صوفہ پر اچھال دی جوکہ
سیدھی صباء کی گودمیں آ گری۔۔۔صباء کو فوراً ہی اس بونیان میں سے آتی ہوئی میجر کے
جِسَم کے پسینے کی بدبو آنے لگی۔۔۔لیکن اس نے خاموشی سےاس بونیان کو اپنی گودسے
سرکا کر نیچے صوفہ پررکھ دیا میجرصوفہ پر لیٹ گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

0 تبصرے
THANKS DEAR