مرتے دم تک۔ بارہویں قسط

 



مرتے دم تک

تحریر: ماہر جی

بارہویں قسط

 

ارے آج کیا ایسے ہی کرےگی مالش۔۔۔سارےکپڑے خراب کرے گی اپنے۔۔۔جا تبدیل کر آ نا۔۔۔

بانو :لیکن صاحب۔۔۔و و وہ میم صاحب کے سامنے۔۔۔

میجر :بہن چود۔۔۔بکواس کرتی ہے۔۔۔جو میں نے کہا ہے ویسا ہی کر۔۔۔آگے آگے مجھے سبق نہ پڑھا۔۔۔

بانو تو بانو۔۔۔صباء بھی ایکدم میجر کےاِس برتاؤ کی وجہ سے ڈرگئی۔۔۔بانو نے جلدی سے آئل کی بوتل صوفہ کے پاس ٹیبل پررکھی اور صباء کے قریب ہی پڑی ہوئی میجر کی ویسٹ اٹھائی اور اندربیڈروم میں بھاگ گئی۔۔۔صباء سہمی ہوئی انتظار کررہی تھی کہ پتہ نہیں اب کیاہونا ہے۔۔۔اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اٹھ کر جانے کی بات کرے۔۔۔میجر اپنے پیٹ کےبل صوفہ پر لیٹ گیا ہوا تھا۔۔۔اس کا منہ دوسری طرف تھا۔۔۔وہ صباء سے بھی کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔جیسے وہاں پر کوئی ہو ہی نہ۔۔۔صباء کی نظریں میجر کی سڈول کمر کو تاک رہی تھیں۔۔۔ایک ایک مسل صاف نظر آرہاتھا۔۔۔چند لمحوں کے لیے میجر کاخوف پِھر سے کم ہو گیاکہیں اور پِھر سے اس کاجِسَم اُس کے ہوس اور دماغ پر چھانے لگا۔۔۔اتنے میں بانو اندر سے نکلی تو صباء کی آنکھیں ہی پھیل گیں اس کو دیکھ کر۔۔۔اس نے میجر کی وہی اتاری ہوئی بلیک ویسٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔جو کہ اس کی ہالف رانوں تک آ رہی تھی۔۔۔گلا کافی لٹک رہا تھا۔۔۔ جس میں اُس کے آدھے ممےنظر آ رہے تھے۔۔۔نیچے شاید اس نے ایک چھوٹی سی نیکیر پہن رکھی تھی۔۔۔لیکن اس کی آدھی رانیں ہی کوور ہو رہی تھیں۔۔۔باقی پوری ٹانگیں بالکل ننگی تھیں۔۔۔صباء سے نظریں ملیں تو بانوتھوڑا سا شرماتی ہوئی مسکرا دی۔۔۔صباء حیرت سے سوچنے لگی۔۔۔اِس رنڈی کو بھی شرم آتی ہے کیا۔۔۔بانو صوفہ کی طرف بڑھی اور آئل کی بوتل ٹیبل سےاٹھا کر صوفہ کی سائڈ پرآگئی۔۔۔پِھر اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بوتل سے آئل میجر کی کمر پر گرایا اوردھیرے دھیرے ہاتھ سے اسکی کمر کا مساج کرنے لگی۔۔۔آئل کمر پر گرنے اور اُسکے ملنے سے میجر کی بلیک کمر چمکنے لگی۔۔۔آہستہ آہستہ بانو کے ہاتھ میجر کی پوری کمر پر سرک رہے تھے اور وہ میجر کی کمراور اُس کے کاندھوں اورگردن پر آئل کی مالش کر رہی تھی۔۔۔بانو کے ہاتھوں کو میجر کےجِسَم پر پھسلتا ہوا دیکھ کرصباء کو عجیب سی فیلنگ ہو رہی تھی۔۔۔کمر پر مالش کرنے کے بَعْدبانو میجر کی رانوں پر آگئی۔۔۔سولڈ اور بلیک رانوں پر آئل گرا کر دھیرے دھیرے ان کی مالش کرنے لگی۔۔۔اُس کے ہاتھ میجر کی رانوں پر پھسل رہے تھے اور اُس کےساتھ ساتھ صباء کی نظریں بھی میجر کے جِسَم پرپھسل رہی تھیں۔۔۔میجر کا سولڈ جِسَم دیکھ کر ایک بارپِھر سے صباء کے جِسَم میں آگ لگ رہی تھی۔۔۔میجر کی سولڈ گانڈ اُس کے ٹائیٹ نیکیر میں پھنسی ہوئی تھی۔۔۔بہت ہی سولڈ اور سیکسی لگ رہی تھی۔۔۔بالکل جیسے کسی باڈی بلڈرکی ہو۔۔۔نیچے رانوں اور ٹانگوں کاایک ایک مسل الگ الگ نظرآرہا تھا اور بانو کے آئل لگانےکی وجہ سے چمک رہا تھا۔۔۔صباء کا حلق خشک ہو رہاتھا۔۔۔جیسے ہی اسے اِس بات کااحساس ہوا تو اسے خیال آیاکہ اُس کے ہاتھ میں توجوس کا گلاس ہے۔۔۔جسے وہ میجر کا جِسَم دیکھ کر بھول ہی گئی تھی۔۔۔صباء نے اس میں سے ایک گھونٹ لیا اور اپنی خشک ہوتی ہوئی زبان اور گلے کوتر کر لیا۔۔۔دوسرا گھونٹ پی ہی رہی تھی کہ جیسے اچانک سےاُس کے گلے میں اٹک سا ہی گیا۔۔۔کیونکہ بانو کی آواز آئی تھی۔۔۔

بانو :صاحب جی سیدھا ہو جائیں تھوڑا۔۔۔

اگلے ہی لمحے میجر نے کروٹ لی اور اپنی کمر کےبل صوفہ پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔بانو ابھی بھی میجر کی سائڈ میں کھڑی ہوئی تھی۔۔۔آہستہ سے اپنے ہاتھ میں پکڑئی ہوئی بوتل سے آئل اُس کے سینے پر گرایا اوراُس کے سینے کا مساج کرنےلگی۔۔۔صباء کی نظریں تو میجر کےپورے جِسَم پر پھسل رہی تھیں۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر میجرکے ٹائیٹ نیکیر پر پہنچی تو۔۔۔اسے احساس ہوا کہ وہ توبہت زیادہ پھولی ہوئی ہے۔۔۔بالکل ایسے جیسے اس نےاپنے نیکیر کے اندر ایک بہت بڑا سا کیلا چھپایا ہوا ہو۔۔۔جبکہ صباء کو پتہ تھا کہ یہ کیلا۔۔۔تو میجر کا اپنا کیلا ہے۔۔۔میجر کا کالا کیلا۔۔۔ میجر کا کالا لن ۔۔۔جو اس کی چوت میں کئی بار قیامت مچا چکا ہے۔۔۔صباء کو صاف نظر آرہا تھاکہ میجر کا لن اُسکے نیکیر میں کھڑا ہو چکاہوا ہے۔۔۔صباء کی نظریں بانو کی نظرسے ٹکرائی تو بانو مسکرا دی۔۔۔اور صباء کو اپنی نظر جھکانی پڑی۔۔۔بانو میجر کے سینے پر سخت ہو رہے اُس کے نپلز پر آئل لگارہی تھی۔۔۔اور دھیرے دھیرے ان کواپنی انگلیوں کے بیچ میں لےکر مسل رہی تھی۔۔۔میجر آنکھیں بند کیے ہوئے بانو کے ہاتھوں کے مساج کوانجوئے کر رہا تھا۔۔۔اُدھر صباء کی پھدی میں بھی ہلچل سی شروع ہوچکی تھی۔۔۔دھیرے دھیرے گیلی ہونےلگی تھی۔۔۔ اس کی پیاس بھی جاگنےلگی تھی۔۔۔بانو اٹھی اور اپنی ننگی ٹانگوں کے ساتھ صوفہ پرچڑھی اور میجر کی دونوں ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئی۔۔۔میجر نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر بانوکو بیٹھنے کی جگہ دے دی۔۔۔بانو کی ننگی ٹانگیں میجرکی ننگی رانوں سے ٹچ ہورہی تھیں۔۔۔ اب اِس پوزیشن میں بیٹھ کربانو نے میجر کی رانوں پرآئل لگانا شروع کر دیا۔۔۔اُس کے ہاتھ میجر کی کالی سولڈ تھیگس پر پھسل رہےتھے۔۔۔دھیرے دھیرے اُوپرکو جاتی۔۔۔اُس کے لن کی طرف اوردونوں طرف سے اُوپر تک جاکر نیچے کو آجاتی واپس۔۔۔جیسے جیسے بانو کے ہاتھ میجر کے لن کی طرف بڑھتے ویسے ویسےصباء کے دِل کی دھڑکن تیزہو جاتی۔۔۔وہ اپنے سامنے ہو رہےاِس ڈرامے میں پوری طرحسے کھو چکی ہوئی تھی۔۔۔اسے کچھ احساس نہیں تھاکہ ایک معمولی کام کرنےوالی آدھ ننگی حالت میں بیٹھی ہوئی میجر کے جِسَم پر مالش کر رہی ہے۔۔۔ اسے تو بس میجر کے لن کاخیال تھا جوکہ اس کی چھوٹی سی ٹائیٹ نیکیر میں بالکل تنا ہوا تھا۔۔۔ بانو کا ہاتھ اب میجر کے لن کے ارد گرد ہی پھسل رہا تھا۔۔۔وہ صباء کی طرف دیکھتی ہوئی میجر کے لن کو تھوڑاسا ٹچ کر دیتی۔۔۔پِھر اس نے صباء کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے میجرکی نیکیر کے ایلاسٹک کوپکڑا اور اسےنیچے کھینچنے لگی۔۔۔صباء کے منہ سے ہلکی سی بہت ہی ہلکی سی مزاحمتی سسکیاں نکلیں۔۔۔ن ن ن ن ن نو و و و۔۔۔مم م م م م م۔۔۔لیکن بانو نے اس کی پرواہ کیے بنا ہی میجرکا نیکیر نیچے کھینچ کر اُتاردیا اور اگلے ہی لمحے میجرکا کالا لن بالکل سیدھادونوں لڑکیوں کی نظروں کے سامنے لہرانے لگا۔۔۔بالکل سیدھا کھڑا تھا بنا بانوکے ہاتھ کی سپورٹ کے بھی۔۔۔ صباء کی نظریں بھی میجرکے لن پر ہی تھیں۔۔۔جب اس نے دیکھا کہ دونوں،میجر اور بانو ،اسی کو دیکھ رہ رہے ہیں تواس نے اپنی نظریں جھکا لیں۔۔۔لیکن زیادہ دیر تک اپنی آنكھوں کو اس سے ہٹا نہ سکی اور پِھر سے اس کی نظر جا کر اسی لن پر ٹھہرگئی۔۔۔بانو نے آہستہ سے اپنا ہاتھ میجر کے کھڑے ہوئے لن پرپھیرنا شروع کر دیا۔۔۔اپنی بوتل اٹھائی اور آہستہ سے اس میں سے آئل میجرکے لن کے اوپر گرانے لگی۔۔۔آئل اوپر سے بہتا ہوا نیچے کوجانے لگا۔۔۔بانو نے فوراً سے ہی اس آئل کو واپس اُوپر کی طرف لےجا کر اُس کے لن پر ملناشروع کر دیا۔۔۔میجر کا کالا لن آئل سے چمکنے لگا۔۔۔بانو دھیرے دھیرے نیچے سےاُوپر اور اوپر سے نیچے کومیجر کے لن کی مالش کررہی تھی۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں میں اس نے میجر کا لن پکڑا اوردونوں ہاتھوں کی مٹھی میں اس پر آئل اوپر سے نیچےکو ملنے لگی۔۔۔کالے لن کے اُوپر چمکتی ہوئی بالکل سیاہ پھولی ہوئی ٹوپی آہستہ آہستہ اوربھی پھولتی جا رہی تھی۔۔۔کبھی دونوں ہاتھوں سے ملنے لگتی لن کو کبھی میجر کے لن کے نیچےکی گولیوں کو سہلانے لگتی۔۔۔بار بار آئل لگا کر میجر کے لن کو اور بھی چکنا کیے جا رہی تھی۔۔۔بانو کے ہاتھ لگنے اور مالش کی وجہ سے میجر کا لن اوربھی سخت ہو گیا ہوا تھا۔۔۔میجر آنکھیں بند کیے بانو کےہاتھوں کا مزہ لے رہا تھا۔۔۔اور صباء تو آنکھیں پھاڑےبس میجر کے لن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔اسے اب یہ بھی ہوش نہیں تھی کہ بانو اسے دیکھ رہی ہے۔۔۔ اسے تو اب بانو سےبھی جیلسی فیل ہو رہی تھی کہ وہ میجر کے اِس قدر پیارے نظر آنے والے لن سے کھیل رہی ہے۔۔۔ویسے تو کئی بار یہ لن اسکی چوت کے اندر جا چکا تھالیکن آج تک کبھی بھی صباءنے اتنی غور سے ،اتنی دیر اور اتنی قریب سےاِس لن کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔اس کی پھدی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔وہ اپنی دونوں رانوں کو دباتی ہوئی اپنی پھدی کو دبانے اور سہلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔اس کا تو دِل چاہ رہا تھا کہ بانو کو ہٹا کر خود اس کا لن اپنے ہاتھوں میں لے لے اوراس کی مالش کرنا شروع کردے۔۔۔لیکن پتہ نہیں کیسے اورکیوں وہ خودکو روکے بیٹھی تھی۔۔۔اُدھر بانو میجر کا لن ہاتھ میں لیے اس پر آئل کی مالش کر رہی تھی۔۔۔بڑے ہی پیار سے اس کی پھولی ہوئی ٹوپی کے اوپرآئل مل رہی تھی۔۔۔جیسے اسے اچھے سے چکناکر کے اپنی چوت میں لیناچاہ رہی ہو۔۔۔بانو اب میجر کی ٹانگوں کےدرمیان میں جھکی ہوئی تھی۔۔۔ اپنے گھٹنوں کے بل اور اُسکا چہرہ میجر کے لن کےبالکل قریب آرہا تھا۔۔۔صرف چند انچ کے فاصلے پر۔۔۔بانو نے اپنی زبان سے میجرکے لن کی ٹوپی کو چھو لیا۔۔۔س س س س س س۔۔۔ جیسے ہی زبان تو بانوکی چھوئی میجر کے لن سےلیکن سسکی صباء کے منہ سے نکل گئی۔۔۔اور وہ بھی اتنی تیز کےمیجر اور بانو دونوں نے ہی سن لی۔۔۔اور دونوں ہی صباء کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔صباء نے دونوں کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایاتو ایکدم سے شرما گئی اورمیجر کے لن پر سے اپنی نظرہٹا کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور جیسے ہی دروازے کی طرف بڑھنے لگی تو۔۔۔ میجر :کہاں جا رہی ہو۔۔۔ ؟؟ ؟ ؟ ؟ ؟

میجر کی روب دار آواز سن کر صباء گھبرا گئی۔۔۔

صباء :ج ج ج ج ج جی۔۔۔گھر جا رہی ہوں۔۔۔

میجر :میں نے اِجازَت دی ہے کیاتجھے۔۔۔ ؟ چل بیٹھ جا چُپ کر کے جہاں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ صباء گھبرا گئی ہوئی تھی۔۔۔ڈر گئی ہوئی تھی۔۔۔میجر کی آواز سن کر دوبارہ سے دبک کر بیٹھ گئی اسی کرسی پر۔۔۔جہاں پر اب اس سے بیٹھنامشکل ہو رہا تھا۔۔۔کیونکہ اس کی پھدی۔۔۔ اس کا جِسَم۔۔۔اس کی پیاس اسے تنگ کررہی تھی۔۔۔صباء کی پھدی نے تڑپتےہوئے پانی چھوڑنا شروع کردیا ہوا تھا۔۔۔لیکن بے بسی سے بانو کی طرف ایک نظر ڈالی اورواپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔۔۔بانو کا ہاتھ ابھی بھی میجرکے لن پر ہی تھا جسے وہ بہت ہی پیار سے سہلا رہی تھی۔۔۔اس کی جھجھک بھی ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔صباء کی نظریں بھی دوبارہ سے میجر کے لن پر جم گیں۔۔۔

میجر :بہن چود۔رنڈی کو سب کچھ اچھا لگ رہا ہے دیکھنا بس ایسے ہی نخرے چودنے کا شوق ہے۔ میجر کی بات سن کر صباءاور بھی شرمندہ ہو گئی اور اپنی نظریں میجر کے لن پر سے ہٹا کر نیچے فرش پرٹکا لیں۔۔۔لیکن آخر کب تک۔۔۔بانو آہستہ آہستہ اپنی زبان سے میجر کے لن کو چھو رہی تھی۔۔۔اس کی پھولی ہوئی ٹوپی کوآہستہ آہستہ سے چاٹ رہی تھی۔۔۔اُس کے نیچے کے رم پر آہستہ آہستہ اپنی زبان پھیر رہی تھی اور اس کی ٹوپی کے اُوپراپنی زبان پھیرتے ہوئے میجر کے کالے کالے گول بالز کوبھی سہلا رہی تھی۔۔۔میجر کا لن پورے کا پُوراچمک رہا تھا۔۔۔بانو نے میجر کے لن کی پھولی ہوئی ٹوپی کو اپنےہونٹوں کے اندر لیا اور اسےآہستہ آہستہ چوسنے لگی۔۔۔میجر کے لن کو اپنے منہ کےاندر تک لے جانے لگی۔۔۔آہستہ آہستہ۔۔۔اپنے منہ کو نیچے لاتے ہوئے ۔۔۔میجر کا لن اندرلے جاتے ہوئے ۔۔۔صباء کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ صباء نے بھی واپس اسی کودیکھنا شروع کر دیا ہوا تھا۔۔۔دونوں کی نظریں مل گئی ہوئی تھیں۔۔۔بنا ہٹائے ہوئے اور بانو بھی صباء کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے میجر کے لن کو چوس رہی تھی۔۔۔اچانک سے میجر نے بانو کےسینے کی طرف اپنےہاتھ بڑھائے اور ویسٹ کےاوپر سے ہی اُس کے دونوں مموں کو پکڑ کر دبانا شروع کر دیا۔۔۔میجر کا موٹا لن منہ کے اندرلیے ہوئے بانو کےمنہ سے سسکاریاں نکلنےلگیں۔۔۔مم م م م م م۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔میجر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اُس کے کاندھے پر رکھااور اس کی پہنی ہوئی ویسٹ کو پکڑ کر نیچے اُسکے کاندھوں سےنیچے سرکا دیا۔۔۔اگلے ہی لمحے بانو کے دونوں ممے ننگے ہو کر میجر کےہاتھوں میں تھے اور صباء کی آنكھوں کے سامنے۔۔۔میجر نے بانو کے مموں کو آہستہ آہستہ دبانا شروع کر دیا۔۔۔ اپنے سے صرف تین فٹ کےفاصلے پر۔۔۔اپنے سے اتنا قریب۔۔۔اپنی زندگی میں پہلی بار۔۔ کسی بھی دوسری عورت کےممے اپنے اتنے قریب صباءپہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔۔اِس سے پہلے بھی بانو کےممے دیکھ چکی تھی لیکن دونوں بار بہت دور سے۔۔۔جہاں سے ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں سکی تھی۔۔۔لیکن آج صباء کی آنكھوں کےبالکل سامنے تھے بانو کے ممے۔۔۔صباء نے دیکھا کہ بانو کےممے اُس کے مموں سے بڑےنہیں ہیں۔۔۔نہ ہی خوبصورت۔۔۔سانولا سا رنگ تھا۔۔۔جیسے باقی جِسَم کا کلر تھااور ڈارک براؤن کلر کے نپلزتھے۔۔۔جبکہ صباء کے ممےبالکل گورے تھے اور نپلزبھی بالکل پنک رنگ کے تھے۔۔۔صباء کو لگا کہ بانو کے ممے34 سائز کے ہوں گے۔۔۔لیکن پتہ نہیں اِس میجر کوکیا مزہ آرہا تھا اُس کے مموں سے کھیلنے میں جو وہ ان کو دبائے جا رہا تھا۔۔۔ان کو صباء کی آنكھوں کے سامنے ننگا کر کے۔۔۔بانو بھی اب سیدھی ہو کر بیٹھ چکی ہوئی تھی اوربس میجر کے لن کے اوپر آئل لگا رہی تھی۔۔۔اس کو اور بھی چکنا کر رہی تھی۔۔۔آئل لگنے کے بَعْد تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میجر کا لن پہلے سے بھی موٹا اور لمبا ہوگیا ہو۔۔۔اُدھر صباء کی اپنی حالت بھی خراب ہو رہی تھی۔۔۔وہ اپنی جگہ پر بیٹھی ہوئی مچل رہی تھی۔۔۔دھیرے دھیرے اپنی رانوں کو دبا رہی تھی۔۔۔اپنی چوت کو مسلنے اور دبانے کے لیے لیکن بنا کسی کا ہاتھ لگے۔۔۔یا اپنا ہاتھ لگے بنا کیسے اسکی چوت کو سکون مل سکتاتھااور اس وقت۔۔۔اس وقت تو اس کی پھدی ایک لن مانگ رہی تھی۔۔۔موٹا۔۔۔کالا۔۔۔لمبا لن۔۔ میجر کا لن ۔۔۔کوئی اور نہیں بس یہی لن جو اس کی آنكھوں کے سامنے اس بانو کےہاتھوں میں مچل رہا تھااور میجر اب اس کی ننگی رانوں کو سہلا رہا تھا۔۔۔میجر نے کچھ اشارہ کیا اوراس نے ایک نظر صباء کی طرف دیکھا اور پِھر۔۔۔اپنی جگہ سے۔۔۔میجر کی دونوں ٹانگوں کےدرمیان سے تھوڑا پیچھےکو ہوتے ہوئے ۔۔۔اپنی پہنی ہوئی چھوٹی سی نیکیر کو نیچے اتارناشروع کر دیا۔۔۔صباء کا حلق ایکدم سےخشک ہو گیا۔۔۔اس کا سانس رکنے لگا۔۔۔لیکن اسے پتہ تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی۔۔۔اٹھ کے بھی نہیں جا سکتی اور اپنی چوت کو مسل بھی نہیں سکتی۔۔۔ بس خاموشی سے۔۔۔بے بسی سے اِس ہوٹ سین کو دیکھ سکتی ہے جو اُسکے سامنے ہو رہا ہےاور بس اپنے بدن کی پیاس کو اور بھی بڑھا ہی سکتی ہےاور یہی وہ کر رہی تھی۔۔۔بانو نے اپنے جِسَم کے نچلے حصے کواپنی نیکیر سے آزاد کر کےدوبارہ سے خود کو میجر کی رانوں کے درمیان سیٹ کر لیا۔۔۔آہستہ سے میجر کے لن کودوبارہ اپنے ہاتھ میں لیا اوراسے سہلانے لگی۔۔۔میجر کے لن پر اور بھی آئل گرایا اور پِھر اپنے ہاتھ میں آئل لے کر اپنی چوت کےباہری ہونٹوں پر مل دیااور پِھر صباء کو حیران ہی تو کر دیا۔۔۔جب میجر کے اوپر چڑھ کر۔۔۔میجر کے لن کو اُس کے پیٹ پر لٹایا اور پکڑ کر اپنی چوت کے لبوں کو اس کی لمبائی پررکھا اور آہستہ آہستہ اپنی چوت کو اُس کے لن پر رگڑنے لگی۔۔۔آگے سے پیچھے اور پیچھےسے آگے کو۔۔۔جیسے۔۔۔جیسے۔۔۔اپنی پھدی سے میجر کے لن کی مالش کر رہی ہواور ہو بھی تو یہی رہا تھا نہ۔۔۔بانو کی پھدی کے لبوں پر لگاہوا تیل میجر کے لن کی مالش کر رہا تھااور شاید اس آئل میں بانوکی چوت کا پانی بھی شامل ہو رہا تھا۔۔۔جس کا کسی کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔اچانک میجر بانو کے ایک ممے کو دبا کر بولا۔۔۔ سالی کتنی بار تجھے کہا ہےکہ پھدی کے بال صاف کر کےرکھا کر سارے تیرے بال میرے لن پر چبھتے ہیں۔۔۔چھیل دے گی کسی دن میرے لن کو تو۔۔۔بانو صرف جی اچھا ہی کہہ سکی۔۔ اور کہتی بھی کیا۔۔۔صباء کو خیال آیا کہ بال تواس کی پھدی پر بھی بڑھےہی ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن اسے تو کبھی نہیں کہامیجر نے۔۔۔شاید ویسے ہی برداشت کرتاہو۔۔۔ورنہ وہ تو اِس بات پر بھی سزا دے سکتا تھا۔۔۔اب میں خود ہی ان کو صاف کر لوں گی اِس سے پہلے کہ میجر کو مجھے بھی کہناپڑے۔۔۔ایسے ہی فضول میں غصہ کرے گا۔۔۔لیکن کیا میں بار بار اِسکے سامنے ننگی ہونے کا سوچ رہی ہوں۔۔۔کیا میں خود بھی ایساچاہتی ہوں۔۔۔پتہ نہیں ہو یا نہ ہو دوبارہ لیکن میرے کہنے پر اِس نےرکنا تھوڑا ہی ہے۔۔۔کسی بھی وقت دوبارہ آسکتا ہے پِھر سے۔۔۔بانو کو اپنی پھدی میجر کےلن پر رگڑتا ہوا دیکھ کرصباء سے بھی برداشت نہیں ہو سکااور آخر کار اس نے بھی چپکے سے اپنا ہاتھ اپنی دونوں رانوں کے درمیان میں سرکا لیا۔۔۔اپنی پھدی پراور آہستہ آہستہ پانی پانی چوت کو اپنی شلوار کے اُوپرسے ہی رگڑنے لگی۔۔۔کچھ تو سکون ملا۔۔۔لیکن اِس سب سے آگ اوربھی تو بڑھ گئی تھی۔۔۔تھوڑا اور آگے کو ہوتے ہوئے بانو نے میجر کا لن اپنی چوت کے سوراخ پر ٹکایا اور۔۔۔اور۔۔۔آئل سے بالکل چکنا ہو رہا ہوامیجر کا لن اپنی چوت کے چکنے ہو رہے سوراخ پرٹکا دیا۔۔۔میجر کا آئلی لن بنا کسی رکاوٹ کے پھسلا اور اگلے ہی لمحے بانو کی پھدی کے اندرتھا۔۔۔بانو نے آہستہ آہستہ اوپرنیچے اور آگے پیچھے کو ہونا شروع کر دیا۔۔۔میجر کے لن سے اپنی چوت کو چدواتے ہوئے ۔۔۔صباء کی نظریں بھی سیدھی ان دونوں کی چُدائی پر ہی ٹِکّی ہوئی تھیں۔۔۔بنا کسی اور طرف دیکھے اوربس اپنی چوت کو سہلا رہی تھی۔۔۔آخر صبر جو نہیں ہو رہا تھا۔۔۔اُدھر بانو میجر کے لن سےاپنی پھدی چُدوا رہی تھی اور ادھر صباء بری طرح سےتڑپ رہی تھی۔۔۔لیکن اُدھر بانو بنا اس کی پرواہ کیے۔۔۔ صرف اور صرف اپنی پھدی کو مزے دے رہی تھی اور میجر بھی صباء کی طرف دھیان دیے بنا ہی صرف اور صرف بانو کو چودرہا تھا۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں کو بانوکی کمر پر رکھے ہوئے آہستہ آہستہ اپنی کمر کو ہلا رہا تھااور اس کا لن بانو کی پھدی کے اندر ہلچل مچا رہا تھا۔۔۔کچھ دیر تک ایسے ہی بانوکی چوت کو چودنے کے بَعْدمیجر نے بانو کو اٹھنے کااشارہ کیا۔۔۔بانو میجر کے اوپر سے اٹھ گئی اور میجر کا لن بھی اس کی پھدی سے نکل گیا۔۔۔میجر صوفہ سے اٹھ کر نیچےکھڑا ہو گیا۔۔۔ اور بانو جلدی سے اس کی طرف اپنی گانڈ کر کےگھوڑی بن گئی۔۔۔اتنی جلدی سے۔۔۔جیسے اسے سب پتہ ہو کہ کب کیا کرنا ہےاور کب میجر کیا چاہتا ہے۔۔۔جیسے یہ اس کا روز کامعمول ہواور تھا بھی تو ایسا ہی نہ۔۔۔میجر نے اُس کے پیچھےکھڑے ہو کر ہی اپنا لن اسکی پھدی پر ٹکایا اور ایک ہی دھکے میں اسے بانو کی پھدی کے اندر اُتار دیااور بانو کی پھدی کو چودناشروع کر دیا اپنےموٹے کالے لن سےاور یہ سب صباء سے اب صرف ایک فٹ کے فاصلے پرہو رہا تھا۔۔۔ بالکل اتنا قریب کے وہ ہاتھ بڑھا کر بنا اپنے بازوپُورا پھیلائے۔۔۔دونوں میں سے کسی کو بھی چھو سکتی تھی۔۔۔میجر کے لن کو بھی چھوسکتی تھی اور بانو کی گانڈ کو بھی۔۔۔صباء اپنی چوت کوآہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے میجر کے لن کو بانو کی پھدی کے اندر باہرآتے جاتے دیکھ رہی تھی۔۔۔جہاں میجر بانو کی چوت کوچود رہا تھا اس سے تھوڑاہی اُوپر بانو کی گانڈ کاسوراخ تھا۔۔۔ ڈارک براؤن کلر کا۔۔۔ٹائیٹ سا۔۔۔میجر نے اپنی ایک انگلی سےبانو کی گانڈ کے سوراخ کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔

میجر :بہن کی لوڑی۔۔۔کتیا کی اولاد۔۔۔یہاں بیٹھی اپنی ہی پھدی میں انگلی کرتی رہے گی کیا۔۔ چل اٹھ اور وہ آئل کی بوتل لے کر آ میرے پاس۔۔۔حرامزادی۔۔۔ایسے بیٹھی ہے جیسے رنڈی کوئی ٹرپل ایکس دیکھ رہی ہے بیٹھی ہوئی۔۔۔

میجر کی آواز سے صباء ہڑبڑاسی گئی اور کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کیا بول گیا ہے میجر اسے۔۔۔لیکن اتنا ضرور سمجھ گئی کہ میجر نے اسے آئل کی بوتل لانے کو کہا ہے جوکہ صوفہ کی دوسری طرف پڑی ہوئی تھی۔۔۔صباء اٹھی اور اٹھ کر آئل کی بوتل لے آئی۔۔۔اور لا کر میجر کی طرف بڑھا دی۔۔۔اگلے ہی لمحے ایک تھپڑ صباءکے چہرے پر پڑا۔۔۔

میجر :کسی کتے کے لن کی پیداوار ہی ہے تو حرامزادی۔۔۔کتی کی بچی اِس تیل کی بوتل کو تیری چوت میں ڈال دوں یا تیری گانڈ میں بول۔۔۔پتہ نہیں تیرے سے کوئی کام ٹھیک سے کیوں نہیں ہوتا یاجان بوجھ کر ایسا کرتی ہےتو سالی۔۔۔

صباء ایک ہاتھ میں آئل کی بوتل پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے اپنے چہرےکو سہلاتی ہوئی

میجرکو دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ حیران ہو رہی تھی کہ آخر میجر چاہتا کیا ہے۔۔۔اب کون سی غلطی کر لی ہےمیں نے۔۔۔بوتل مانگی وہ اس نے لا دی۔۔۔اب اور کیا کروں۔۔۔اگلے ہی لمحے میجر کی آوازنے اسے سب سمجھا دیا۔۔۔

میجر :اب ایسے ہی موت پڑی رہےگی یا بوتل لا کر اِس رنڈی کی گانڈ پر تیل بھی ڈالے گی ۔۔۔ نہیں تو۔۔۔اس کی جگہ تیری گانڈ پھاڑدوں گا آج کے آج اور وہ بھی بنا تیل لگائے۔۔۔رنڈی کی اولاد سارا مزہ چُدائی کا خراب کر رہی ہے۔۔۔جیسا وہ بہن چود۔۔۔کھسرا۔۔۔ہیجڑا۔۔۔اس کا بندہ ہے۔۔۔ویسی ہی بےکار بِیوِی ہے۔۔۔اس کنجر کو چودنا نہیں آتااور اِس کنجری کو چودوانا نہیں آتا۔۔۔

صباء سب سمجھ چکی تھی۔۔۔خاموشی سے آگے بڑھی اورآئل کی بوتل بالکل بانو کی گانڈ کے اُوپر لے آئی۔۔۔میجر کی انگلی اب بھی بانوکی گانڈ کے سوراخ پر تھی اور لن بانو کی چوت میں۔۔۔ صباء نے آہستہ سے آئل بانوکی گانڈ کے سوراخ پر گرا دیا۔۔۔یہ کام کرتے ہوئے صباء کوبہت ہی شرم آ رہی تھی اور اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔۔۔آئل بانو کی گانڈ کے سوراخ کے اوپر گرا جو کہ نیچےکو بہنے لگا۔۔۔آہستہ آہستہ۔۔۔نیچے کو میجر کے لن کی طرف۔۔۔صباء اب پِھر چُپ کر کے کھڑی ہوئی گئی۔۔۔میجر نے اپنا لن باہر نکال لیااور صباء میجرکے چمکتے ہوئے لن کودیکھتی رہی۔۔۔جو کہ آئل اور بانو کی پھدی کے پانی سے چمک رہا تھا۔۔۔

میجر :اب میرے لن پر تیل تیری ماں آ کر لگائے گی۔۔۔یا تیرے شوہر کو بلاؤں۔۔۔؟صباء نے ڈر کر آہستہ سےاپنے کانپتے ہاتھوں سے میجرکے لن پر تیل ڈال دیا۔۔۔اس کا دِل تو چاہ رہا تھا کہ وہ میجر کا لن پکڑ لے لیکن۔۔۔اس کی ہمت نہیں ہوئی۔۔۔اس کی اپنی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔۔۔وہ تو یہی انتظار کر رہی تھی کہ کب میجر بانوکو ہٹائے اور اس کی جگہ اس کی پھدی کو چودناشروع کر دے۔۔۔لیکن وہ میجر کو یہ بات کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔بس اُس کے پاس کھڑی ہوئی اپنی دونوں رانوں کو دباتے ہوئے اپنی چوت کورگڑ رہی تھی۔۔۔لیکن ایسے سکون کہاں ملنےوالا تھا بھلا۔۔۔میجر نے آئل سے تَربَتَر اپنالن بانو کی گانڈ کے تنگ سوراخ پر رکھا اورآہستہ آہستہ اندر کو پُش کرنے لگا۔۔۔صباء حیرت سے سوچ رہی تھی کہ میجر کا اتنا موٹا اورلمبا لن کیسے بانو کی اتنی تنگ گانڈ میں جا سکے گا۔۔۔وہ تو بس حیرانی سے یہی منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔اسے صرف یہی سوچ کرڈر لگنے لگا کہ اگر۔۔۔اگر۔۔۔اگر کبھی میجر نے اس کی گانڈ میں اپنا لن ڈالنے کاسوچا تو۔۔۔تو وہ تو مر ہی جائے گی۔۔۔بانو کی گانڈ تو میجر کے لن سے پھیلنی ہی تھی۔۔۔ ادھر صباء کی دونوں آنکھیں بھی پھیل گیں۔۔۔میجر کے موٹے لن کو بانو کےتنگ سے سوراخ میں جاتے ہوئے دیکھ کر۔۔۔صباء حیران ہو رہی تھی کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ کیا میجر کا اتنا موٹا لن اتنے تنگ سے گانڈ کے سوراخ میں جا سکتا ہے۔۔۔لیکن یہ سب کچھ ہو رہا تھا۔۔۔اس کی اپنی آنكھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔۔۔اس کی اپنی آنكھوں کے سامنے میجر کا موٹا کالا لن بانو کی گانڈ میں جا رہاتھااور صباء کو صاف محسوس ہو رہا تھا کہ بانو کو کوئی بہت زیادہ تکلیف محسوس نہیں ہو رہی۔۔۔کیونکہ شاید وہ اِس سے پہلےبھی اپنی گانڈ میں یہی لن لے چکی ہے۔۔۔صباء تو بناآنکھیں جھپکے بس میجر کےلن کو بانو کی گانڈ میں پھنسا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔ اپنی اس کی پھدی مچل رہی تھی اور اس کی اپنی گانڈ اسےپھٹتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ بس بار بار یہی سوچ کر کہ اگر یہی لن اس کی گانڈ میں چلا گیا ہوتا تو۔۔۔تو۔۔۔وہ تو بے ہوش ہی چکی ہوتی اور یا پِھر شاید مر ہی چکی ہوتی۔۔۔پتہ نہیں کیا ہوتا۔۔۔لیکن اِس وقت تو اس کیاپنی چوت اس لن کو پکار رہی تھی۔۔۔لیکن میجر۔۔۔میجر تو ہمیشہ کی طرح اسے اگنور کر رہا تھااور صرف بانو کی گانڈ ماررہا تھا۔۔۔میجر صباء کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔

بول چدوائے گی اپنی گانڈ بھی اسی طرح میرے لن سے۔۔۔؟

صباء تو جیسے کہیں اور ہی دنیا میں گم ہو چکی ہوئی تھی۔۔۔ میجر نے دوبارہ سے اس کو بلانے کے لیے۔۔۔صباء کا ایک ممااپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسے دبا دیا۔۔۔

کہتی ہے تو ابھی ڈال دوں تیری گانڈ میں بھی۔۔۔اتنا ہی دِل کر رہا ہے تو۔۔۔؟

اب کے صباء تڑپ اٹھی اور جیسے ہوش میں آگئی۔۔۔اچانک سے میجر نے بانو کی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور اپنا پورے کاپُورا لن اس کی گانڈ میں اُتاردیا اور اگلے ہی لمحے اپنے لن سے منی بانو کی گانڈمیں نکالنے لگا۔۔۔آنکھیں بند تھیں میجر کی لیکن اُس کے لن سے منی بانوکی گانڈ میں گر رہی تھی۔۔۔بانو بھی نڈھال ہو کر نیچےگر پڑی۔۔۔اوندھے ہی اور میجر اسی طرح اپنا لن بانو کی گانڈ میں ڈالے اُسکے اوپر ہی تھا۔۔۔دونوں شانت ہو چکے تھے۔۔۔اپنی اپنی پیاس بجھا چکےتھے۔۔۔چوت بھی شانت ہو چکی تھی۔۔۔گانڈ بھی شانت ہو چکی تھی۔۔۔لن کی پیاس بھی بجھ چکی تھی۔۔۔بس اب پیاسی تھی تو۔۔۔صرف۔۔۔صباء۔۔۔ترس رہی تھی تو صرف اسکی چوت۔۔۔کچھ ہی پل میں میجر نےاپنا لن بانو کی گانڈ سے نکالاتو اس کا لن اس کی اپنی ہی منی سے گیلا ہو رہا تھااور اس کے آگے سے ابھی بھی اس کی منی کےکچھ قطرے ٹپک رہے تھے اوربانو کی گانڈ سے بھی منی بہتی ہوئی باہر کو آنے لگی تھی۔۔۔میجر نے پاس کھڑی ہوئی صباء کا ڈوپٹہ اپنی طرف کھینچا اور اس سےاپنا لن پُونْچھ کر اچھی طرح سے صاف کیا اور پِھراسی دوپٹے سے اس نے بانوکی گانڈ پر سے اپنی منی بھی صاف کر دی اور دوپٹہ صباء کی طرف پھینک دیا اور اپنے بیڈروم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

میں نہانے جا رہا ہوں۔۔۔

ایسے سب کو نظر انداز کر کےجیسے وہاں پر کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔جیسے اس سیٹنگ روم میں کوئی بھی نہ ہو۔۔۔ نہ صباء ہو اور نہ ہی بانو۔۔۔اچانک میجر اپنے بیڈروم کے دروازے پر دوبارہ نمودارہوا اور بانو کے کپڑے باہرفرش پر پھینک دیے۔۔۔بنا کچھ کہے۔۔۔اور زور سے اپنا دروازہ بندکر دیا۔۔۔صباء تڑپ اٹھی کہ کیسے۔۔۔میجر کیسے اسے چودے بناایسے تڑپتا چھوڑ سکتا ہے۔۔۔چھوڑ ہی سکتا ہے۔۔۔جیسے پہلے چھوڑ جاتا ہے۔۔۔لیکن اِس طرح بانوکے سامنے اسےبنا چودے ہوئے جانا اس کی بہت زیادہ تزلیل تھی۔۔۔جیسے میجر نے بانو کو۔۔۔اس نوکرانی کو اس سےزیادہ اہمیت دی ہو۔۔۔ظاہر ہے جب اپنا لن اس کےبجائے اسے دے دیاتو اہمیت تو خود ہی مل گئی نہ۔۔۔میجر کے جانے کے بعد صباءتو صوفہ پر ڈھے سی گئی۔۔۔بے جان ہو کر۔۔۔تڑپتی ہوئی پھدی کو لے کر۔۔۔بالکل ساکت۔۔۔بس بانو کو دیکھتے ہوئے اور کبھی اپنی گود میں پڑےہوئے اپنے دوپٹے کو دیکھتےہوئے جس پر میجر کے لن کی منی صاف لگی ہوئی نظرآ رہی تھی اور بانو کی گانڈ سے نکلنےوالی میجر کی منی اور تیل بھی۔۔۔بانو نے کپڑے پہنے۔۔۔کمرے کی حالات تھوڑی ٹھیک کی اور پِھر باہر کی طرف جاتی ہوئی بولی۔۔۔

صباء میم صاحب آپ جاؤگی یا ابھی رکو گی میجرصاحب کے انتظار میں۔۔۔؟

صباء نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے اَٹھ کربالکونی کی طرف بڑھ گئی۔۔۔واپس اپنے گھر جانے کے لیے۔۔ اسی راستے سے جدھر سےوہ آئی تھی۔۔۔اسی پیاسی حالت میں۔۔۔جس پیاسی حالت میں وہ ادھر آئی تھی۔۔۔یہ سوچ کر کےآج شاید اچھی چُدائی کردے میجر صاحب۔۔۔لیکن یہاں تو سین ہی الگ ہوگیا تھا نہ۔۔۔بالکونی کے راستے واپس اپنےفلیٹ میں آکر صباء سیدھی اپنے بیڈروم کی طرف ڈوری۔۔۔اس کی آنكھوں کا پانی کنٹرول نہیں ہو رہا تھااور دوسری طرف اس کی پھدی بھی پانی چھوڑے جارہی تھی۔۔۔کسی موٹے لن کو مانگ رہی تھی۔۔۔لیکن لن کہاں۔۔۔صباء سیدھی جا کر بیڈ پرلیٹ گئی اور جو کچھ ہوا تھا۔۔۔جو کچھ اُس کے ساتھ بیتی تھی اسے یاد کرنے لگی۔۔۔تڑپتے ہوئے اپنا ہاتھ اپنی تڑپتی ہوئی پھدی پر رکھ دیااپنی شلوار کے اوپر سے ہی۔۔۔جیسے ہی اپنی پھدی کو چھوا تو اسے جیسے کچھ سکون ملا۔۔۔اسی سکون کو بڑھانے کے لیےصباء نے آہستہ آہستہ اپنی پھدی کو رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔آہستہ آہستہ سہلانا شروع کردیا۔۔۔آنکھیں بند تھیں اور ہاتھ اپنی چوت کو سہلا رہا تھااور آنكھوں کے آگے میجر کالن بانو کی پھدی میں اندر باہر ہوتا ہوا نظر آرہاتھا۔۔۔جیسے ہی پیاس بڑھی توصباء نے اپنا ہاتھ اپنی شلوارکے اندر ڈال دیا۔۔۔اور سیدھا اپنی ننگی چوت کو سہلانے لگی۔۔۔جتنا سہلا رہی تھی اتنی ہی اس کی پیاس بڑھ رہی تھی۔۔۔اتنی ہی اس کی تڑپ بڑھ رہی تھی۔۔۔ پھدی کچھ نہ کچھ اپنے اندرمانگ رہی تھی۔۔۔ایک موٹا اور لمبا لن ۔۔۔جوکہ ابھی تو صرف اور صرف اُس کے خیالوں میں ہی تھا۔۔۔اور اسی کو یاد کر کے۔۔۔اس نے اپنی چوت میں اپنی ایک انگلی ڈال دی۔۔۔کچھ تو سکون ملا اس کی چوت کو جیسے۔۔۔آہستہ آہستہ اپنی چوت کےاندر اپنی انگلی اندر باہرکرنے لگی۔۔۔بند آنكھوں کے ساتھ۔۔۔لیکن اس کی اپنی شلوار ہی اُس کے ہاتھوں کی حرکت میں رکاوٹ کر رہی تھی۔۔۔بنا سوچے سمجھےاور اپنی چوت کی پیاس کےہاتھوں مجبور ہو کر اپنی شلوار کو نیچے کھینچ دیااور پِھر اپنے پیروں سے نکال کر پرے پھینک دیا۔۔۔اب صباء کا نیچلا جِسَم بالکل ننگا تھا۔۔۔اس کی پھدی بالکل ننگی ہوچکی ہوئی تھی۔۔۔صباء نے اپنی دونوں رانوں کو کھولا اور ٹانگوں کو پھیلاکر اپنی پھدی کے اندر اپنی انگلی ڈال دی۔۔۔بند آنكھوں کے ساتھ ایک بارپِھر سے اپنی چوت کے اندرانگلی اندر باہر کرنے لگی۔۔۔تیزی کے ساتھ۔۔۔خود ہی اپنے ہاتھ سے ہی اپنی پھدی کو اپنی منزل کی طرف لے جاتے ہوئے۔۔ لیکن ایک موٹے لن کی طلب کو ایک چھوٹی سی پتلی سی انگلی کیسے پُورا کرسکتی تھی۔۔۔لیکن پِھر بھی کچھ توسکون مل ہی رہا تھا نہ اسےاور اسی سکون کے لیے وہ تیزی سے اپنی چوت کے اندرانگلی اندر باہر کر رہی تھی۔۔۔اچانک صباء نے اپنے پاس پڑاہوا اپنا دوپٹہ اٹھایا اور اس پر لگی ہوئی منی کو اپنی چوت پر ملنے لگی۔۔۔اپنے دوپٹے کو اپنی چوت پر رگڑتے ہوئے میجر کی منی کو اپنی چوت پر ملنے لگی۔۔۔پتہ نہیں کیا سکون اِس سےملنا تھا اسے۔۔۔بس یہی احساس ہو رہا تھاکہ میجر کے لن کی منی اسکی پھدی کو محسوس ہورہی ہےاور شاید اسی سے اس کی چوت کو سکون مل سکے۔۔ سسک رہی تھی۔۔۔کراہ رہی تھی۔۔۔بند آنكھوں کے پیچھے میجرکا چہرہ ہی اسے نظر آرہا تھا۔۔۔ مم م م م م۔۔۔س س س س س۔۔۔ووئی ی ی ی ی۔۔۔میجر ر ر ر ر۔۔۔کیوں کرتے ہو و و و و۔۔۔ایسا میرے ساتھ ہاۓ ے ےے ے۔۔۔کیوں ہر وقت تڑپا کر چھوڑدیتے ہو۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔صباء نے اپنی آنكھوں کوتھوڑا سا کھولا آدھ کھلی آنكھوں کے سامنے بھی اسےمیجر ہی کھڑا ہوا نظر آرہاتھا۔۔۔اسے تڑپا رہا تھا۔۔۔بند آنكھوں کے ساتھ بھی اورکھلی آنكھوں کے سامنے بھی۔۔۔اتنی پیاس بڑھ چکی ہوئی تھی کہ ہر طرف میجر ہی نظر آرہا تھا۔۔۔بہت ہی ظالم ہو تم چلے جاؤمیری زندگی سے اگر ایسےہی تڑپانا ہے تو کیوں آئے تھےاور نہیں ہوتی مجھ سےبرداشت یہ پیاس۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔مم م م م م۔۔۔ووئی ی ی ی ی ی۔۔۔میجر ر ر ر ر ر ر۔۔۔اور میجر اس کی آنكھوں کے سامنے ہی توکھڑا مسکرا رہا تھا اس کی حالت پر۔۔۔یہی صباء کو لگ رہا تھا کہ وہ تڑپ رہی ہے اور میجر اُسکے سامنے کھڑا ہوا اس کی حالت دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔۔۔صباء سسکی۔۔۔ہنسو۔۔۔ہنسو و و و۔۔۔اور ہنسو یہی کر سکتے ہو نہ۔۔۔ یہ سب کرتے ہوئے اس کی انگلی مسلسل اپنی چوت میں چل رہی تھی۔۔۔لیکن اس کی منزل تو جیسےابھی بھی بہت دور تھی۔۔۔آج تو آرگزم جیسے ہونا ہی نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔جیسے اُس کے آرگزم نے بھی بنا لن کے ہونے سے انکار کردیا ہو۔۔۔آنكھوں کے اندر آئے ہوئےآنسو اس کی آنكھوں کو دھندھلا رہے تھے اوردھندلی آنكھوں کے سامنے میجر کا دھندلاچہرہ اسے اور بھی بے چین کر رہا تھا۔۔۔ کیا کروں میں۔۔۔تم جیسے کمینے کی خاطرہی تو میں نے اپنے شوہر سےبےوفائی کی ہے۔۔۔ اور۔۔۔اور تم ہو کے بس مجھے تڑپاتے ہی رہتے ہو۔۔۔کاش میں یہاں آئی ہی نہ ہوتی۔۔۔جو باتیں کبھی بھی صباءاپنی زبان پر نہیں لا پاتی تھی میجر کے سامنے آج وہ اُس کے تصور سے وہ سب باتیں کر رہی تھی۔۔۔دِل تو چاہ رہا تھا کہ بس آگےبڑھ کر میجر کی اُس امیج سے لپٹ جائے لیکن۔۔۔اسے پتہ تھا کہ یہ ناممکن ہے۔۔۔یہ سب سراب اور اس کی آنكھوں کا دھوکا ہے۔۔۔ ابھی بھی اسے ایسا ہی لگ رہا تھا جیسے کہ میجر اُسکے سامنے کھڑا ہوا ہنس رہاہو۔۔۔وہی گھنوونی مسکراہٹ۔۔۔جیسے اس کی تڑپ اور بےقراری پر ہنس رہا ہو۔۔۔صباء بھی اپنی دونوں ٹانگوں کو پُورا کھولے ہوئےاپنی دھندلی آنکھیں میجرکے امیج پر جمائے ہوئےتیزی سے اپنی انگلی اپنی چوت میں اندر باہر کر رہی تھی۔۔۔تڑپ رہی تھی۔۔۔اپنی منزل کو پہنچنے کے لیے۔۔۔میجر کا امیج اس کی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔۔ایسا ہی سب تو اُس کے دماغ میں چل رہا تھا کہ یہ اُس کےقریب آجائے۔۔۔سب کچھ ویسا ہی ہو رہا تھا۔۔۔جیسا وہ کمینہ کرتا تھاحقیقت میں۔۔۔اُس کے سامنے کھڑے ہو کراُس نے اپنا شارٹ اُتار دیا۔۔۔اس کا لن ۔۔۔وہی کالا اور موٹا اور لمبا لن اُس کے سامنے لہرانے لگا۔۔۔اُس کے لن کے امیج کو دیکھ کر صباء کی اپنی چوت کے اندر انگلی کی حرکت اوربھی تیز ہو گئی۔۔۔صباء کو وہ امیج اپنی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ جیسے وہ اُس کے بیڈ پرچڑھ رہا ہو۔۔۔صباء سب کچھ بےبسی سےمحسوس کر رہی تھی۔۔۔جب اس کی طلب بڑھی اورمزید برداشت نہ ہو سکا تواپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔لیکن بند آنكھوں میں بھی تووہی امیج گھوم رہا تھا نہ۔۔۔صباء تڑپ کر سسکی۔۔۔کیوں اب ایسے تنگ کرنے آگئے ہو میرے خیالوں میں بھی۔۔۔مت ستاؤ مجھے۔۔۔صباء کو اپنی پھدی پر کچھ گرم گرم سا رگڑتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔وہی احساس تھا جو میجرکے لن کے اس کی چوت پر رگڑ جانے سے اسے ہوتا تھا۔ مم م م م م م۔۔۔س س س س س س۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔صباء تڑپ اٹھی۔۔۔سسک اٹھی۔۔۔ اُس لن کو حقیقت میں محسوس کرنے کے لیے صباءنے اپنی انگلی اپنی پھدی سے ہٹائی تو اگلے ہی لمحےاسے اپنی چوت میں کچھ اندر جاتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔کچھ موٹا سا۔۔۔پھنستا ہوا۔۔۔س س س س س س۔۔۔ایک لمحے کے تو صباء اسی لذت میں کھو گئی۔۔۔لیکن۔۔۔لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔کیسے کچھ میرے اندر جاسکتا ہے۔۔۔اگلے ہی پل اُس نے تڑپ کراپنی آنکھیں کھولیں اوردیکھا تو میجر کا جِسَم سچ مچ میں اُس کے اوپر چھایاہوا تھااور اس کا موٹا لن اس کی چوت میں پورے کا پورااترا ہوا تھا۔۔۔صباء حیرت سےآنکھیں پھارے میجر کودیکھ رہی تھی۔۔۔یہ کیسے آیا یہاں۔۔۔یہ سوچنے کی اسے کوئی ضرورت نہیں تھی۔۔۔اف ف ف ف ف ف۔۔۔میں کیا کیا بول گئی اسکے سامنے۔۔۔یہ تو سچ مچ میں میرے سامنے تھا۔۔۔صباء کو بس یہی خیال آنےلگا۔۔۔

میجر :سالی رنڈی۔۔۔اتنی جلدی کیوں آگئی تھی وہاں سے۔۔۔؟ابھی تو میں نے تجھے چودابھی نہیں تھا اور تو بھاگ آئی۔۔۔بنا میرے پوچھے ہی۔۔۔

صباء :نہیں ں ں ں ں ں۔۔یہ بات نہیں ں ں ں۔۔آپ وہ آہ ہ ہ ہ ہ۔۔نہانے س س س س۔ میجر ایک زور دار دھکا صباءکی چوت کے اندر مارتے ہوئے بولا۔۔۔

بہن چود نہا کر آ ہی جانا تھانہ میں نے۔۔۔

صباء نے کوئی جواب دیے بنااپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔میجر نے صباء کی دونوں ٹانگوں کو اپنےکاندھے پررکھا اور اُس پر جھک گیا اوراپنا پُورا لن اس کی چوت کےاندر دھانہ دھن اندر باہر کرنےلگا۔۔۔صباء کی چیخیں اور سسکاریاں نکلنے لگیں۔۔۔اوئی ی ی ی ی۔۔۔مم م م م م م۔۔۔اہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ووئی ئی ئی ئی ئی۔۔۔

میجر :بہن چود۔۔۔میں نے تجھے کہا تھا کہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر مجھ سے چُدوا جو تو میرا نام لگا رہی ہے۔۔۔حرام کی جانی۔۔۔اگر نہیں دِل کرتا تو نہ چُدوایا کر اپنی پھدی مجھ سے۔۔۔لیکن صباء کو اِس وقت کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔۔۔وہ تو بس آنکھیں بند کیےہوئے میجر کے لن کا مزہ لےرہی تھی۔۔۔اُس نے ہر قسِم کی شرم اورحیا کو ختم کرتے ہوئے اپنی دونوں بانہیں میجر کے گلےمیں ڈالیں اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔اپنی ٹانگیں چھڑا کر اس کی مضبوط کمر کے گرد مضبوطی سے باندھ لیں اوراسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔آج میجر کا جِسَم اس کی گرفت میں تھا۔۔۔جیسے۔۔۔جیسے آج وہ اسے کہیں بھی جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔جیسے۔۔۔جیسے اسے ڈر ہو کہ اب پِھروہ اسے پیاسا چھوڑ کر چلاجائے گا۔۔۔لیکن میجر بھی تیزی کےساتھ اپنا لن اس کی چوت میں اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔اسے چود رہا تھا۔۔۔اس کی پیاس بجھانا چاہتاتھا۔۔۔میجر نے اپنے ہونٹ صباء کےہونٹوں پر رکھے اور صباء نےتیزی سے اُس کے ہونٹوں کواپنے ہونٹوں کی گرفت میں لیا اور ان کو چوسنے لگی۔۔۔اِس سے پہلے کے میجر اپنی زبان اُس کے منہ میں ڈالتاصباء نے اپنی زبان میجر کےمنہ کے اندر ڈال دی۔۔۔اپنی زبان میجر کے منہ کےاندر ادھر اُدھر پھیرنے لگی۔۔۔کبھی اُس کے دانتوں کے اوپراور کبھی اس کی زبان کوچاٹتے ہوئے ۔ صباء اُس سے لپٹی جا رہی تھی۔۔۔اس کا لن اپنی پھدی میں اندر ہی اندر بہت اندرتک کھینچتی جا رہی تھی۔۔۔بہت دنوں کی اپنی پیاس بجھانے کے لیے۔۔۔کچھ ہی دیر کے بعد میجر نےاپنا لن صباء کی چوت سےنکال لیا۔۔۔صباء نے تڑپ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔

پلیز نہیں۔۔۔ابھی نہیں۔۔۔اتنی جلدی نہیں۔۔۔پلیز ز ز ز ڈال دو۔۔۔اہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔

صباء اُسکے سامنے تڑپنے لگی۔۔۔

میجر ہنسا :سالی کہیں نہیں جا رہا۔۔۔چل اَٹھ کر کھڑی ہو جا یہاں بیڈ پر۔۔۔صباء کو میجر نے بیڈ پرکھڑا کیا اور اسے بیڈ کی بیک کو پکڑ کر جھکنے کے لیے بولا۔۔۔صباء جلدی سے اسی پوزیشن میں آگئی کہ اپنے ہی بیڈ کے اوپر وہ اسکی بیک کو پکڑ کر کھڑی تھی گھوڑی بنی ہوئی۔۔۔میجر اُس کے پیچھے آیا اوراس کی گانڈ پرہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔

سالی تیری گانڈ بڑی گھوری اور موٹی ہے۔۔۔بہن چود دِل کرتا ہے کہ تیری گانڈ ہی مار لوں۔۔ صباء تڑپ کر سیدھی ہوئی۔۔۔نہیں نہیں پلیز نہیں۔۔۔ادھر نہیں۔۔۔پلیز ز ز ز میں مر جاؤں گی۔۔۔وہاں نہیں۔۔۔

میجر ہنسا اور اس کی گانڈپر ایک زور کا تھپڑ مار کربولا۔۔۔نہیں ماروں گا تیری گانڈ آج تو نہیں ماروں گا۔۔۔لیکن ایک نہ ایک دن ضرورچودوں گا تیری گانڈ جس دن میرا دِل کیا۔۔۔ابھی تو چوت ہی چودنے دے۔۔۔ڈر نہ۔۔۔

صباء دوبارہ سے گھوڑی بن گئی اور میجر نے اپنا لن صباء کی چوت پر رکھا اورآہستہ آہستہ۔۔۔اپنا لن صباء کی چوت میں اُتار دیا۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔مم م م م م۔۔۔س س س س س۔۔۔صباء ایک بار پِھر تڑپ اٹھی۔۔۔میجر نے اپنے دونوں ہاتھ صباء کی پتلی کمر پر رکھےاور اب دھانہ دھن اپنا لن اس کی چوت کے اندر باہرکرتے ہوئے اسے چودنے لگا۔۔۔تیزی سے میجر کا لن صباءکی چوت کے اندر باہر ہو رہاتھااور صباء بھی خود سے ہی اپنی گانڈ کو آگے پیچھےکرتے ہوئے اپنی چوت کومیجر کے لن پر دھکیل رہی تھی۔۔۔چند ہی دھکوں کے بعد صباءکی چوت نے پانی چھوڑناشروع کر دیا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے