مرتے دم تک۔آٹھویں قسط

 

مرتے دم تک

تحریر: ماہر جی

آٹھویں قسط


نہیں میں اسے یہ سب کچھ دوبارہ سے نہیں کرنے دوں گی۔۔۔ کیوں میں ہر روز یہی گناہ کرنے لگتی ہوں۔۔۔ اچانک سے صباء کو جیسےتھوڑا ہوش آیا تو اس نےخود کو میجر سے ایک جھٹکا دے کر چھڑایا اوراس سے تھوڑی دور سیٹنگ روم کے سینٹر میں جا کررک گئی۔۔۔ میجر کی طرف پیٹھ کیےہوئے دوسری طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔

اس کی آنكھوں میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔پتہ نہیں کیا جادو تھا اسکی آنكھوں میں۔۔۔ اپنی سانسوں کو کنٹرول کرنے لگی۔۔۔لمبے لمبے سانس لیتی ہوئی۔۔۔میجر کی طرف اب اس کی پیٹھ تھی۔۔۔ میجر نے اُس کے جِسَم کےپچھلے حصے کو دیکھا تو مسکرانے لگا۔۔۔خوبصورت پتلی گلابی شرٹ میں اس کا جِسَم بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔ شرٹ میں سے اس کے نیچے پہنی ہوئی بلیک کلر کی برا کے سٹریپس صاف دِکھ رہےتھے۔۔۔گانڈ بھی ابھری ہوئی تھی۔۔۔ سولڈ لیکن نرم۔۔۔ کمر پر شرٹ کی ذپ لگی ہوئی تھی جو کہ اُوپر سےنیچے تک جا رہی تھی۔۔۔ میجر دھیرے دھیرے اُس کےپاس گیا۔۔۔ آج وہ کوئی بھی زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ آج وہ اپنے اِس کھلونے سےکھیلنا چاہتا تھا۔۔۔ اسے اپنی مرضی سے نہیں اس کی مرضی سے استعمال کرنا چاہتا تھا۔۔۔ میجر نے صباء کے پیچھے جاکر اپنا ہاتھ صباء کی کمر پررکھا تو ایک بار پِھر سے صباء کا جِسَم کانپ اٹھا۔۔۔ میجر نے صباء کی شرٹ کی ذپ کو پکڑا اور ایک ہی جھٹکے سے اسے نیچے کھینچ دیا۔۔۔ صباء کی کمر ننگی ہو کرمیجر کی آنكھوں کے سامنےآگئی۔۔۔پیچھے سے اس کی بلیک برا کے سٹریپس اور ہک نظرآنے لگے۔۔۔ میجر کی اِس حرکت سے صباء فوراً ہی پیچھے کو مڑ گئی اور میجر کی طرف دیکھنےلگی۔۔۔ میجر نے اپنے دونوں ہاتھ دوبارہ سے صباء کے کندھوں پر رکھ دیے اور ان کو سہلانےلگا۔۔۔ دھیرے دھیرے اس نے صباء کی شرٹ کو اُس کے کاندھوں سے نیچے کی طرف سرکانہ شروع کیا تو پیچھےسے کھلی ہونے کی وجہ سےاس کی شرٹ نیچے کوسرکنے لگی۔۔۔ صباء کے گورے گورےکاندھے ننگے ہوگئے اور ان پرموجود اس کی بلیک برا کےسٹریپس کھلے عام نظر آنےلگے۔۔۔میجر نے صباء کے ننگےکاندھوں کو سہلاتے ہوئے اپنی انگلی اس کی برا کےسٹریپس کے نیچے ڈالی اورآہستہ آہستہ اُس کےسٹریپس کو کھینچنے لگا۔۔۔ صباء نے میجر کی آنكھوں میں دیکھا اور شرما کر نیچےدیکھنے لگی اور پِھر اپنا ہاتھ میجر کے ہاتھ کے اُوپر ر کھ دیا۔۔۔ اسے روکنے کے لیے۔۔۔ لیکن اسے روکے بنا ہی رہی۔۔۔ میجر نے آہستہ سے صباء کواپنی طرف کھینچا اور اپنےسینے سے لگا لیا اور اُس کے گورے گورے گالوں کو چومنے لگا۔۔۔ صباء کے ممے میجر کے سینےسے جڑ گئے ہوئے تھے۔۔۔ پوری طرح سے میجر کےننگے ، کالے سولڈ سینے سے پریس ہو رہے تھے۔۔۔ میجر نے اپنا ہاتھ صباء کےپیچھے سے کھلی ہوئی شرٹ کے اندر ڈالا اور اس کی ننگی گوری چکنی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے سہلاتے ہوئے اُس کے گالوں کو چومنے لگا۔۔۔ اپنی زبان نکال کر اُس کےگورے گورے گالوں کو چاٹنےلگا۔۔۔ میجر کے منہ سے اس کاتھوک نکل کر اُس کے پورےچہرے کو گیلا کر رہا تھا۔۔۔ صباء کو بہت ہی عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔ لیکن حیرت یہ تھی کہ برانہیں لگ رہا تھا۔۔۔ صباء کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔۔۔ اُس کے چہرے پر عجیب سےایکسپریشنز تھے جو کہ خوف کے نہیں تھے۔۔۔ شاید جِسَم کے اندر پیدا ہورہی گرمی کی وجہ سے تھے۔۔۔ اس کی پھدی بری طرح سےگیلی ہونا شروع ہو گئی ہوئی تھی اور عجیب سی حالت اندر ہورہی تھی۔۔۔ میجر صباء کے گال کو چاٹتا ہوا اپنی زبان کو دھیرےدھیرے صباء کے ہونٹوں کےقریب لایا اور اُس کے ہونٹوں کے اُوپر اپنی زبان پھیرنے لگا۔۔۔ اُس کے گلابی میٹھے ہونٹوں کو چاٹتے ہوئے ۔۔۔دھیرے دھیرے میجر نے اپنی زبان کو صباء کے دونوں ہونٹوں کے درمیان میں پُش کیا اور صباء نے بنا کوئی مزاحمت کیے ہوئے اس کی زبان کو اپنے منہ کے اندرداخل ہونے کی اجازت دےدی۔۔۔ صباء کے ہاتھ بھی میجر کی کمر پر آچکے ہوئے تھے۔۔۔ وہ اس کی سولڈ کمر پرگرفت مضبوط کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔ لیکن اس کی سولڈ اورپسینے سے بھری ہوئی کمر پرسے اس کا ہاتھ بار بار پھسل رہا تھا۔۔۔ جب وہ بے بس ہونے لگی۔۔۔ تو جھنجھلا کر اس نے اپنےناخن میجر کی کمر میں گاڑدیے۔۔۔ کسی بلی کی طرح اپنےپنجے گاڑ دیے تھے میجر کی کمر پر۔۔۔ لیکن بھلا اس نازک سی صباء کی اِس حرکت سے اس سانڈ جیسے میجر کو کیا ہوناتھا۔۔۔ اس کا جِسَم تو میجر کی بانہوں میں ایسے لگ رہا تھاجیسے کسی چیتے نے کسی چھوٹی سی ہرنی کو دبوچ رکھاہو۔۔۔ صباء کی طرف دیکھتے ہوئے اور اُس کے ننگے کاندھوں اورجِسَم کو سہلاتے ہوئے میجرنے اپنی زبان باہر نکالی اور صباء کو دیکھنے لگا۔۔۔ صباء نے بھی میجر کی زبان کو دیکھا تو سمجھ گئی کہ وہ دوبارہ سے وہی کچھ چاہتا ہے۔۔۔ میجر اپنی زبان کو آہستہ آہستہ اُس کے چہرے کے پاس لانے لگا۔۔۔ بالکل قریب لے آیا۔۔۔ اُس کے ہونٹوں کے۔۔۔ اُس کے منہ کے قریب۔۔۔ صباء میجر کی آنكھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔ اس سے نظریں ملاتے ہوئےہی۔۔۔ صباء کی زبان خود سے ہی اُس کے ہونٹوں کے درمیان سے باہر آگئی اور آہستہ سے صباء نے اپنی زبان سے میجر کی زبان کوٹچ کرنا شروع کر دیا۔۔۔ دھیرے دھیرے میجر کی زبان کو چاٹنے لگی۔۔۔ اُوپر سے نیچے کو۔۔۔ نیچے سے اُوپر کو۔۔۔ میجر بھی اسے ہی دیکھ رہاتھا۔۔۔آہستہ آہستہ صباء نے اپنےہونٹوں کو بھی میجر کی زبان کے قریب لا کر اس کی زبان کی ٹپ کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگی۔۔۔ اِس طرح تو صباء نے کبھی بھی کِسنگ نہیں کی تھی۔۔۔ بس سادگی سے اشرف اسے کس کرتا تھا۔۔۔بس چومتا تھا جیسے۔۔۔ لیکن میجر تو اور ہی عجیب انداز میں اسے چومتا تھا۔۔۔ عجیب اسٹائل تھا اس کی کِسنگ کا۔۔۔ لیکن یہ بات ضرور تھی کہ اِس جانوروں کی طرح کی ڈرٹی اور گندی کِسنگ کا صباء کو الگ ہی مزہ آرہا تھا۔۔۔ اس کا بھی من نہیں ہو رہا تھا کہ اپنا منہ میجر سےپرے ہٹائے۔۔۔ میجر کی زبان سے اُس کےمنہ کا گندہ ذائقہ۔۔۔ جیسے کبھی برش ہی نہ کیا ہو دانتوں کو۔۔۔ سگریٹ اور شاید شراب کی بدبو تھی۔۔۔ لیکن صباء آہستہ آہستہ اس کی زبان کو چاٹ رہی تھی۔۔۔ چوس رہی تھی اور اس کی اپنی چوت جیسے پانی چھوڑتی جا رہی تھی۔۔۔ میجر نے اپنے دونوں ہاتھ نیچے لا کر صباء کے دونوں مموں پر رکھے تو صباء جیسے اچھل ہی پڑی اور ایکدم میجر سے الگ ہوگئی۔۔۔

میجر :کیا ہوگیا۔۔۔؟کیوں ڈر گئی ہو۔۔۔؟ ابھی تو میں نے اپنا لن باہرنہیں نکالا۔۔۔جس کی یاد میں ساری رات جاگتی رہی ہو۔۔۔ تڑپتی رہی ہو۔۔۔ ہے نا۔۔۔؟؟؟

 صباء نے کوئی جواب نہیں دیا بس اپنی نظریں جھکالیں۔۔۔ میجر نے دوبارہ سے صباء کے مموں کو آہستہ آہستہ سہلانا شروع کر دیا۔۔۔ گیلی شرٹ اور برا میں صباء کے مموں کے نپلزبھی اکڑے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔۔۔ جیسے جیسے میجر اُس کےمموں کو سہلاتا جاتا تھاویسے ویسے

 ہی صباء کی آنکھیں بند ہوئی جا رہی تھیں۔۔۔ مموں سے تھوڑا ہاتھ نیچےلے جاتے ہوئے میجر نے اپناہاتھ صباء کی ایلاسٹک والی شلوار میں ڈال دیا۔۔۔ اس کا ہاتھ سیدھا صباء کی پھدی کے اُوپر کے مخملی۔۔۔ ریشمی بالوں پر آیا۔۔۔ دھیرے دھیرے اُس کے بالوں کو سہلانے لگا۔۔۔ صباء نے اس کا ہاتھ ہٹاناچاہا لیکن میجر نے دوسرےہاتھ سے صباء کا ہاتھ پکڑ لیا اور صباء کی پھدی کو سہلانے لگا۔۔۔ اس کا موٹا ،کھردرا ہاتھ صباء کی پھدی کو سہلا رہا تھا۔۔۔ اس کی چوت کے دانے کو رگڑرہا تھا۔۔۔ دھیرے دھیرے اس کی چوت کے سوراخ کو چھیڑ رہا تھا۔ صباء کی حالت خراب سےخراب تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ جیسے ہی میجر نے اپنی انگلی صباء کی چوت کے اندر داخل کی تو۔۔۔ ایک تیز سسکی کے ساتھ صباء میجر کے مضبوط جِسَم کے ساتھ چپک گئی اور اپنا سر میجرکے کاندھے پر ر کھ دیا۔۔۔ جیسے خود کو ایک بار پِھرسے میجر کے آگے سرنڈر کردیا ہو۔۔۔ جیسے آج پِھر سے خود کومیجر کے سپرد کر دیا ہو۔۔۔میجر بھی بڑی بری طرح سے صباء کی چوت کو رگڑتا جا رہا تھا۔۔۔ اس کی چوت کے دانے کو سہلاتے ہوئے اس کی پھدی کے اندر باہر انگلی کر رہا تھا اور صباء کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں۔۔۔

 س س س س س س۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ بس س س س س س س۔۔۔ پلیز ز ز ز ز ز ز۔۔۔ اور۔۔۔ نہیں ں ں ں ں ں ں۔۔۔

 لیکن میجر کہاں ماننے والا تھا۔۔۔ اس نے صباء کو صوفہ پرلٹایا اور اس کی ٹانگوں سےشلوار کھینچ 

کر اتار دی۔۔۔ صباء بس اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔ اگلے ہی لمحے صباء کی خوبصورت سی چوت ایک بار پِھر سے میجر کی آنكھوں کے سامنے تھی۔۔۔

میجر نے صباء کی دونوں ٹانگوں کو خود سے ہی کھول کر پھیلا دیا۔۔۔ سنگل صوفہ پر پڑی ہوئی تھی صباء ۔۔۔ میجر نے اس کی دونوں ٹانگوں کو کھول کر صوفہ کےدونوں بازوؤں پر رکھ دیا۔۔ صباء کی پھدی کا منہ پوری طرح سے کھل گیا۔۔۔ اس کی گانڈ بھی صوفہ کےبالکل کنارے پر تھی۔۔۔ باہر کو نکلی ہوئی۔۔۔ میجر صوفہ سے نیچے بیٹھ کر صباء کی پھدی کو دیکھتا رہا۔۔۔

 اف ف ف ف ف ف ف ف۔۔۔ ظالم کیا مست چیز چھپائی ہوئی ہے تو نےاپنی ان ٹانگوں کے بیچ میں اور وہ بھی اس ہیجڑے کےلیے۔۔۔ بہن چود چودتا بھی ہےتجھے کبھی یا اپنی بہن بناکر رکھا ہوا ہے اس حرامی نے۔۔۔

  صباء کو میجر کی گالیاں بہت ہی بری لگ رہی تھیں لیکن۔۔۔اس نے اسے روکا نہیں۔۔۔ میجر نے جھک کر صباء کی چوت کے بالکل اُوپر اس کی چوت کے دانے پر تھوک گرادیا۔۔۔ گاڑھا گاڑھا سفید تھوک۔۔۔ جوکہ دھیرے دھیرے بہتاہوا نیچے کو آنے لگا۔۔۔ صباء کی پھدی کے سوراخ کی طرف۔۔۔ میجر نے ایک بار پِھر سےاپنی انگلی صباء کی چوت کے اندر ڈال دی اور اسے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔ 

آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ اف ف ف ف ف ف ف ف۔۔۔بس س س س س س س س۔۔۔س س س

 س س س۔۔۔

 صباء کی حالت خراب ہو رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے آرگزم کو پہنچنے والی تھی۔۔۔ وہ بری طرح سے تڑپ رہی تھی۔۔۔ صباء نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اپنی پھدی کو اُوپرکو اچھالتے ہوئے اپنی چوتکو خود سے ہی میجر کی انگلی سے چدوانے لگی۔۔۔ اچانک سے میجر نے اپنی انگلی صباء کی چوت سےنکال لی۔۔۔ اس کی پھدی کے پانی نےمیجر کی انگلی کو بری طرح سے گیلا کر دیا ہوا تھا۔۔۔ میجر اپنی انگلی صباء کی آنكھوں کے سامنے لاتا ہوابولا۔۔۔

میجر ؛ دیکھ کتنی گیلی ہو رہی ہےتیری چوت۔۔۔

پِھر میجر نے اپنی انگلی صباء کے دونوں ہونٹوں کےدرمیان ڈال دی۔۔۔ میجر کی انگلی بنا کسی

 رکاوٹ کے صباء کے منہ کےاندر چلی گئی۔۔۔ صباء کو اپنی چوت کے پانی کا ذائقہ چکھنا پڑا۔۔۔ لیکن اپنی پھدی کی بےچینی سے اس کی ایسی حالت ہو رہی تھی کہ اس نےبنا کچھ سوچے سمجھے ہوئےہی میجر کی انگلی کوچوسنا شروع کر دیا۔۔۔ اپنی ہی چوت کا گاڑھاپانی چوسنے لگی۔۔۔ کچھ ہوش نہیں تھا کہ کیاکر رہی ہے بس اپنی چوت کوہوا میں اچھالتے ہوئے میجرکی انگلی کو چوسے جا رہی تھی۔۔۔ میجر نے اپنے شارٹ کو تھوڑانیچے کھینچ دیا۔۔۔ اس کا موٹا ،کالا لن ایک بار پِھر سے صباء کی آنكھوں کے سامنے لہرانے لگا۔۔۔ صباء نے آنکھیں کھول کرمیجر کے لن کو دیکھا تو اسکی پیاس جیسے کئی گنا بڑھ گئی۔۔۔ وہی پیاس دوبارہ سے جاگ گئی تھی جو کل میجر نےاپنا لن یہی کالا لن اس کی گلابی چوت پر لگا کر جگادی تھی اور پِھر اسے پیاسا چھوڑ گیاتھا۔۔۔ کہیں آج بھی۔۔۔ ویسے ہی تو نہیں کرے گا یہ۔۔۔کیا آج مجھے پہلے کی طرح چود دے گا نا اپنے لن سے۔ لیکن اشرف۔۔۔ وہ تو کسی بھی وقت آ سکتاہے۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔۔ کاش کے ابھی نہ آئے وہ۔۔۔ میجر نے دھیرے دھیرے اپنےلن کو صباء کی چوتپر رگڑنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ صباء کے جِسَم کا نچلا حصہ مچل رہا تھا۔۔۔ تڑپ رہا تھا۔۔۔ اس موٹے کالے لن کو اپنےاندر لینے کے لیے بے چین ہورہا تھا۔۔۔ اُس کے اندر وہی تڑپ تھی جو کل شام سے اس کی پھدی کے اندر ہو رہی تھی۔۔۔ یہی تڑپ ساری رات اسے تڑپاتی رہی تھی۔۔۔ صباء آہستہ آہستہ اپنی پھدی کو اُوپر کو اچھال رہی تھی۔۔۔ میجر کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے ۔۔۔ اپنی خواہش بیان کرتے ہوئے ۔۔۔ اس سے التجا کرتے ہوئے ۔۔۔ریکویسٹ کرتے ہوئے کہ پلیزاندر ڈال دو لیکن میجر۔۔۔ میجر تو بس دھیرے دھیرےاس کی پھدی پر اپنا لن رگڑتا جا رہا تھا۔۔۔ انگارہ بنی ہوئی چوت کواور تڑپا رہا تھا۔۔۔ نیچے اس کی چوت کےسوراخ کے پاس اپنے لن کولاتا تو اس کی چوت کا چکناپانی اس پر لگ جاتا جس سے اس کا لن چمک رہا تھا۔۔۔ کالا سیاہ لن چمک رہا تھا۔۔۔ صباء کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔

آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ بس س س س س س۔۔۔ کرو و و و و و و۔۔۔ نہ تڑپاؤ ؤ ؤ ؤ ؤ ؤ ؤ ؤ۔۔۔ ڈال ل ل ل ل۔۔۔ دو و و و و و و و۔۔۔ جلدی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔ س س س س س س۔۔۔

میجر مسکرایا ؛ لیکن وہ تمہارا شوہر بھی تو آنے والا ہے نا۔۔۔

صباء تڑپی ؛ نہیں ں ں ں ں ں۔۔۔ بس س س س س۔۔۔ نہیں آے گا۔۔۔ جلدی سے کرو و و و و۔۔۔ پلیز ز ز ز ز ز۔۔۔

صباء نے اپنا ہاتھ بڑھا کرمیجر کا لن پکڑ لیا تھا اوراسے اپنے ہاتھ سے اپنی چوتپر رگڑنے لگی۔۔۔

میجر ؛ تمہارا شوہر ناراض ہو جائے گا کہ میں نے اس کی بِیوِی کو چودا ہے۔۔۔

صباء ؛ پلیز ز ز ز ز ز۔۔۔ ایسی باتیں نہ کرو۔۔۔

میجر ؛ لیکن اگر اسے پتہ چل گیا تووو و و۔۔۔

صباءاپنی چوت کو اُوپرکو اچھالتے ہوئے ؛ نہیں چلے گا۔۔۔بس جلدی کرو و و و و و۔۔۔

میجر نے اپنا لن تھوڑا آگےکیا۔۔۔ جو کہ پہلے سے ہی صباء کےہاتھ میں تھا۔۔۔ صباء نے اُس کے لن کو اپنی چوت کے سوراخ پر ٹکا دیا اور اپنی دونوں ٹانگیں میجرکی کمر کے پیچھے لے جاکراُس کی گانڈ پر اپنے پیر رکھےاور اسے اپنی طرف کھینچنےلگی۔۔۔ایک ہی جھٹکے سے میجر کاموٹا کالا لن صباء کی ٹائیٹ گلابی پھدی میں چلا گیا۔۔۔

آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ س س س س س۔۔۔ مم م م م م م۔۔۔

صباء کو تو جیسے جنت ہی مل گئی تھی۔۔۔ وہ پاگل ہونے لگی۔۔۔ میجر کو پیچھے سے اپنی طرف دباتے ہوئے اس کا پُورالن اپنے اندر لیے ہوئے تھی۔۔۔ میجر کی آنكھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنےدونوں بازو اُوپر کیے اورمیجر کی کالی گردن میں ڈال کر اُس کے سر کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔ صباء کی پھدی کے اندرمیجر کا لن پوری طرح سےپھنسا ہوا تھا۔۔۔ صباء کی چوت اُس کے لن کو دبا رہی تھی۔۔۔ نچوڑ رہی تھی۔۔۔ میجر ہنس رہا تھا اس کی حالت پر۔۔ اس کی تڑپ پر

 اب جب بھی میں بلاؤں گاتو میرے پاس آؤ گی نا۔۔۔؟؟؟؟

صباء آنکھیں بند کر کے۔۔۔ ہاں ں ں ں ں۔۔۔ آؤں گی ی ی ی ی۔۔۔

میجر :رات کو تمہارے پاس آجاؤں میں۔۔۔؟؟ بولو۔۔۔

صباء :اپنی پھدی کو اُوپر کو اٹھاکر میجر کے لن سے چدواتےہوئے۔۔۔ہاں آ جاناجو دِل آئے کر لینا۔۔۔ لیکن ابھی۔۔۔پلیز ز ز ز ز ز ز ز۔۔۔ کچھ کر دو و و و و و۔۔۔

صباء نے اپنا منہ کھول کرمیجر کے کالے سیاہ کاندھےپر رکھ دیا۔۔۔ میجر کے جِسَم کا پسینہ صباء کے منہ میں جانے لگا۔۔۔ لیکن صباء کو کوئی احساس نہیں تھا۔۔۔ وہ اپنی پھدی میں موجودلن کے اثر سے میجر کےکاندھے کو چاٹنے لگی۔۔۔ اُس کے پسینے کو چاٹنے لگی۔۔۔میجر بھی دھکے لگا رہا تھا۔۔۔اپنے لن کو اندر باہر کرتےہوئے ۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔

ابھی صباء کی چوت اپنی منزل کے قریب جا ہی رہی تھی کہ۔۔۔ کہ بیل بج اٹھی۔۔۔ میجر فوراً سے اٹھنے لگا اوراپنا لن صباء کی پھدی سےباہر کھینچ لیا۔۔۔ لیکن صباء تو جیسے پاگل ہورہی تھی۔ جھٹکے سے میجر کو دوبارہ سے اپنے اُوپر گرا لیا۔۔۔

نہیں ں ں ں ں ں۔۔۔ ایسے نہ چھوڑ کرجاؤ ؤ ؤ ؤ ؤ ؤ ؤ۔۔۔ پلیز ز ز ز ز ز۔۔۔ ابھی نہیں ں ں ں ں ں ں ں۔۔۔

میجر :پاگل نہیں بنو۔۔۔ تیرا شوہر باہر کھڑا ہے۔۔۔ مجھے جانے دے۔۔۔ اُس کے سامنے تجھے چودنے میں مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے پر میں ایک ہی بارمیں ساری بات اوپن نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ یہ چڑیا میں ہاتھ سے نکلنےنہیں دوں گا۔۔۔ چل جانے دے مجھے کل کوبلاؤں گا تجھے میں پِھر آ کرچُدوا لینا۔۔۔سالی۔۔۔

لیکن صباء ہر چیز سے بےخبر تڑپ رہی تھی۔۔۔مچھلی کی طرح سے۔۔۔ کل کے بعد آج دوسری بار وہ یہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی کہ اِس طرح پیاسی رہ جائے۔۔۔ لیکن میجر اس سے دور ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ دوبارہ سے بیل ہوئی۔۔۔ صباء کو جیسے تھوڑا ہوش آنے لگا۔۔۔اُس کے چہرے پر گھبرا ٹ کے آثار نظر آنے لگے۔۔۔ وہ اٹھی۔۔۔ آہستہ آہستہ خود کوسنبھالتے ہوئے اسے اِس وقت اپنا پیارا اورمحبت کرنے والا شوہر زہر لگ رہا تھا۔۔۔بس نہیں چل رہا تھا کہ میجر 

کی جگہ ابھی کے ابھی اسی کا خون کر دیتی۔۔۔ لیکن پِھر وہ اٹھی۔۔۔ تبھی تیسری بار بیل بج اٹھی میجر بالکونی کی طرف بڑھااور صباء کو بولا۔۔۔

جا ایسے ہی کھول دےدروازہ اب ٹائم نہیں ہے تیرےکپڑے پہننے کا۔۔۔

صباء نے میجر کو بالکونی میں جاتے ہوئے دیکھا اور پِھرخود بھی خود کو گھسیٹتی ہوئی مین گیٹ کی طرف لےگئی۔۔۔ ایسی حالت میں کے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ قمیض کی ذپ پیچھے سے کھلی ہوئی تھی اور نیچے سے شلوار بھی غائب تھی۔۔۔جیسے جیسے اسے ہوش آرہا تھا ویسے ہی اسے ڈر بھی لگنے لگا تھا لیکن پِھر اس نےہمت کر کے دروازہ کھولا اوراشرف اندر آ گیا۔۔۔صباء کی یہ حالت دیکھ کربولا۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔ یہ کیا حلیہ ہے۔۔۔؟؟؟؟

صباء اکتاہٹ سے اس سے منہ پھیر کر اندر کو جاتے ہوئےبولی۔۔۔

کیا حلیہ ہے۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ نہانے کے لیے کپڑے اُتار رہی تھی۔۔۔ کہ بیل بج گئی۔۔ باتھ روم سے آتے آتے تم نےبیل دے دے کر فلیٹ سرپر اٹھا لیا۔۔۔

اس کی پھدی کے اندر آگ لگی ہوئی تھی۔۔۔ اس کی پھدی پیاسی تھی اور یہی آگ اُس کے منہ سےنکل رہی تھی۔۔۔اس کا موڈ خراب ہو چکا ہواتھا۔۔۔ ایک بار پِھر سے پیاسی رہ جانے کی وجہ سے۔۔۔ اب وہ میجر کو کیا دوش دیتی۔۔۔ اس کا کیا قصور تھا۔۔۔ پِھر ایک بار سارے کا سارےقصور اشرف کا ہی نکل آیاتھا۔۔۔ اشرف نے صباء کو ناراض ہوکر آگے کو چلتے ہوئے دیکھاتو اس کی نظر صباء کی ننگی کمر پر پڑی جہاں سےاُس کے بلیک برا کےسٹریپس اور بیلٹ نظر آ رہےتھے۔۔۔ اشرف کا بھی دِل مچل گیا۔۔۔اس نے پیچھے سے صباء کواپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اشرف :ارے کیا ہو گیا میری جان کو۔۔۔کیوں ناراض ہو رہی ہو۔۔۔؟؟؟؟

 پیچھے سے آگے ہاتھ لے جاتےہوئے اشرف نے اپنا ہاتھ صباء کی شرٹ کے نیچے سےاس کی چوت پر رکھ دیا۔۔۔جیسے ہی اشرف کا ہاتھ صباء کی چوت کو ٹچ ہوا توصباء کی پیاس ایک بار پِھر سے جاگ اٹھی۔۔۔ وہ ٹرپ اٹھی۔۔۔ مچل کر اپنی سائڈ بدلی اوراشرف کی گردن میں بانہیں ڈال کر اپنے ہونٹ اُس کےہونٹوں پر رکھ دیے اور اپنی چوت کو اس کی پینٹ کےاگلے حصے پر رگڑنے لگی۔۔ اشرف کا لن بھی اکڑنے لگاتھا۔۔ اسے صباء کی ایسی حالت پرحیرت ہو رہی تھی۔

مم م م م م م م۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ اشرف ف ف ف ف ف۔۔۔

 اشرف صباء کو اندر بیڈروم میں لے جانے لگا۔۔۔

صباء :یہیں پر۔۔۔

اشرف :نہیں بیڈروم میں۔۔۔ تمہیں پتہ تو ہے کہ مجھےاچھا نہیں لگتا ایسے باہر۔۔۔

اندر جا کر اسے بیڈ پر لٹایااور جلدی سے اپنے کپڑے اُتاردیے۔۔۔ اس کا لن اکڑا ہوا تھا۔۔۔ اشرف نے جلدی سے بیڈ کی سائڈ دراز سے کنڈم نکالا اورکھول کر اپنے لن پر چڑھا کرفوراً سے صباء کی ٹانگوں کےدرمیان میں آیااور اپنا لن صباء کی چوت پررکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دیا۔۔ میجر کے ننگے لن کو اپنی چوت میں لینے کے بعد صباءکو اشرف کا کنڈم والا لن عجیب سا لگ رہا تھا اشرف کبھی بھی اسے کنڈم کے بنا نہیں چودتا تھا۔۔۔ جبکہ میجر نے جب بھی اسےچودا تھا تو بنا کنڈم کے ہی چودا تھا اور اپنی منی بھی اس کی پھدی میں ہی ڈالی تھی اور پِھر ہر بار اسے ایمرجنسی ٹیبلیٹس لینی پڑی تھیں۔۔۔ اشرف صباء کے اُوپر جھک کر اپنا لن اس کی چوت کے اندر باہر کرتے ہوئے اسےچودنے لگا۔۔۔ اشرف کا لن صباء کی پھدی میں اندر باہر ہو رہا تھا۔ لیکن چند لمحے پہلے ہی اس کی پھدی میں جو میجر کےلن کا مزا آیا تھا وہ اسےاشرف سے نہیں مل پا رہا تھا۔۔۔ صباء اشرف کے ساتھ چپکتی جا رہی تھی۔۔۔ اسے اپنی طرف کھینچتی جارہی تھی۔۔ اور اندر۔۔۔ اور اندر تک اس کا لن لینےکی کوشش کرتے ہوئے ۔۔۔ لیکن آخر اشرف کا لن کتنےاندر تک جا سکتا تھا۔۔۔ وہ کون سا بہت لمبا تھا۔۔۔صباء اشرف کے جِسَم کو دبارہی تھی۔۔۔ کھینچ رہی تھی۔۔۔۔لیکن اُس کے ہاتھوں کو وہ سختی اور جِسَم کی مظبوطی محسوس نہیں ہوپا رہی تھی جو کہ کچھ دیرپہلے میجر کی مضبوط بانہوں میں اسے ملی تھی۔۔۔ اپنی آنکھیں بند کر کے بس اُس کے لن کو انجوئے کرنےلگی لیکن جیسے ہی آنکھیں بند کی تھیں تو اس کیآنكھوں کے سامنے

 میجر کاچہرہ آ گیا جو اُس کے اندرلن ڈالے ہوئے تھا۔۔۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا صباء کو۔۔۔ وہ چلا اٹھی۔۔۔ سسک اٹھی۔۔۔

آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ اور اندر ر ر ر ر ر ر۔۔۔ زور سے اور زور سے۔۔۔ آہاں ں ں ں ں ں ں۔۔۔ پلیز ز ز ز ز ز ز۔۔۔۔۔۔

اشرف کو یہ سن کر حیرت ہو رہی تھی کیونکہ آج سےپہلے اس نے کبھی بھی صباءکو اتنا خماری میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔ نہ کبھی اتنی شدت سے صباءنے اسے بھینچا اور زور زورسے چودنے کو بولا تھا لیکن آج تو صباء کے اندرکوئی چوداسی روح گُھس چکی ہوئی تھی۔۔۔ کسی رنڈی کی روح آج صباء کی چوت کی گرمی سے اشرف کا بھی اپنے لن پرسے کنٹرول ختم ہوگیا تھااور پہلے کی نسبت آج بہت ہی جلدی سے اُس کے لن نےپانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔ صباء نے جب یہ دیکھا تواس کی حالت اور خراب ہونے لگی۔۔۔

نہیں ں ں ں ں ں۔۔۔ ابھی نہیں ں ں ں ں ں۔۔۔رکو و و و و و و و۔۔۔ابھی ی ی ی ی ی ی

نہیں ں ں ں ں ں۔۔۔پلیز ز ز ز ز ز ز۔۔۔

وہ پاگلوں کی طرح سےاشرف سے لپٹ گئی اور اپنی چوت کو اُس کے مرجھائےہوئے لن سے رگڑنے لگی۔۔۔ اچھال اچھال کر۔۔۔ گھما گھما کر۔۔۔ اور آخر بہت زیادہ کوشش کے بعد۔۔۔

صباء ٹھنڈی ہو گئی۔۔۔ اس کی پیاسی چوت ٹھنڈی ہو گئی۔۔۔ نڈھال ہو کر گر پڑی۔۔۔ آنکھیں بند۔۔۔ بس سانسیں تیز تیز چل رہیں تھیں۔۔۔ ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔۔۔ پھدی دھیرے دھیرےکنٹریکٹ کر رہی تھی۔۔۔ بہہ رہی تھی۔۔۔پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔ لیکن چوت کے اندر تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ تھوڑا ہوش آیا تو اس نےدیکھا کے اشرف تو کب کا اس کے اُوپر سے اٹھ کر باتھ روم میں جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔جب صباء نے خود کو خالی خالی محسوس کیا۔۔۔ جب اسے کوئی مضبوط جِسَم اپنی بانہوں میں دبانےکو نہ مل پایا۔۔۔ جب اسے اپنی چوت کا خالی پن محسوس ہوا۔۔۔ جب اسے اپنا بہت ہی معمولی اور ہلکا سا اور نہ مکمل آرگزم یاد آیا۔۔۔ تو اُس کے منہ سے خود سےہی نکل گیا۔۔۔

کتا۔۔۔ کمینہ۔۔۔( لیکن کون۔۔۔۔ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟) 

اشرف باتھ روم میں نہا رہاتھا اور صباء بیڈ پر لیٹی ہوئی یہی باتیں سوچ رہی تھی۔۔۔ کتنا فرق ہے اس کمینے اوراشرف میں۔۔۔ اس کا کتنا موٹا اور لمبا ہے۔ کتنا مضبوط ہے اس کا جِسَم۔۔۔ سولڈ ۔۔۔ پتھر کے جیسا۔۔۔ اتنی عمر میں بھی اشرف کی جوانی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔۔۔ صباء میجر کو یاد کر رہی تھی۔۔۔ اس کا جِسَم بھی اسے یاد کررہا تھا اور شاید اس کی چوت بھی میجر کو یاد کرنے لگی تھی۔۔۔ اشرف نہا کر باہر آیا ٹاول سےاپنا جِسَم صاف کرتے ہوئے اور صباء سے بولا کہ اٹھو نہالو جا کر۔۔۔ صباء بس خالی خالی نظروں سے اشرف کو دیکھتی رہی۔۔۔جیسے کوئی اجنبی اُس کےسامنے کھڑا ہو۔۔۔ پِھر آہستہ سے اٹھی اور اپنےجِسَم کو گھسیٹتی ہوئی واش روم میں آگئی۔۔۔ اشرف اور میجر کا مقابلہ کرتے ہوئے نہانے لگی۔۔۔ نہا کر باہر آئی اور جِسَم صاف کر کے اپنی دراز میں سے اپنے انڈر گارمنٹس نکالنےلگی۔۔۔ دراز کھولی تو نظر اپنے حیض میں استعمال ہونےوالے پیڈز کے پیکٹ پر پڑی اور ساتھ ہی اسے میجر کاانڈرویئر یاد آیا کہ اس میں پڑا ہے۔۔۔ برا اور پینٹی اٹھاتے اٹھاتےاس کا ہاتھ اس پیکٹ پر چلاگیا اور دھیرے دھیرے وہ اس پر ہاتھ پھیرنے لگی بناکچھ سوچے۔۔۔ بنا کچھ یاد کیے۔۔۔ بنا کسی وجہ کے۔۔۔ اشرف کی آواز آئی۔۔۔ جلدی کرو یار۔۔۔ اشرف کی آواز نے صباء کوچونکا دیا۔۔۔ اور وہ جلدی سے ایک برا اور پینٹی لی کر بیڈ کےقریب آگئی اور پِھر کپڑےپہن کر تیار ہو گئی۔۔۔ اشرف نے آج کھانا بھی باہرہی کھانے کا پلان کر لیا تھا۔۔۔دونوں باہر گھومنے چلے گئےایک ریسٹورنٹ میں كھاناکھایا اور پِھر پارک میں اورشاپنگ مال میں۔۔۔جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا صباء کی پیاس سوتی جارہی تھی اور اسے واپس اپنےشوہر کی محبت کا خیال آتاجا رہا تھا۔۔۔کیسے میرا خیال رکھ رہا ہے۔۔۔ کتنی محبت سے پیش آرہا ہے۔۔۔ کتنا پیار کر رہا ہے اور میں ایسے انسان کوچھوڑ کر اس جانور کےخیالوں میں کھوتی چلی جارہی ہوں جوکہ صرف اورصرف شاید میرے جِسَم کابھوکا ہے۔۔۔ بھوکے بھیڑیوں کی طرح۔۔۔ کیسے میں اشرف سے دور ہوسکتی ہوں۔۔۔ میں کیوں اس کتے کے سامنےننگی ہو کر لیٹ جاتی ہوں۔۔۔ کیوں تڑپتی ہوں اُس کےسامنے۔۔۔ کیوں مجھے اس کی پیاس ہوتی ہے۔۔۔ نہیں نہیں میں خود سے ایساکب کرتی ہوں۔۔۔ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے وہ سب میری مرضی کے بغیرہی تو ہو رہا ہے۔۔۔ سب کچھ اپنی پیاری سی زندگی کو بچانے کے لیے ہی کر رہی ہوں نا۔۔۔ اشرف کو بچانے کے لیے ہی تو مجھے اس کمینے کی وہ گندی شرائط ماننی پڑی ہیں۔۔۔ میں خود بھی تو مجبور ہوں نا۔۔۔ صباء اپنے آپ کو سمجھانےلگی۔۔۔ اپنے اندر سر اٹھاتی ہوئی ندامت کو کم کرنے کے لیےخود ہی دلائل دینے لگی اور اُس کے یہ دلائل تھے بھی مضبوط۔۔۔ کوئی غلط بات تو نہیں تھی ان میں۔۔۔بس مجھے خود سے اس کا سامنا کرنے سے بچنا ہے۔۔۔ لیکن اگر وہ خود آیا۔۔۔ میں نے چابی بھی تو دے دی ہے نا اسے ۔۔۔ نہیں ایسے کیسے آجائے گا۔۔۔ اتنی ہمت کیسے کر سکتا ہےکہ دروازہ چابی سے کھولےاور اندر آجائے۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔بس اب نہیں جاؤں گی اُسکے پاس۔۔۔ صرف اور صرف اپنے اشرف کو خوش رکھوں گی۔۔۔ صباء نے پارک میں ٹہلتےہوئے سوچا اور اس کا بازوپکڑ کر اپنا سر اُس کےکاندھے پر رکھ دیا۔۔۔ رات کو تقریباً نو بجے دونوں واپس آئے۔۔۔

 صباء بولی ؛ دودھ کا ایک پیکٹ لیتے چلوچائے بنانے کے لیے۔۔۔

اشرف اور صباء بِلڈنگ کےپاس والی ہی دکان پر رک گئے۔۔۔ صباء اشرف کی سائڈ پرکھڑی تھی

اشرف :فضل چچا دودھ کا ایک پیکٹ تو دینا۔۔۔

فضل چچا ( دکان کا مالک ) :اچھا بیٹا ابھی لو۔۔۔ارے ہاشو ایک پیکٹ دودھ کا دو اشرف بابُو کو۔۔

فضلو چچا نے اپنی دکان پرکام کرنے والے لڑکے کو کہا۔۔۔ اس نے اٹھ کر دیکھا اور بولا۔۔۔

چچا دودھ کا پیکٹ تو ختم ہیں۔۔۔

فضلو :ابے کتنی بار کہا ہے کہ مال چیک کر کے رکھا کر پہلے سے۔۔۔ چل جا اب اُوپر گودام سے اٹھا کر لا ایک کاٹن۔۔۔ دفعہ ہو اور جلدی مرنا واپسی ۔۔۔

ہاشو :جی چچا ابھی آیا۔۔۔ ہاشو اندر کی طرف بنی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھا جوکہ اُوپر موجود گودام میں جاتی تھیں صباءاور اشرف دونوں ہی اسےاوپر جاتے ہوئے دیکھنے لگے۔۔۔سترہ اٹھارہ سال کا لڑکا تھا۔۔۔ ایک گندی سی بنیان اورگھٹنوں تک کا ایک بڑا سا اورڈھیلا سا شارٹ پہنا ہوا تھااور وہ بھی گندا ہو رہا تھا۔۔۔ہاشو کا جِسَم تھوڑا موٹا تھا۔۔۔جیسے پھولا ہوا ہو۔۔۔لیکن تھا ایک نمبر کا نکماانسان۔۔۔

فضلو :بس بیٹا تھوڑی سی دیرانتظار کرنا پڑے گا۔۔۔ اور کچھ چاہیے ہے تو بولو۔۔۔

اشرف :نہیں چچا بس آپ سناؤ چچاکیا حال ہے۔۔۔

فضل چچا :سب ٹھیک ہے تم سناؤ نوکری ٹھیک جا رہی ہے نااور بیٹی تمہارا کیا حال ہے۔۔۔

فضل چچا نے اشرف کے پاس نقاب میں کھڑی ہوئی صباءکو دیکھ کر پوچھا جس کی صرف آنکھیں

 ہی نظر آ رہی تھیں۔۔۔

صباء :سب ٹھیک ہے چچا۔۔۔

فضل چچا :کوئی پریشانی تو نہیں ہے نایہاں نئی بِلڈنگ میں۔۔۔؟؟

اشرف سے اس نے پوچھا۔۔۔ اشرف نے ایک نظر صباء کی طرف دیکھا اور بولا۔۔۔

باقی سب تو ٹھیک ہے بس چچا ایک ہی ٹینشن ہے اوروہ ہے میجر کی۔۔۔ بہت ہی بدتمیز آدمی ہے

صباء فوراً بولی ؛ چھوڑو بھی اس کی بات کتنی بار تو کہا ہے میں نے کہ اس کی باتوں پر دھیان نہیں دیا کرو آپ۔۔۔

فضل چچا :ہاں بیٹا میری بیٹی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔بس اپنا وقت پاس کرو۔۔۔اس سے نپٹنے کا تو یہی طریقہ ہے کہ بس اس سےپنگا نہ لو۔۔۔ بہت خطرناک آدمی ہے وہ۔۔۔

اشرف :کیا مطلب چچا ؟ ؟ ؟

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

THANKS DEAR