مرتے دم تک
تحریر: ماہر جی
تیرہویں قسط
اہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔مم م م م۔۔۔س س س س س۔۔۔صباء کاجِسَم جھٹکے لینے
لگا۔۔۔اس کی چوت میجر کے لن کو بھینچنے لگی۔۔۔دبانے لگی۔۔۔اپنا پانی چھوڑنے لگی۔۔۔
صباء کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں اور اس کا جِسَم ڈھیلاپڑ گیا تھا۔۔۔بہت ہی اسٹرونگ
قسم کاآرگزم ہوا تھا صباء کا۔۔۔جس نے اس کی ساری پیاس بجھا دی تھی۔۔۔پورے جِسَم کو
ریلکس کر دیا تھا۔۔۔تھوڑی ہی دیر کے بعد میجرکے لن سے بھی منی نکلنےوالی ہو
گئی۔۔۔میجر نے اپنا پُورا لن آخر تک صباء کی چوت کے اندر پُش کیا اور چند ہی لمحوں
کےبعد اُس کے لن نے اپنی منی صباء کی چوت کےاندر چھوڑنی شروع کر دی۔۔۔صباء کو جیسے
سکون ملنےلگا۔۔۔اس کی چوت کی آگ اس گرم گرم پانی سے ٹھنڈی ہونے لگی۔۔۔میجر نے اپنا
لن اس کی چوت سے نکالا اور اُس کے بیڈ پر ہی لیٹ گیا۔۔۔صباء بھی نڈھال ہو کر
میجرکے پہلو میں لیٹ گئی۔۔۔اس کی چوت سے منی نکل کر اُس کے اپنے بیڈپر گرنے
لگی۔۔۔بہتی ہوئی۔۔۔میجر کی منی۔۔۔جو صباء کی چوت کے اندرڈسچارج ہوئی تھی۔۔۔دھیرے
دھیرے صباء کے بیڈکو خراب کر رہی تھی۔۔۔لیکن صباء آنکھیں بندکیے لمبے لمبے سانس لے
رہی تھی۔۔۔آج تو میجر نے اسے بنا پُوراننگا کیے ہی چود دیا تھا۔۔۔اس کی قمیض اور
برا اب بھی اُس کے جِسَم پر تھے۔۔۔صباء چودنے کے بعد میجرکے پہلو میں لیٹی ہوئی
تھی۔۔۔میجر نے اس کا بازو پکڑ کراسے اپنی طرف موڑا اورایک جھٹکے سے
اسے اپنےجِسَم کے اوپر لے لیا۔۔۔صباء نے اپنی آنکھیں کھولکر
میجر کو دیکھا۔۔۔
میجر :بس اب تو خوش ہے نہ۔۔۔اب تو ہوگئی نہ تیری تسلی۔۔۔اب تو بجھ
گئی نہ تیری پھدی کی پیاس۔۔۔
صباء نے شرما کر اپنی آنکھیں جھکا لیں۔۔۔اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی
مسکراہٹ تھی۔۔۔صباء نے دھیرے سے اپنا سرمیجر کے چوڑے سینے پررکھ دیا۔۔۔اپنے گال کو
اُس کے سینےپر ٹکا کر۔۔۔میجر کے سولڈ سینے کو اپنےگال کے نیچے محسوس کرتےہوئے
۔۔۔میجر کا ہاتھ اس کی کمر کو سہلا رہا تھا۔۔۔دھیرے دھیرے۔۔۔بہت ہی پیار سے۔۔۔صباء
کو اپنی ننگی رانوں کےنیچے میجر کا لن محسوس ہو رہا تھا۔۔۔جو کہ فارغ ہونے کے
باوجودبھی بہت زیادہ چھوٹا نہیں ہوا تھا۔۔۔میجر نے اپنا ہاتھ صباء کی قمیض کے نیچے
سے ڈالا اوراس کی ننگی گانڈ کو سہلانےلگااور پِھر ہاتھ قمیض کےنیچے سے سرکتا ہوا
اوپر کوجانے لگا۔۔۔ننگی کمر پر۔۔۔جیسے ہی اس کی ننگی کمرکو میجر نے سہلایا تو
صباءنے اپنے ہونٹ میجر کے سینےپر رکھ دیے اور اُس کے سینےکو چومنے لگی۔۔۔اپنے پتلے
پتلے گلابی ہونٹوں سے۔۔۔میجر نے اس کی قمیض کواوپر کو اٹھانا شروع کیا۔۔۔صباء نے
بنا کوئی اعتراض کیے ہی تھوڑی سی اونچی ہوکر اپنی قمیض میجرکو اتارنے دی اور اگلے
ہی لمحے صباء اب صرف ایک برا میں تھی اور دوبارہ سے میجر کےسینے پر لیٹ چکی تھی۔۔۔
پتہ نہیں کیوں۔۔۔لیکن خود سے ہی اپنی رانوں کو میجر کے لن کےاوپر رگڑنے لگی۔۔۔آہستہ
آہستہ۔۔۔میجر نے صباء کے سر کےبالوں کو پکڑا اور تھوڑا ساپیچھے کو کھینچ کر اس
کاچہرہ سیدھا کرتے ہوئے بولا۔۔۔کیا بات ہے ابھی اور چدوانا ہے کیا۔۔۔؟؟صباء نے
کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔ایک لمحہ میجر کی آنكھوں میں دیکھا اور پِھر اپنےہونٹوں کو
میجر کے موٹےموٹے کالے ہونٹوں پر رکھ دیااور اسے چومنے لگی۔۔۔اسے اِس وقت کسی بھی
چیز کی فکر نہیں تھی۔۔۔نہ ہی کسی اور چیز کی ضرورت۔۔۔اسے تو بس میجر چاہیے تھااور
اس کا لن اور آج میجر بھی اسے مایوس کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔اس نے بھی دھیرے
سے صباءکی گانڈ کے درمیان سے اپنی انگلی اس کی چوت میں ڈال دی اور اسے سہلانے
لگا۔۔۔پہلے سے ہی تیار صباء کوایک اور راؤنڈ کے لیے تیارکرنے کے لیےاور صباء سوچ
رہی تھی کہ یہ کیسا انسان ہے۔۔۔کبھی تو مجھ سے اتنا براسلوک کرتا ہے۔۔۔اتنی تزلیل
کرتا ہےاور کبھی اتنا خیال کرتا ہے۔۔۔جانور ہے یہ تو پورے کا پُورااور دھیرے سے
میجر کےسینے کو چوم لیا اور خود کواُس کے سپرد کر دیا دوبارہ سے چودنے کے لیے۔۔۔اس
شام میجر اشرف کے آنےسے صرف آدھا گھنٹہ پہلےاپنے فلیٹ پر واپس گیا۔۔۔اُس کے جانے
کے بعد نڈھال اور بہت زیادہ تھکی ہوئی لیکن بالکل سیٹسفائڈ جِسَم کے ساتھ صباء
اٹھی اور نہانے چلی گئی۔۔۔نہاتے ہوئے بھی صباء مسکراتی ہوئی میجرکے بارے میں ہی
سوچ رہی تھی۔۔۔ویسے جو بھی ہے۔۔۔جیسا بھی ہے۔۔۔جو کچھ بھی لوگ اُسکے بارے میں کہتے
ہیں۔۔۔اچھا آدمی ہے یا برا لیکن۔۔۔ہے ایک اصلی مرد۔۔۔کیسے جِسَم کی ہڈیاں تک توڑ
کر رکھ جاتا ہے جب بھی آتا ہے۔۔۔ایسے ہی لوگوں نے اسے برابنایا ہوا ہے اگر اُس کے
ساتھ ٹھیک سے پیش آؤ تو خودہی اچھے سے بات کرتا ہےاور نہ ہی پِھر کسی کونقصان
پہنچاتا ہے۔۔۔وہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ اس کی بات مانتے رہوخاموشی سے۔۔۔پاگل کہیں
کا۔۔۔صباء مسکرا دی۔۔۔نہا کر صباء نے اپنے ننگےجِسَم پر صرف ایک نائٹ گاؤون پہن
لیااور باہر آ کر آئینےکے سامنے بیٹھ گئی اور اپنے دھلے ہوئے حسن کودیکھنے
لگی۔۔۔اُس کے چہرے پر اطمینان ہی اطمینان تھا۔۔۔سکون ہی سکون تھا۔۔۔جیسے پتہ نہیں
کتنے دنوں کے بعد اُس کے جِسَم کی پیاس بجھی ہو۔۔۔پتہ نہیں کتنے دنوں کے بعداُس کے
جِسَم کو سکون ملاہو۔۔۔ایک ہلکی سی مسرت تھی اُس کے چہرے پر جو کے مانواُس کے چہرے
پر چپک سی ہی گئی تھی۔۔۔اسی سکون کی وجہ سے جواسے میجر سے ایک بھرپورچُدائی کے بعد
ملا تھا۔۔۔آخر چودا بھی تو کتنے دن بعد تھا اتنی تسلی سے۔۔۔آئینے کے سامنے بیٹھی
صباءگنگنا رہی تھی اور اپنے گیلے بالوں میں برش کر رہی تھی۔۔۔اپنے ٹائم پر اشرف
گھرواپس آیا۔۔۔آج اس کا چہرہ کچھ لٹکا ہواتھا۔۔۔جیسے بہت پریشان ہو۔۔۔اور
صباء۔۔۔صباء تو اپنی ہی مستی میں تھی۔۔۔آج تو وہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں رہی
تھی۔۔۔جیسے ہی اشرف کے چہرےپر نظر پڑی تو صباء بےاختیار بول اٹھی۔۔۔
صباء :کیا ہوا کیوں چہرہ لٹکایا ہواہے۔۔۔کہیں آج پِھر میجر صاحب سے
مار تو نہیں کھا آئے۔۔۔ صباء کے منہ سے آج میجرکے لیے میجر صاحب کا لفظ نکلا
تھا۔۔۔آخر کیوں نہ نکلتا دِل سے جواس کی عزت کرنے لگی تھی۔۔۔دِل سے جو اس کی ہو
چکی تھی۔۔۔اشرف حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔صباء کی بات سن کر اُس کےچہرے پر
شرمندگی کےاثرات نظر آنے لگے۔۔۔اس دن کے لگے ہوئے تھپڑ کوآج دوبارہ اس کی اپنی
بِیوِی نے اسے یاد کروا دیا تھااور آج پِھر اسے شرمندگی ہوگئی تھی۔۔۔جیسے صباء نے
اسے نیچادکھا دیا ہو۔۔۔جیسے اس کی بے عزتی کردی ہو۔۔۔پِھر بھی اپنی شرمندگی کو
چھپاتے ہوئے بولا۔۔۔
اشرف :نہیں وہ یہ بات نہیں ہے۔۔۔ایک مسئلہ ہو گیا ہے کہ اب کچھ
عرصے کے لیے فیکٹری والوں نے میری نائٹ شفٹ کی ڈیوٹی لگا دی ہے۔۔۔
اشرف کا چہرے اور لہجہ دونوں ہی اترے ہوئے تھے۔۔۔صباء کے لیے بھی
یہ ایک حیران کون خبر تھی۔۔۔
صباء :یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔میں کیسے یہاں رہوں گی رات کو
اکیلی۔۔۔دن کو اچھا تھا جو آپ جاب پر جاتے تھے تو۔۔۔لیکن رات کو کیسے۔۔۔
صباء کے دِل میں ایک یہ خیال بھی آیا تھا کہ اب وہ صبح میجر سے
نہیں مل سکاکرے گی۔۔۔یہ تو بہت برا ہو جائے گا۔۔۔وہ تو پاگل ہو جائے گا۔۔۔اگر میں
اُس کے بلانے پربھی نہ گئی تو وہ تو بہت براسلوک کرے گا میرے ساتھ۔۔۔
اشرف :ہاں سب باتیں ٹھیک ہیں۔۔۔لیکن کچھ بھی نہیں ہو سکتانہ۔۔۔اتنے
عرصے سے کام
کر رہا ہوں میں اور ایک بار بھی میری نائٹ شفٹ نہیں لگی اِس
لیے باقی لوگوں نے بھی اعتراض کیا ہے تو اسی لیےاب مجھے بھی اِس روٹین کاحصہ بننا
پڑے گا۔۔۔ورنہ شاید جاب ہی نہ چھوڑنا پڑے۔۔۔یا وہ نکال دیں گے۔۔۔
صباء کو پتہ تھا کہ وہ لوگ جاب چھوڑنا افورڈ نہیں کرسکتے۔۔۔آج کے
اِس وقت میں اتنی مشکل سے جاب ملی تھی تواسے یوں چھوڑنا تو بالکل ہی بےوقوفی تھی
اور اِس بےوقوفی کو دونوں ہی افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
صباء :آپ کی نائٹ کتنے دن کے لیےہوا کرے گی۔۔۔؟
اشرف :بس اب ایک ہفتہ نائٹ ہواکرے گی اور دوسرا ہفتہ دن کی
ڈیوٹی۔۔۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ نائٹ کے بعد مارننگ پر چھٹی ہوتے ہوتے نو بج جاتے ہیں
اور گھر آتے آتے دس بج جایا کریں گے۔۔۔یہی مسئلہ ہے۔۔۔
پِھر اشرف اسے حوصلہ دیتےہوئے بولا۔۔۔
ارے یار کچھ نہیں ہوتا۔۔۔اب تو اور بھی آسانی ہوجائے گی نہ۔۔۔رات
کو میرے جانے کے بعدتم سو جایا کرنا اور صبح اٹھو گی تو میں بھی آجایا کروں گا اور
پِھر سارادن ہم دونوں ساتھ رہا کریں گے۔۔۔
صباء کو تو صرف میجر کی پریشانی تھی کہ اسے تکلیف نہ ہو۔۔۔لیکن اُس
کے دماغ میں کہیں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اب تو وہ رات کو بھی اُس کےپاس آ سکے
گا۔۔۔اشرف باتھ روم میں نہانے چلا گیا۔۔۔صباء كھانا گرم کرنے لگی کچن میں۔۔۔اچانک
ہی اس کا فون بج اٹھا۔۔۔صباء نے جلدی سے اسے اٹھاکر سائیلنٹ کیا اور دیکھا تومیجر
کی کال تھی۔۔۔فوراً ہی کال اٹینڈ کر لی ڈر کر بیڈروم کی طرف دیکھتےہوئے ۔۔۔صباء
بہت ہی دھیمی آوازمیں بولی۔۔۔
صباء :ج ج ج ج ج جی۔۔۔کیا بات ہے اِس وقت کیوں فون کر دیا آپ نے۔۔۔؟
میجر :بہن چود اتنا دھیمے بول رہی ہے کیا کسی یار کا لن منہ میں لے
کر بیٹھی ہوئی ہے۔۔۔
صباء۔۔۔کمینہ ہمیشہ ہی الٹی ہی بات کرے گا اور سوچے گا۔۔۔پِھر
بولی۔۔۔
نہیں نہیں۔۔۔وہ دراصل۔۔۔اشرف آیا ہوا ہے نہ گھر۔۔۔اِس لیے۔۔۔
صباء چلتی ہوئی اپنےبیڈروم کے قریب آگئی ہوئی تھی اور ایسی جگہ
کھڑی تھی کہ جہاں سے اسے باتھ روم کادروازہ نظر آ سکے۔۔۔
میجر :ارے میری جان اس سے نہ ڈرا کر۔۔۔تو چاہتی ہے تو بول اسےویسے
ہی راستے سے ہٹا دیتاہوں اور تو ہمیشہ کے لیے میری رکھیل بن جانا۔۔۔
صباء گھبرا گئی۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔پلیز ایسی باتیں نہ کریں۔۔۔وہ میرا
شوہر ہے۔۔۔
میجر :اچھا چل ایسا کر میں فون رکھتا ہوں تو رات کو میری کال کا
انتظار کرنااور تجھے پتہ ہی ہے کہ کال تجھے اٹینڈ کرنی ہی کرنی ہے۔۔۔
اِس سے پہلے کے صباء کوئی جواب دیتی۔۔۔میجر نے کال کٹ کر دی تھی۔۔۔اسی
وقت اشرف باتْھ سےنکلا اور صباء بھاگ کر کچن میں چلی گئی۔۔۔رات کا کھانا کھایا اور
دونوں لیٹ گے۔۔۔ تھکے ہوئے جِسَم کے ساتھ صباء کو نیند تو بہت آ رہی تھی لیکن وہ
سو نہیں سکتی تھی کیونکہ میجر کی کال آنی ہی آنی تھی۔۔۔لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ کس
وقت۔۔۔اشرف اپنی شرٹ اتارے بیڈپر اُس کے ساتھ لیٹا ہوا تھا۔۔۔صباء اس کی طرف کروٹ
لےکر لیٹی ہوئی آہستہ آہستہ اُس کے سینے پر ہاتھ پھیررہی تھی۔۔۔بالکل بغیر بالوں
کے صاف گورا ملائم سینہ۔۔۔صباء کو فوراً ہی خیال آیا کہ میجر کا تو کالا اور
سولڈسخت سینہ تھا۔۔۔بالوں سے بھرا ہوا۔۔۔اشرف کا سینہ نہ ہی بہت چوڑا تھا۔۔۔نہ ہی
بہت کمزور تھا اور نہ ہی کوئی طاقتور جِسَم تھا۔۔۔صباء کو کچھ بھی مزہ نہیں آرہا
تھا اُس کہ سینے پرہاتھ پھیرنے میں۔۔۔پتہ نہیں کیسے صباء کے منہ سے نکلا۔۔۔
صباء :اشرف آپ بھی باڈی بِلڈنگ کیوں نہیں کرتے۔۔۔آپ کا جِسَم بھی طاقتور
ہوجائے گا۔۔ بات تو جو بھی صباء نے کی تھی وہ اشرف کے لیے عجیب ہی تھی لیکن اس
فقرے میں" بھی " کے لفظ نے جیسے اسے اوربھی شرمندہ کر دیا۔۔۔اشرف کو
ایسا لگا کہ جیسےصباء اُس کے جِسَم کو میجرکے جِسَم سے کمپیئر کر رہی ہے۔۔۔یہ سوچ
کر ہی اشرف کوشرمندگی ہونے لگی۔۔۔لیکن اس نے فوراً ہی یہ خیال اپنے ذہن سے نکال
دیاکہ صباء کیوں میرا مقابلہ اس گھٹیا انسان کے ساتھ کرے گی آخر۔۔۔یہ تو شاید ویسے
ہی میری صحت کے لیے بول رہی ہوگی۔۔۔پتہ نہیں کیسے خود سے ہی صباء کا ہاتھ اشرف کے
سینےسے پھسلتا ہوا اُس کے پیٹ پر آیا اور پِھر اس نے دھیرےسے اشرف کا لن اپنے ہاتھ
میں لے لیا اُس کے شارٹ کےاوپر سے ہی۔۔۔اشرف کا لن آہستہ آہستہ اُسکے ہاتھ میں
پھولنے لگا۔۔۔بڑا ہونے لگااور چند ہی لمحوں میں اپنےپورے جوبن پر آ گیا صباءکے
سہلانے کی وجہ سے۔۔۔لیکن اب صباء اُس کے لن کو سہلاتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ یہ تو
میجر کے لن سے بہت ہی چھوٹا ہے۔۔۔اف ف ف ف۔۔۔کیا لن ہے۔۔۔ لن ہے کے پُورا کوئی
ڈنڈا ہے۔۔۔جو ڈال کر چودتا ہے میجر۔۔۔اپنے شوہر کا لن پکڑےپکڑے میجر کے لن کو یاد
کرکے صباء کی پھدی گیلی ہونے لگی۔۔۔دِل تو پِھر سے چاہنے لگا کہ لن اس کی چوت میں
چلاجائے۔۔۔لیکن جو لن اُس کے ہاتھ میں ہے وہ نہیں۔۔۔بلکہ وہ لن جو کچھ دیر پہلے اس
کی چوت کی دھونائی کر چکا تھا وہ۔۔۔صباء نے خود سے ہی اپناہاتھ اشرف کے لن پر سے
ہٹالیا۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اشرف اس کو چودنے کے لیےتیار ہو جائےاور پِھر اسی
دوران ہی میجرکا فون آئے۔۔۔صباء نے کروٹ بَدَل لی اورتھوڑا سا چُھپا کر اپنا
موبائل فون چیک کرنے لگی کہ اس پر کوئی مسڈ کال یا ایس ایم ایس تو نہیں آیا ہوا
نہ۔۔۔دوسری طرف اشرف کروٹ بدلے سوچ رہا تھا کہ یہ صباءکو کیا ہو گیا ہے۔۔۔ایسے تو
اِس نے کبھی بھی پہلے خود سے میرے لن کونہیں سہلایا۔۔۔پِھر خود ہی ہنس پڑا ہاں آج
کل بہت ڈر رہی ہے نہ یہ اس میجر سے تو شاید اسی لیےمیرے پاس مزید ہونا چاہتی ہے
اپنی حفاظت اور تحفظ کی خاطر۔۔۔لیکن اس کو پتہ نہیں تھا کہ کروٹ بدلی لیٹی ہوئی
اسکی پیاری سی بِیوِی صباء آج سارا دن اُس کے اسی دشمن میجر سے چُدواتی رہی ہےاور
ابھی بھی اپنا موبائل فون پکڑے اسی میجر کی کال کا انتظار کر رہی ہے۔۔۔کچھ ہی دیر
میں اشرف کونیند آگئی اور وہ سو گیا۔۔۔دو بجے کے قریب۔۔۔ابھی بھی صباء جاگ رہی
تھی۔۔۔اسے میجر کا میسیج ملا اپنےموبائل میں۔۔۔اپنی بالکونی میں آؤ فوراً میں
انتظار کر رہا ہوں۔۔۔میسیج پڑھتے ہی صباء ایک لمحے کے لیے تو گھبرا ہی گئی اور
فوراً سے مڑ کراشرف کی طرف دیکھا۔۔۔کیونکہ اسے اِس بات کی امید نہیں تھی کہ میجر
اُس کی بالکونی میں آجائے گا اوراسے وہاں بلائے گا۔۔۔وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ
کچھ اور بات کرے گا یاکل کو دوبارہ اپنےپاس بلائے گا تو وہ اسےسمجھا دے گی کے میں
نہیں آ سکتی۔۔۔لیکن یہ کیا۔۔۔یہ تو ابھی اُس کے پاس آیاہے۔۔۔لیکن صباء بےچاری کے
پاس اعتراض کرنے کا کونسا حق تھا۔۔۔ خاموشی سے اٹھی۔۔۔دوسری طرف جا کر اشرف کی طرف
دیکھا اور پِھر دبےقدموں اپنے بیڈروم سے باہرنکل گئی۔۔۔اس کا دِل تیزی سے دھڑک رہاتھا۔۔۔ایک
طرف تو دوبارہ سے میجر کے مضبوط جِسَم کی طلب ہو رہی تھی۔۔۔اُس کے سخت اور
سولڈہاتھوں کا لمس محسوس کرنا چاہ رہی تھی اوردوسری طرف اسےاپنے شوہر کا بھی خیال
آرہاتھا کہ کہیں وہ جاگ نہ جائےاور وہ خود پکڑی ہی نہ جائے۔۔۔پِھر بھی میجر کی بات
کو مانتی ہوئی صباء نےسیٹنگ روم کی ایک ہلکی سی لائٹ جلائی اور بالکونی میں داخل
ہو گئی۔۔۔گھپ اندھیرا تھا۔۔۔کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔لائٹ وہ جلا نہیں سکتی
تھی۔۔۔بس دور ادھر اُدھر ہلکی ہلکی لائٹس جل رہی تھیں۔۔۔ پیچھے کا کھلا میدان
بالکل اندھیر نظر آرہا تھا۔۔۔تھوڑا خوف سے ڈرتے ہوئے جیسے ہی صباء نے اپنی بالکونی
میں ایک دو قدم آگے بڑھائے تو اچانک سے ہی اسے کسی نے دبوچ لیا۔۔۔صباء کے منہ سے
تو چیخ ہی نکل گئی۔۔۔لیکن ابھی تھوڑی ہی آوازنکلی تھی کہ ایک مضبوط ہاتھ نے اس کا
منہ دبا لیا اورساتھ ہی اُس کے جِسَم کواپنے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔اس مضبوط آغوش میں
آتےہی صباء سمجھ گئی کہ یہ میجر کا طاقتور جِسَم میجرکے سوا کسی اور کا نہیں
ہوسکتااور اِس خیال کے آتے ہی صباء نے اپنا جِسَم ان بانہوں میں ڈھیلا کر دیا اور
خود کواُس کے سپرد کر دیا۔۔۔میجر نے آہستہ سے اسےچھوڑ دیا تو صباء میجر کی طرف مڑی
اور بولی۔۔۔
آپ آپ یہاں کیوں آئے ہو اِسوقت۔۔۔وہ میرا شوہر گھر پر ہی ہے۔۔۔
میجر اپنے لن کو پکڑکر سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔
بس تیری پھدی کی یاد آ رہی تھی تو آ گیا بس۔۔۔مجھے اِس سے کیا کہ
تیرا شوہر گھر پر ہے کہ نہیں مجھے تو بس تیری پھدی چاہیے نہ۔۔۔
اِس سے پہلے کہ صباء کوئی جواب دیتی۔۔۔میجر نے اُس کے جِسَم کواپنی
آغوش میں لیا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور صباء کا منہ بند
ہوگیا۔۔۔میجر نے صباء کے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔پِھر اُس کے ہونٹوں کو
اپنےہونٹوں کے درمیان لیا اور ان کو چوسنے لگا۔۔۔اپنی زبان سے صباء کےہونٹوں کو
چاٹنے لگا۔۔۔اپنا گندا تھوک صباء کے منہ میں ڈالنے لگا۔۔۔صباء نے بھی اپنی بانہوں
کومیجر کی گردن کے گرد ڈالااور اُس کے کس کا جواب دینے لگی۔۔۔میجر نے اپنی زبان
اُس کےمنہ میں ڈالی تو صباء نے بےاختیار ہو کر اسے چوسناشروع کر دیا۔۔۔س س س س
س۔۔۔مم م م م م۔۔۔اہ ہ ہ ہ۔۔۔صباء کے منہ سے سسکاریاں نکالنے لگیں۔۔۔میجر کے ہاتھ
صباء کی کمرکو سہلا رہے تھے۔۔۔آہستہ آہستہ اس نے اپنا ہاتھ صباء کے پجامے میں ڈال
دیا اور اس کی ننگی گانڈکو سہلانے لگا۔۔۔میجر کے ہاتھوں کا لمس ملتے ہی صباء کا
جِسَم گرم ہونے لگا۔۔۔صباء تڑپنے لگی۔۔۔اپنے جِسَم کو میجر کی طرف پُش کرنے
لگی۔۔۔اپنے مموں کو میجر کےسینے پر دبانے لگی۔۔۔اپنی چوت کو میجرکے شارٹ کے اوپر
سےمحسوس ہوتے ہوئے اُس کےلن پر رگڑنے لگی۔۔۔پیچھے میجر نے آہستہ آہستہ صباء کے
نائٹ سوٹ کاپاجامہ نیچے کو سرکاناشروع کر دیا۔۔۔صباء کو مستی میں کچھ احساس نہیں
ہوا۔۔۔اس کی سانسیں تیز چلنےلگی تھیں۔۔۔بس آنکھیں بند کیے ہوئے میجر کے ہونٹوں کو
چوس رہی تھی۔۔۔اس سے لپٹی جا رہی تھی۔۔۔اس کا پاجامہ اُس کے پیروں میں گر چکا
تھا۔۔۔میجر نے اپنا ایک ہاتھ اس کی ننگی گانڈ سے ہٹایا اوراوپر لا کر اس کا ایک
ہاتھ پکڑا اور اسے نیچے اپنے لن پر لے آیا۔۔۔صباء نےتھوڑا ججھکتے ہوئے میجرکا لن
پکڑ لیا۔۔۔میجر کا لن اپنے ہاتھ میں لیتے ساتھ ہی اسےاشرف اور میجر کے لن کافرق
نظر آیا۔۔۔وہ آہستہ آہستہ میجر کے لن کو سہلانے لگی۔۔۔میجر اپنے ہونٹ آہستہ سے اُس
کے کان کے پاس لاکر ہولے سے بولا۔۔۔
باہر نکال لے اسے میری رنڈی اور دوبارہ سے صباء کےہونٹوں پر اپنے
ہونٹ رکھ دیے۔۔۔ صباء نے آہستہ آہستہ اپناہاتھ میجر کے شارٹ کے اندرڈالا اور اُس
کے لن کو۔۔۔ننگے لن کو پکڑ لیا۔۔۔اف ف ف ف ف۔۔۔کتنا گرم۔۔۔کتنا موٹا۔۔۔کتنا سخت
اور۔۔۔کتنا اکڑا ہوا تھا۔۔۔ جیسے کوئی لوہے کا گرم ڈنڈاہواور یہی ڈنڈا تو وہ اپنی
چوت میں چاہتی تھی۔۔۔صباء نے میجر کا شارٹ آہستہ آہستہ نیچےکو سرکا دیا اور وہ بھی
میجر کے پیروں میں آ گیا۔۔۔اب دونوں کا نچلا جِسَم ننگاتھا۔۔۔صباء اپنے ہاتھ میں
پکڑے ہوئے میجر کے لن کو آہستہ آہستہ اپنی پھدی پر رگڑنے لگی۔۔۔ننگی پھدی کا ننگے
لن سے ٹکراؤ شروع ہو چکا تھا۔۔۔صباء کے نائٹ سوٹ کی قمیض اتنی لمبی نہیں تھی کہ وہ
اس کی ویسٹ لائن سے نیچے جاتی۔۔۔صباء خود سے ہی۔۔۔سب کچھ اور اپنے شوہر کو بھی
بھول کر صرف میجر کے لن کواپنی چوت پر رگڑتے ہوئے مزالے رہی تھی۔۔۔اس کی چوت نے
پانی چھوڑنا شروع کر دیا ہوا تھا۔۔۔اس کی چوت سے پانی نکل نکل کراُس کے لن پر لگ
رہا تھا۔۔۔اُس کے لن کو گیلا کر رہا تھا۔۔۔اس کی چوت میجر کے لن کو چکنا کر رہی
تھی۔۔۔اپنے پانی سے۔۔۔اپنے اندر آنے کے لیے۔۔۔خود کو چودنے کے لیے۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی
ہوا اُس کےننگے جِسَم کو چھو رہی تھی اور ایک الگ ہی مزہ دے رہی تھی۔۔۔یہ ٹھنڈی
ہوا اس کی پیاس کو ٹھنڈا کرنے کی بجائےاوربھی بڑھا رہی تھی۔۔۔میجر نے جب دیکھا کہ
صباءپوری طرح سے گرم ہو چکی ہے تو اس نے اپنا منہ صباءکے ہونٹوں سے ہٹایا اور
بولا۔۔۔ چل جا کہیں تیرا شوہر ہی نہ آجائے۔۔۔صباء نے فوراً ہی اپنا سرانکار میں
ہلایا اور سسکی۔۔۔
نہیں ایسے نہیں پلیز ز ز ز ز۔۔۔
میجر ہنسا۔۔۔کیوں کیا چاہیے ہے تجھےسالی۔۔۔؟
صباء نے اپنی مٹھی میں اُسکے لن کو زور سے بھینچ لیا۔۔۔
میجر ہنسا۔۔۔ابھی تھوڑی دیر پہلے توتجھے چودا تھا اب پِھر تیری
پھدی کو میرا لن چاہیے ہے کیا؟ صباء تڑپی۔۔۔ہاں ں ں ں ں۔۔۔ابھی ی ی ی ی۔۔۔
میجر ہنس پڑا۔۔۔اس نے صباء کو پیچھے کوہٹایا اور اُس کے دونوں ہاتھ
بالکونی کی ریلنگ پر رکھ کر اسے گھوڑی بنا دیا اورخود اُس کے پیچھے آکر اپنالن
پیچھے سے اس کی چوت پر رکھا اور آہستہ آہستہ رگڑنے لگا۔۔۔میجر کا لن صباء کی چوت
کے پانی سے گیلا ہو گیا ہواتھا۔۔۔میجر نے اپنے لن کی موٹی ٹوپی کو اس کی چوت پررکھ
کر آہستہ سے آگے کودھکا لگایا تو صباء نے بھی پیچھے کو زور لگا دیااور اگلے ہی لمحے
میجر کالن صباء کی چوت کے اندرتھا۔۔۔صباء کے منہ سے لذت آمیزاور سکون سے بھری ہوئی
سسکیاں نکل گئی۔۔۔میجر نے صباء کی پتلی کمرکو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور
آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے اندر اپنا لن اندرباہر کرنے لگا۔۔۔میجر کا لن اب بہت ہی
آسانی سے اور آرام سے بناکسی تکلیف کے صباء کی چوت میں اندر باہر ہو جاتاتھااور اب
بھی میجر نے دھیرےدھیرے اپنا لن صباء کی چوت کے اندر باہر کرنا شروع کر دیااور
صباء کو چودنے لگا۔۔۔میجر کے لن کےچند گھسوں سے ہی صباءکی پیاسی چوت نے اپنا پانی
چھوڑ دیا۔۔۔صباء اپنے آرگزم کو پہنچ گئی۔۔۔کب سے تو اس کی پیاس دوبارہ سے جاگ اٹھی
ہوئی تھی۔۔۔لیکن میجر کا لن ابھی کہاں پانی چھوڑنے والا تھا۔۔۔میجر نے صباء کی
قمیض کےبٹن کھولے اور اُس کے مموں کو بھی ننگا کر دیا۔۔۔اب صباء کی کمر کو چھوڑکے
اپنے دونوں ہاتھوں میں اُس کے ننگے مموں کو پکڑااور دھانہ دھن اسے چودنے
لگا۔۔۔صباء اپنے سامنے دور جلتی ہوئی روشنیوں کو دیکھ رہی تھی ٹھنڈی ہوا اُس
کےجذبات کو اور بھی بھڑکارہی تھی۔۔۔اِس طرح اوپن ایئر میں صباء کے لیے ننگا ہونا
اور پِھرننگا ہو کر چدوانے کا پہلاموقع تھا۔۔۔لیکن صباء کو برا نہیں لگ رہا
تھا۔۔میجر بولا۔۔۔
میرا دِل کرتا ہے کہ دن کےوقت تجھے اسی جگہ ننگا کرکے چودوں۔۔۔
صباء تھوڑا گھبرا کر۔۔۔نہیں نہیں کوئی دیکھ لے گا۔۔۔
میجر :دیکھتا ہے تو دیکھے۔۔۔ویسے بھی میرا دِل کرتا ہےکہ تجھے کسی
کے سامنے چودوں۔۔۔ بول چودوائے گی نہ۔۔۔؟؟؟؟
یہ بات کہہ کر میجر نے ایک زور کا دھکا لگایا صباء کی پھدی میں
اپنے لن کا۔۔۔میجر کی بات صباء کوعجیب سی لگنے لگی۔۔۔کیسا عجیب آدمی ہے۔۔۔مجھے
دوسروں کے سامنے چودنا چاہتا ہے۔۔۔ صباء کے منہ سے نکل گیا۔۔۔
صباء :اور اگر ان دیکھنے والوں کی بھی نیت خراب ہو گئی تو۔۔۔
میجر :تو پِھر کیا ہے بہن چود وہ بھی چود لیں گے تجھے۔۔۔تیری چوت
میں لن جائے گاتو کیا گھس جائے گی۔۔۔سالی جتنے لن تو زیادہ اپنی چوت میں لی گی نہ
اتنی ہی تیری یہ جوانی مست ہوتی جائے گی۔۔۔
صباء کو میجر کی بات سےحیرت ہوئی۔۔۔کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہایک
بندہ اپنی عورت
کودوسروں سے چودوائے ۔۔۔یہ کمینہ تو کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔آخر
میں ہوں ہی کیا اس کی۔۔۔صرف ایک رکھیل نہ۔۔۔لیکن کیا سچ مچ میں ایساکرے گا۔۔۔اف ف
ف ف۔۔۔صباء کی عجیب سی فیلنگ تھی اندر سے۔۔۔عجیب سا محسوس ہو رہاتھا۔۔۔اسے برا
نہیں لگ رہا تھا شاید۔۔۔اب تک کی انتہائی پاکیزہ اورشریفانہ زندگی گزارنے کےبعد
اِس طرح اپنے شوہر سے بےوفائی بھی عجیب بات تھی لیکن پِھر بھی اسے یہ اچھا لگنے
لگا تھا۔۔۔اور شاید اسی وجہ سے میجر کی اتنی گندی بات نےبھی اُس کے اندر عجیب سی
حالت کر دی تھی۔۔۔ایک بار پِھر سے اس کی چوت گیلی ہو گئی تھی۔۔۔اس نے خود بھی آگے
پیچھےکو اپنی گانڈ کو ہلاتے ہوئے میجر کا لن اپنی چوت کےاندر لینا شروع کر دیا
تھا۔۔۔صباء کی دھڑکن تیز ہونےلگی تھی۔۔۔اس کی سانس پھولنے لگی تھی۔۔۔آنکھیں بند ہو
رہی تھیں۔۔۔اور ایک اور جِسَم اسے خودسے لپٹا ہوا نظر آنے لگا تھا۔۔۔یہ جِسَم میجر
کا نہیں تھا۔۔۔کچھ پتہ نہیں کس کا تھا۔۔۔اس کا چہرہ نظر نہیں آرہاتھا اسے۔۔۔بس
پیچھے سے اسے چود رہاتھا۔۔۔اور میجر اسے سامنے بیٹھاہوا نظر آرہا تھا۔۔۔اچانک سے
میجر نے ایک زورکا دھکا مارا اور اپنا پُورا لن صباء کی چوت میں ٹھوک دیا۔۔۔اور
ساتھ ہی اُس کے لن سےمنی نکلنے لگی۔۔۔ایک فوارہ سا چھوٹ گیاصباء کی چوت کے اندراور
اُس کے ساتھ ہی صباءکی چوت نے بھی ایک بارپِھر سے پانی چھوڑ دیا۔۔۔صباء کا جِسَم
نڈھال ہو گیا۔۔۔وہ میجر کی بانہوں میں گرکر لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔خود کو
نارمل کرنے کے لیے۔۔۔آنکھیں بند کیے ہوئے میجرکے جِسَم سے چپکی ہوئی تھی اور میجر
اس کی ننگی گانڈپر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد صباء بولی۔۔۔وہ ایک بات آپ کو کہنی تھی۔۔۔
میجر :ہاں بول کیا بات ہے۔۔۔
صباء :وہ آج سے میرے شوہر کی رات کی شفٹ ہو گئی ہے توکل آپ پلیز
ادھر نہ آنا اور نہ ہی میں آ سکوں گی آپ کی طرف کیونکہ اشرف گھر پرہو گا سارا دن۔۔۔
میجر نے چند لمحے سوچا۔۔۔ ارے یہ تو اور بھی اچھی بات ہے۔۔۔اب تو
پوری رات میرے پاس ہوا کرے گی۔۔۔میری رنڈی بن کر میرے سےپوری رات چُدوایا کرنا۔۔۔
صباء اس کی بات سن کرچُپ کر گئی۔۔۔وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ ایسا
ممکن ہی نہیں ہے۔۔۔
کچھ دیر بعد میجر بولا۔۔۔چل جا اب اپنےاس ہیجڑے کے ساتھ سوجا جا
کر۔۔۔
صباء مسکرائی اور اندر چلی گئی اور میجر بھی اپنے فلیٹ میں واپس
آگیا۔۔۔صباء نے بنا اپنی پھدی کودھوئے ہوئے ہی اپنا پاجامہ پہن لیا تھا اور جا کر
لیٹ گئی تھی۔۔۔اس کی چوت کے اندر سےمنی آہستہ آہستہ نکل کر بہہ رہی تھی اور اُس کے
پاجامے کو گیلا کر رہی تھی۔۔۔اشرف بھی اب صباء کی طرف ہی کروٹ لیے ہوئے سورہا
تھا۔۔۔صباء نے شکر کیا کہ اس کی آنکھ نہیں کھلی تھی۔۔۔صباء اُس کے اپنے سوئے
ہوئےشوہر کے چہرے کو دیکھنےلگی۔۔۔بہت معصوم سی شکل تھی اشرف کی۔۔۔آخر ایک بالکل
شریف اورڈرپوک قسم کا آدمی جو تھا۔۔۔بالکل گورا چٹا ،سفید۔۔۔بالکل کلین شیوڈ چہرہ
تھا۔۔۔اشرف کا چہرہ گورا اور چکناتھا۔۔۔کبھی کبھی تو صباء کو اس کی جلد بھی لڑکیوں
کی طرح ہی لگتی تھی۔۔۔جو بھی دیکھتا تھا دونوں کو تو کہتا تھا کہ سچ میں پرفیکٹ
جوڑی ہے دونوں ہی بہت خوبصورت اور گورے چٹے تھے۔۔۔اشرف کا جِسَم بھی بہت نازک سا
تھا۔۔۔یہی تو وجہ تھی کہ وہ بےچارہ اس کمینے میجر کامقابلہ نہیں کر پاتا
تھا۔۔۔پِھر صباء کو خیال آنے لگا کہ کیسے وہ اپنے اتنےخوبصورت شوہر کو چھوڑکر اتنے
کالے اور بدصورت میجر کی بانہوں میں جھولنے لگی ہےاور کیسے اُس کے ساتھ بےوفائی کرتے
ہوئے میجر سےچُدوا کر آئی ہے ابھی بھی۔۔۔لیکن آج اس کا دِل اسے بہت زیادہ ملامت
نہیں کر رہا تھابس آہستہ سے اس نے جھک کر اشرف کے گال پر ایک کس کی اور پِھر اس سے
لپٹ کرسو گئی۔۔۔اگلا دن پُورا سکون سے ہی گزرا۔۔۔سکون سے صرف اِس لحاظ سے کے میجر
نے کوئی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی صباء سے۔۔۔ورنہ ایسا نہیں تھا کہ صباءخوش تھی
میجر کی کال نہ آنے سے۔۔۔اس کا تو بس چلتا تو فوراًہی میجر کے پاس پہنچ جاتی ایک
بار پِھر سے۔۔۔لیکن شام کو قریب آٹھ بجےجب اشرف اپنی پہلی نائٹ ڈیوٹی کے لیے گھر
سے نکلاتو صباء نے تھوڑا ناٹک کیاخوف اور ڈر کا اکیلے رہنےسے۔۔۔لیکن یہ اسے یقین
تھا کہ اب میجر اسے رات کو اکیلےنہیں سونے دے گااور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سونے ہی
نہ دے۔۔۔یہ سوچ کر صباء مسکرا دی۔۔۔اشرف کو گئے ہوئے آدھاگھنٹہ ہوا اور صباء اپنے
کچن میں مصروف تھی۔۔۔ کچن سمیٹنے میں کہ اچانک ہی اسے بالکونی کے راستےسے میجر
اپنے فلیٹ میں داخل ہوتا ہوا نظر آیا۔۔۔اسے دیکھ کر صباء کےچہرے پر مسکراہٹ پھیل
گئی۔۔۔صباء کچن سے باہر آئی۔۔۔تو میجر اسے دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔۔صباء تھوڑا
گھبرانے کا ناٹک کرتے ہوئے۔۔۔آپ یہاں کیوں آئے ہو اِس وقت۔۔۔ میجر اُس کے قریب آیا
اوراُس کے سر کے پیچھے کے بال پکڑ کر اُس کے چہرے کوپیچھے کو جھٹکا دے کر بولا۔۔۔
میجر :سالی تجھے نہیں پتہ کہ کوئی رنڈی کے پاس کیا کرنےآتا ہے بول
نہ زرا ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
میجر کی بات سن کر صباءکا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔لیکن چہرے سے
مسکراہٹ نہیں گئی۔۔۔اس نے اب خود کو رنڈی کہےجانے کا برا ماننا چھوڑ دیاتھا۔۔۔اسے
پتہ تھا کہ وہ میجر کو روک نہیں سکتی۔۔۔اب تو اسے ایک عجیب سااحساس ہوتا اور کبھی
سوچتی کہ کیا سچ میں ہی وہ ایک رنڈی تو نہیں بن گئی ہوئی۔۔۔ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
صباء میجر کی آنكھوں میں جھانکتے ہوئے شرارت سے بولی۔۔۔لیکن مجھے
تو یہی پتہ ہےکہ جب رنڈی کے پاس جاؤ تواسے پیمنٹ بھی کرتے ہیں۔۔۔
میجر صباء کی اِس بات پرخوش ہوا اور اس نے صباءکے گال کو چُوما اور
اسی چومنے میں اُس کے گال پرکافی سارا تھوک چھوڑ گیااور بولا۔۔۔
بول کیا لے گی اپنی پوری رات کی قیمت۔۔۔؟
صباء اور بھی شرما گئی۔۔۔ہنس کر آنکھیں بند کر کےبولی۔۔۔
جو دِل کرے دے دینا آپ۔۔۔
میجر نے اپنی پاکٹ سےایک لولی پوپ نکالا اور بولا۔۔۔
یہ لے پِھر تیری چوت کی قیمت۔۔۔
صباء اسے دیکھ کر مسکرا دی اور بولی۔۔۔بس ایک لولی پاپ کیا ایسا ہی
ہلکا سمجھتے ہومجھے آپ ؟ ؟ ؟
میجر :نہیں نہیں ایک لولی پاپ اوربھی ہے میرے پاس وہ بھی دوں گا تم
کو۔۔۔
صباء میجر کی یہ بات سن کر شرما گئی۔۔۔وہ اُس کے لولی پاپ کامطلب
سمجھ گئی تھی۔۔۔میجر اس کو لے کر صباء کےبیڈروم میں آیا۔۔۔
صباء :آپ كھانا کھاؤ گے یا کھا لیاہے ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
میجر :نہیں ابھی نہیں کھایا لے آؤجو کچھ بنا ہوا ہے۔۔۔
صباء مسکرا کر اٹھی اوربولی۔۔۔بس اب آئِنْدَہ سے رات کاکھانا آپ
میرے پاس ہی کھایا کرو گے میجر :واہ جی واہ اس کا مطلب ہےکے تیرا اب ہر رات کو مجھ
سے چودوانے کا موڈ بن گیاہے۔۔۔ صباء شرما کر بیڈروم سےباہر بھاگ گئی۔۔۔دھات۔۔۔کچن
میں صباء میجر کے لیےكھانا گرم کر رہی تھی کےاچانک ہی بیل ہوگئی۔۔۔صباء گھبرا گئی
کہ یہ کون آگیا اِس وقت۔۔۔کہیں اشرف تو واپس نہیں آگیا۔۔۔اف ف ف ف اب کیا
کروں۔۔۔وہ میجر صاحب تو میرے بیڈروم میں ہیں۔۔۔لیکن اشرف کیسے واپس آسکتا
ہے۔۔۔ابھی تو وہ پہنچا ہی ہو گافیکٹری۔۔۔ یہی باتیں سوچتے ہوئے صباءدروازے پر گئی
اور تھوڑا سادروازہ کھولاتو سامنے مولوی منصور صاحب اور ان کی وائف کھڑے تھے۔۔۔اِس
سے پہلے کے صباء ان سےکوئی بات کرتی یا روک کروہیں سے بھیجنے کی کوشش کرتی۔۔۔دونوں
اندر آ گئے۔۔۔صباء بہت گھبرا گئی تھی۔۔۔ دونوں اندر آکر سیٹنگ روم میں بیٹھ گئے
اور منصورصاحب کی وائف بولی۔۔۔
اشرف نے بتایا تھا کے اس کی نائٹ ڈیوٹی شروع ہوگئی ہے تو بولا کہ
ذرا تمہارادھیان رکھیں کیونکہ تم ڈررہی ہو اسی لیے سوچا کہ تم کو دیکھ آئیں۔۔۔
صباء بولی۔۔۔نہیں نہیں آنٹی میں ٹھیک ہوں۔۔۔میں ابھی آئی یہ کہہ کر
صباء اپنے بیڈروم میں چلی گئی۔۔۔اندر میجر اُس کے بیڈ پرٹانگیں پھیلا کر لیٹا ہوا
تھا۔۔۔صباء گھبرائی ہوئی اندر گئی تو بولا۔۔۔
کیا بات ہےکیوں گھبرائی ہوئی ہو۔۔۔کون آیا ہے۔۔۔
صباء بہت ہی دھیمی آوازمیں بولی :وہ منصور صاحب اور ان کی بِیوِی
آئی ہیںمجھے دیکھنے کو۔۔۔
میجر :اِس مولوی کی تو ماں کی چوت۔۔۔یہ دونوں بہن چود کہاں سےآگئے
اِس وقت۔۔۔جا ان کو باہر سے ہی دفعہ کرجلدی اور پِھر آجا میرےپاس میرا لن بے چین
ہو رہاہے تیری چوت میں جانے کےلیے۔۔۔
صباء نے میجر کے ہاتھ میں پکڑا ہوا اس کا لن دیکھاجوکہ اُس کے
پاجامے کےاُوپر سے ہی اکڑا ہوا نظر آرہاتھا۔۔۔اس لن کی جھلک دیکھ کرہی صباء کی چوت
میں ایک لذت کی لہر سی دوڑ گئی۔۔۔ صباء دھیرےسے مسکرائی اور وآپس مڑگئی۔۔۔صباء نے
دونوں کے لیے کولڈڈرنکس نکالی اور ان کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔مولوی منصور صاحب اپنے
روایتی سفید لباس میں تھے۔۔۔سر پر سفید ٹوپی۔۔۔کاندھے پر سفید لمبا رومال۔۔۔سفید
شلوار اور سفید قمیض۔۔۔داڑھی تازی تازی ہی مہندی کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔۔۔مولوی
صاحب کی بھاری بھرکم باڈی بہت ہی روب دارلگ رہی تھی۔۔۔حسب معمول ان کے لباس سے
گلاب کے عطر کی تیزخوشبو پھیل رہی تھی پورےکمرے میں۔۔۔ہمیشہ سے ہی مولوی صاحب کی
عادت تھی عطر لگانے کی۔۔۔ ان لوگوں کے پاس بیٹھےہوئے صباء کو عطر کی تیزخوشبو اپنی
ناک میں چڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔بہت اریٹیٹنگ لگ رہی تھی اس کی خوشبو صباء
کوکیونکہ وہ اس کی عادی نہیں تھی۔۔۔
صباء :آنٹی کیا بات ہے آپ بہت کمزور لگ رہی ہو۔۔۔طبیعت تو ٹھیک
رہتی ہے نہ آپ کی۔۔؟
مسز منصور :ہاں ہاں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔کچھ نہیں ہے۔۔۔
مولوی صاحب :کہاں ٹھیک رہتی ہے۔۔۔بس بیٹی شوگر کا مرض بڑھ گیا ہوا
ہے اس کا اور اُوپر سےبلڈ پریشر بھی ہے۔۔۔احتیات کرتی نہیں ہے اور نہ ہی میڈیسن
ٹائم پر لیتی ہے۔۔۔اتنی بار سمجھایا ہے اسے اورڈاکٹرز نے بھی کہا ہے لیکن یہ ہے کہ
مانے کسی کی توپِھر نہ۔۔۔
مولوی صاحب نے اپنی گھنی بڑی بڑی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
وہ سچ میں فکر مند لگ رہے تھےاپنی وائف کی بیماری کو لےکر۔۔۔
صباء :آنٹی آپ اپنا خیال رکھا کرونہ۔۔۔ایسے کیسے چلے گا کہ
بنامیڈیسن کے آپ اپنی طبیعت ٹھیک رکھ سکو۔۔۔
بس ایسے ہی ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے انہوں نےکولڈ ڈرنک ختم
کی اور پِھراٹھ کر اپنے گھر جانے لگے۔۔۔منصور صاحب کی وائف بولی۔۔۔
صباء بیٹی اگر تم کہو تومیں آج تمہارے پاس رک جاؤں یا پِھر فرح
کوبھیج دیتی ہوں۔۔۔
صباء گھبرا کر جلدی سے :نہیں نہیں آنٹی اس کی کوئی ضرورت نہیں
ہے۔۔۔میں رہ لوں گی اب تو یہ روزکا معمول ہے۔۔۔
مسز منصور :اشرف بول رہا تھا کہ تم ان میجر صاحب سے بہت خوفزدہ
ہو۔۔۔ڈرنے کی بات
نہیں بیٹی بس اپنا دروازہ بند کر لو اور سوجاؤ وہ تنگ کرنے کی ہمت
نہیں کرے گا۔۔۔
صباء دِل ہی دِل میں مسکرائی۔۔۔وہ کمینہ تو کب سے میرےبیڈروم میں
بیٹھا ہوا آپ لوگوں کے جانے کا انتظار کررہا ہے اب اس سے کیا ڈرنا ہےمجھے
بھلا۔۔۔پِھر دونوں اپنے فلیٹ پر چلے گئےاور صباء نے دروازہ لوک کیاکچن میں جا کر
كھانا ٹرےمیں رکھا اور میجر کے پاس اپنے بیڈروم میں آگئی۔۔۔
میجر :تھوڑا غصے سے۔۔۔ہوگئے دفعہ۔۔۔
صباء مسکرا کر۔۔۔پلیز غصہ نہ کرو آپ چلے گئےہیں اب کوئی نہیں آئے
گاپوری رات آپ کو تنگ کرنے۔۔۔
صباء کی بات سن کر میجربھی ہنس پڑا اور كھانا کھانےلگا۔۔۔صباء بس
اُس کے پاس بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
میجر :بہن چود ایسے کیوں یہاں بیٹھی ہے اتنی دیر میں اپنےکپڑے
اُتار کر ننگی ہی ہو جاسالی۔۔۔ صباء شرما کر لیکن ایک اداسے بولی۔۔۔کیوں میں کیوں
اتاروں۔۔۔
میجر :خود نہیں اتارتی تو جا اس مولوی کو بلا لے وہ اُتارکے ننگی
کر جائے گا تجھےمیرے لیے۔۔۔ صباء شرما گئی اور خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھی اورمیجر
کے سامنے کھڑی ہو کراپنی شرٹ کو نیچے سے پکڑااور اُوپر اٹھا کر اپنے سر سےباہر
نکال دیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2 تبصرے
جو لڑکیاں اور عورتیں سیکس کا فل مزہ رٸیل میں فون کال یا وڈیو کال اور میسج پر لینا چاہتی ہیں رابطہ کریں 03488084325
جواب دیںحذف کریںاگلی قسط؟؟
جواب دیںحذف کریںTHANKS DEAR